اقلیتی طلبہ کیلئے اسکالرشپ کی رقم ۵۰؍ ہزار تک بڑھانے کا فیصلہ

Updated: September 29, 2022, 1:03 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

۵۶؍مسلم اکثریتی شہروں میں مسلمانوں کی پسماندگی کا سروے کرانےکے ریاستی حکومت کے اعلان کے بعد کابینہ میں اسکالرشپ کی رقم میں اضافہ کی تجویز منظور

A fund of crores of rupees is allocated by the state government for the welfare of the minority community and to bring them into the mainstream, but due to various reasons, this fund is not used.
اقلیتی طبقے کی فلاح و بہبود اور انہیں مین اسٹریم میں لانے کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے کا فنڈ مختص تو کیا جاتا ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ فنڈ استعمال نہیں ہوتا ۔

اقلیتی طبقے کی فلاح و بہبود اور انہیں مین اسٹریم میں لانے کیلئے ریاستی حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے کا فنڈ مختص تو کیا جاتا ہے لیکن مختلف وجوہات کی بنا پر یہ فنڈ استعمال نہیں ہوتا ۔ اس طرف  حکومت کی توجہ مبذول کرائی گئی جس کے بعد اب اس معاملے میں پیش رفت ہوتی نظر  آنے لگی ہے۔ ۷؍ روز قبل مہاراشٹر حکومت کی جانب سے ۵۶؍ مسلم اکثریتی شہروں میں مسلمانوں کی پسماندگی کا سروے  ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس کےذریعے کرانے کا اعلان کیا گیا اور اس کے بعد گزشتہ روز منگل کو ریاستی کابینہ نے  پسماندہ طبقے کے اقلیتی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کیلئے دی جانے والی اسکالر شپ  کی رقم کو ۲۵؍ ہزار سے بڑھا کر ۵۰؍ ہزار روپے کرنے کا فیصلہ کیا  ۔ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی صدارت میں منگل کو منعقدہ کابینی میٹنگ میں یہ تجویز منظور کی گئی ہے۔
مانسون اجلاس میں اقلیتی فنڈ کا معاملہ اٹھایا گیا تھا
 اس بارے میں سماجوادی پارٹی کےرکن اسمبلی رئیس شیح  نےمانسون اجلاس میں اقلیتی طبقے کا سروے کرنے اور مختلف وجوہات کے سبب ان کیلئے مختص فنڈ استعمال نہ کرنے کے تعلق سے ایوان کو بتایا تھا ۔انہوں نے نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر مالیات دیویندر فرنویس کو مکتوب بھیج کر مطالبہ کیا تھاکہ اقلیتی طبقے کے محکموں کیلئے جو فنڈ مختص کیا جاتاہے ، وہ صد فیصد استعمال کیا جاسکے اس کیلئے ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔
 کابینہ میں اسکالر شپ کے تعلق سے جو تجویز منظور کیا گئی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ ۲۰۱۱ءمیں اسکالر شپ کی رقم ۲۵؍ہزار روپےمختص کی گئی تھی اور  ۲۰۱۸ء تک اس رقم میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا  ، البتہ سرپرستوں کی سالانہ آمدنی کی حد کو ۲؍ لاکھ سے بڑھا کر ۸؍ لاکھ روپے کردیا گیاتھا تاکہ درخواست گزاروں کی تعداد بڑھ سکے لیکن اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ اس لئے اس اسکالر شپ کی رقم بڑھائی گئی ہے اور  ترمیم شدہ ا سکیم کے تحت ٹیوشن فیس / امتحان  فیس  یا ۵۰؍ ہزار روپے جو کم ہوگی، اتنی اسکالر شپ کے مستحق طالب علم یا طالبہ کو دی جائےگی۔ بارہویں جماعت کے طلبہ کو کالج فیس کے طور پر  ۵؍ہزار روپے تک اسکالر شپ ملے گی۔
 اس سلسلے میں رئیس شیخ نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ ’’۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مطابق مہاراشٹر میں مسلمان کل آبادی کا تقریباً۱۱ء۵۴؍ فیصد ہے لیکن یکے بعد دیگرے آنے والی مختلف حکومتوں کی طرف سے مکمل طور  پر سرکاری اسکیمیں نافذ نہ کرنے اور انہیںنظراندازکرنے  کے سبب مسلمان معاشی طورپر مزید کمزور ہوگئے ہیں۔ اس پر تفصیلی رپورٹ ریٹائرڈ بیوروکریٹ ڈاکٹر محمود الرحمٰن کی سربراہی میں ۵؍ رکنی کمیٹی نے پیش کی ہے ۔یہ کمیٹی مہاراشٹر  کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ (آنجہانی ) ولاس راؤ  دیشمکھ نے ۲۰۰۸ء میں تشکیل دی تھی جس نے ریاست میں مسلمانوں کی سماجی، معاشی اور تعلیمی حالات کا مطالعہ کیا۔ رپورٹ میں ان کی غربت، ان کے ساتھ تعصب اور امتیازی سلوک کا ذکر بھی کیا گیا تھا۔ چونکہ یہ رپورٹ زیادہ تر ۲۰۰۱ءکی مردم شماری کے اعداد و شمار پر مبنی ہےلہٰذا اب وقت آگیا ہے کہ ایک قدم آگے بڑھایا جائے اور کمیونٹی کی حالت کا جائزہ لیا جائے اور پالیسیوں میں اصلاحات کی جائےنیز  اقلیتی طبقے کی پسماندگی کودور کرنے اور ان کی  بہتری کے لئے کام کیا جائے۔
 رئیس شیخ نے گزارش کی تھی کہ مہاراشٹر کے مسلمانوں کے حالات کا مطالعہ، تجزیہ اور ان کے مسائل  دور کرنے کیلئےڈاکٹر محمود الرحمٰن کمیٹی کی طرز پر ایک اعلیٰ سطحی ٹائم باؤنڈ اسپیشل ٹاسک فورس (اسٹڈی گروپ) تشکیل دی جائے جو ان کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مدد دے سکے۔ 
مہاراشٹر کے مختلف اضلاع کے مسائل سمجھنے کیلئے میٹنگ
  اس ضمن  میں رئیس شیخ نے نمائندۂ انقلاب کو مزید بتایاکہ ’’  مہاراشٹر کے الگ الگ اضلا ع میں مسلمانوں کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ اٹھانے میںمختلف دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ ان دشواریوں کو سمجھنے اور انہیں دور کرنے کیلئے ۲؍اکتوبر کو انجمن اسلام  اسکول  ( سی ایس ایم ٹی ، ممبئی ) میں  معروف سماجی خدمتگاروں کو مدعو کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حکومت سے دشواریوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔‘‘
اقلیتوں کا جائزہ لینے کیلئے حکومت کا فیصلہ
 ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی امور کی جانب سے ۲۱؍ ستمبر کو جو سرکیولر جاری کیا گیا ہے،اس میں کہا گیا ہے کہ ۲۰۱۳ءمیں حکومت کی طرف سے محمود رحمٰن کی سربراہی میں قائم کی گئی کمیٹی کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق حکومت کی طرف سے مسلمانوں کی ترقی کیلئے کی گئی کوششوں کا معائنہ کرنا ضروری تھا۔ ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس(ٹِس)، دیونار ،ممبئی ریاستی حکومت کی طرف سے مسلم سماج کی فلاح و بہبودکیلئے کی جانے والی کوششوں اور اقلیتی برادری کی ترقی کے بارے میں ایک معائنہ رپورٹ پیش کرے گاجس میں ان میں تعلیم، صحت، روزگار اور حالات زندگی، بینک اور مالی امداد، بنیادی ڈھانچہ، سرکاری  اسکیموں کے فوائد کا مطالعہ کیا جائے گا تاکہ مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی کی حقیقی صورتحال سامنے آ سکے ۔ 
  اس جائزے کا مقصد ریاست مہاراشٹر میں مسلمانوںکو   مرکزی دھارے میں لانے کیلئے ان کی تعلیمی، معاشی اور سماجی حالات کا مطالعہ کرکے جغرافیائی علاقوں کے مسائل کا پتہ لگانا اور اس طرح مسلمانوں کی شمولیت کو بڑھانے کے لئے اقدامات تجویز کرناہے۔  
 اس جائزے کیلئے ریاست مہاراشٹر کے ۶؍ ڈویژنل ریوینیو کمشنریٹ کے تحت۵۶؍مسلم اکثریتی  شہروں میں مسلمانوں کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی حالات کا مطالعہ کیا جائے گانیز انٹرویوز اور گروپ مباحثوں کے ذریعے معلومات حاصل کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK