نماز جمعہ کیلئے مساجد میں خصوصی احتیاط، وبا کے خاتمے کیلئے دعائیں

Updated: March 21, 2020, 9:59 AM IST | Nadeem Asran / Saadat Khan / Iqbal Ansari | Mumbai

کئی مسجدوں  میں تھرمل جانچ کے بعدنمازیوں  کو داخل ہونے دیاگیا، اکثر مساجد سے قالین ہٹادی گئی اور فرش کو جراثیم سے پاک کیاگیا، عوام کو تمام احتیاطی تدابیر اپنانے کی تلقین۔

Volunteer outside the mosque testing. Photo: Inquilab
مسجد کے باہر رضاکار جانچ کرتے ہوئے۔ تصویر: انقلاب

کورونا وائرس نامی وبا سے پوری دنیا بری طرح متاثر ہوئی ہے ۔ ہندوستان کی مختلف ریاستوں اور شہروں میں بھی اس کے اثرات تیزی سے پھیل رہے ہیں ۔ ممبئی اور مہاراشٹر کے کئی شہر اس کی زد میں آچکے ہیں جس کی وجہ سے حکومت نے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو گھر سے کام کرنے کا فرمان جاری کیا ہے - ساتھ ہی اس وبا کے سبب احتیاطی نقطۂ نظر سے کئی عبادت گاہوں جن میں درگاہ، مسجد، چرچ اور مندر شامل ہیں بند کر دئیے گئے ہیں ۔ وہیں شہر کی اکثر و بیشتر مساجد کے ذمہ داران نے بھی مصلیان کی حفاظت کے پیش نظر کئی احتیاطی اقدامات کئے ہیں ساتھ ہی ٹمپریچر (جسم کی حرارت) کی جانچ کا آلہ استعمال کرتے ہوئے جمعہ کی نماز سے قبل تمام مصلیان کو اس آلہ سے جانچ کے بعد مسجد میں داخل ہونے کی اجازت دی ۔شہر کی مساجد جن میں مینارہ مسجد ( محمد علی روڈ)، عمر مسجد (ڈونگری)، کنارہ مسجد (حاجی علی) ، عرب مسجد (مدنپورہ) اور فائن ٹچ مسجد (ممبئی سینٹرل) شامل ہے۔ جمعہ کی نماز میں اماموں نے اپنے خطبہ میں انسانیت کی بقا اور حفاظت کے لئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعائیں کیں - وہیں مذکورہ بالا مساجد کے ٹرسٹیان نے مساجد اور مصلیان کی حفاظت کے پیش نظر اس میں بچھے قالینوں کو اٹھا کر رکھ دیا اور فرش کی ڈیٹول اور سرف پاؤڈر سے دن میں دو سے تین بار صفائی کے سلسلہ کا آغاز کیا ہے۔ اس کے علاوہ حاجی علی کی کنارہ مسجد کے امام و مفتی، محمود اختر، ڈونگری عمر مسجد کے امام مولانا راشد اور عرب مسجد کے ٹرسٹی رفیق انصاری نے بتایا کہ اس بیماری کے تعلق سے حکومت، بی ایم سی اور پولیس کی جانب سے جاری کردہ ہدایتوں کے پیش نظر تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف دن میں ۳؍ مرتبہ صفائی کی جارہی ہے بلکہ مصلیان سے بھی گھر سے وضو کرکے آنے اور فرض نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد گھر جاکر سنتیں ادا کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ کنارہ مسجد میں جمعہ کی نماز سے قبل مصلیان کو مسجد میں داخل ہونے سے قبل حرارت کی جانچ کے آلہ سے بھی گزارا گیا تھا اور ماسک بھی تقسیم کیا گیا ۔ سوناپور (سکھلاجی اسٹریٹ ) کی بلال مسجد میں ۴؍ مصلیان کو ۱۰۰؍ ڈگری سے زیادہ بخار ہونے کی وجہ سے مسجد کے بجائے گھر پر نماز ادا کرنے کیلئے کہا گیا۔
 بیلاسس روڈپر واقع مہندی مسجدمیں جمعہ کی نماز ادا کرنےوالے محمد محفوظ الرحمٰن انصاری نے بتایاکہ’’ جمعہ کی نماز کیلئے گھر سے وضوکرکے آنے اور سنت نمازیں گھر پر ادا کرنےکا اعلان متواتر کیا گیا۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس سےمتعلق ضروری احتیاطی تدابیر اپنانے ساتھ ہی حکومت اورپولیس کی اپیل پر عمل کرنےکا اعلان کیاگیا۔‘‘ ہندوستانی چشتی مسجد بائیکلہ کے مصلی الطاف پٹیل نے بتایاکہ مسجد میں جمعہ کی ۲؍ جماعتیں ہوتی ہیں جس میں تقریباً ۸؍تا۱۰؍ ہزار مصلیان نمازادا کرتےہیں ۔ حکومت اورپولیس کی ہدایت پر مسجدکے اندرونی اور بیرونی علاقےمیں صفائی کا معقول انتظام کیاگیاتھا۔ ‘‘سکھلاجی اسٹریٹ پرواقع بلال مسجد کے ٹرسٹی اسلم لاکھا نے بتایاکہ ’’اصل میں انتظامیہ اورپولیس مساجدبند کرنے کی اپیل کررہی تھی جو ہم نہیں کرسکتے ۔اس لئے ہم نے ضروری احتیاطی تدابیر پر زیادہ توجہ دی۔ ہماری مسجدمیں فلو ڈیٹیکٹر،سینی ٹائزر،ہینڈ واش، تولیہ کے بجائے ٹیشیو پیپر اور ماسک کا استعمال کیا گیا ۔ ۴؍ مصلیان کو ۱۰۰؍ ڈگری سے زیادہ بخار ہونے کی وجہ سے ان سے گھر پر نماز ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔
 سنت نماز گھر میں پڑھنے کی اپیل
  کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے مساجد میں زیادہ دیر تک عوام کی بھیڑ نہ ہو اس کیلئے ممبر ا کوسہ میں جمعرات سے ہی مساجد میں احتیاط برتنا شروع کر دیا تھا۔ اعلان کیا جارہا ہے کہ نمازی اپنے گھروں سے ہی وضو کر کے آئیں اور مسجد میں فرض نماز ادا کرنے کے بعد بقیہ نمازیں اپنے گھروں پر ہی ادا کریں ۔جمعہ کی نماز میں کورونا سے تحفظ کیلئے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK