• Mon, 05 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران: معاشی بحران کے خلاف احتجاج دیگر شہروں میں بھی پھیل گیا، متعدد جھڑپیں

Updated: January 04, 2026, 10:04 PM IST | Tehran

ایران میں معاشی بحران کے خلاف دکانداروں کا احتجاج اب ایک سیاسی رنگ اختیا ر کرتا جارہا ہے، یہ احتجاج دیگر کئی علاقوں تک پھیل گیا ہے، ساتھ ہی متعدد جگہوں سے حفاظتی عملے کے ساتھ جھڑپوں کی بھی خبریں آرہی ہیں۔

Iran`s Supreme Leader Ayatollah Khamenei. Photo:PTI
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای۔ تصویر: پی ٹی آئی

ایران میں معاشی بحران کے خلاف دکانداروں کا احتجاج اب ایک سیاسی رنگ اختیا ر کرتا جارہا ہے ، مقامی میڈیا کے مطابق، ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں، جبکہ ملک کے مغربی حصے میں جھڑپوں میں شدت کی اطلاعات بھی ہیں۔ ایک ہفتے بعد یہ مظاہرے حجم اور دائرے میں پھیل گئے ہیں اور مظاہرین سیاسی مطالبے بھی کر رہے ہیں۔الجزیرہ کے نامہ نگار توحید اسدی نے اتوار کو تہران سے رپورٹ دی کہ جاری احتجاج ابھی تک ملک گیر سطح تک نہیں پہنچے ہیں۔اسدی نے کہا، ’’ہم وقتاً فوقتاً اور بکھرے ہوئے احتجاج دیکھ رہے ہیں، جیسے کل رات تہران، کازرون اور دیگر شہروں میں ہوئے،‘‘ جبکہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے سیکیورٹی فورسیز سمیت ۱۴؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی احتجاجی مظاہروں میں مداخلت پر جامع ردعمل کی دھمکی

بعد ازاں اگر حکومت ٹھوس اور عملی اقدامات نہ کر سکی تو صورت حال مزید بگڑ سکتی ہے۔نیم سرکاری خبر ایجنسی فارس کے مطابق تہران میں سنیچرکی شام کے احتجاج محدود تھے، جن میں عام طور پر۵۰؍ سے ۲۰۰؍نوجوانوں کے گروپ شامل تھے۔جبکہ تہران کی آبادی تقریباً ایک کروڑ ہے۔فارس کے مطابق، دارالحکومت کے مشرقی حصے تہران پارس، مغرب میں ایکباتان، صادقیہ اور ستارخان، اور جنوب میں نازی آباد اور عبدل آباد میں احتجاجی مظاہروں کی اطلاعات ہیں۔ملک شاہی میں مظاہرین نے ’’موت باد آمر‘‘ جیسے نعرے لگائے، اور بتایا کہ پتھراؤ اور کوڑے دان جلانے کے علاوہ کوئی بڑا واقعہ درج نہیں  ہوا۔خبر ایجنسی نے کہا کہ’’ تہران کی صورتحال دیگر علاقوں، خاص طور پر ملک کے مغرب میں تشدد اور منظم حملوں میں شدت کے برعکس ہے۔‘‘ ایرانی میڈیا نے سنیچر کو خبر دی کہ مغربی ایران کے ملک شاہی کاؤنٹی (جہاں تقریباً۲۰؍ہزار) کی آبادی میں کافی تعداد میں کرد باشندے ہیں) میں  جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسیز کے ایک رکن کی موت ہو گئی۔فارس کے مطابق فسادیوں نے پولیس اسٹیشن پر چڑھائی کی کوشش کی جس کے نتیجے میںدو حملہ آور ہلاک ہو گئے۔

یہ بھی پڑھئے: یمنی علاحدگی پسندوں کا آزادی کا مطالبہ، سعودی عرب کا بات چیت پر زور

دریں اثناء سرکاری ذرائع نے مظاہروں کی کوریج کو کم کیا ہے، جبکہ مختلف شہروں میں احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر جاری ہیں، جن میں سنیچر کی رات اصفہان اور شیراز شامل ہیں۔ جبکہ سنیچر کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہروں پر اپنے پہلے بیان میں سخت پیغام دیا۔ ۸۶؍ سالہ خامنہ ای نے کہا، ’’ہم مظاہرین سے بات کررہے ہیں۔ حکام کو بھی ان سے بات کرنی چاہیے۔لیکن فسادیوں سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ فسادیوں کو ان کی جگہ پر رکھنا چاہیے۔‘‘ اسدی نے کہا کہ خامنہ ای نے  اپنے بیان میں ملک کے سامنے موجود معاشی مسائل کو تسلیم کیا ہے۔مزید یہ کہ ا ن کے نقطہ نظر سے ان مظاہروں کو جواز ملتا ہے۔تاہم اسدی نے زور دیا کہ سپریم لیڈر نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت احتجاج کو پرتشدد ہونے نہیں دے گی۔الجزیرہ کے نامہ نگار نے مزید کہا، ’’یہ واضح انتباہ ہے جو آیت اللہ نے دیا ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK