انہدامی کارروائی پردہلی کارپوریشنز اورکیجریوال سرکار آمنے سامنے

Updated: May 19, 2022, 11:49 AM IST | Agency | New Delhi

غیر قانونی تعمیرات کے نام پرسیکڑوں غریبوںکے مکانات اور دکانوں پر بلڈوزر چلانے پر دہلی حکومت نے شمالی، جنوبی اور مشرقی تینوں کارپوریشنوں کو نوٹس جاری کیا،یکم اپریل سے اب تک کی گئی انہدامی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ طلب کی،دہلی حکومت نے تجاوزات مخالف مہم سے ۶۳؍ لاکھ افراد کے بے گھر ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا ہے

Locals protesting against bulldozers brought for demolition operation in Shaheen Bagh.Picture:INN
شاہین باغ میںانہدامی کارروائی کیلئے لائے گئے بلڈوزر کیخلاف مقامی افرادمزاحمت کرتے ہوئے ۔ تصویر: آئی این این

دہلی حکومت نے تینوں کارپوریشنوں شمالی، جنوبی اور مشرقی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دارالحکومت  کےمختلف علاقوں میںغیرقانونی تعمیرات کیخلاف  انہدامی کارروائی پررپورٹ طلب کرلی ہے۔ تجاوزات ہٹانے کی مہم پر دہلی کارپوریشنز اورکیجریوال حکومت آمنے سامنے آگئے ہیں۔ دہلی حکومت نے اپنے نوٹس میں کہا ہے کہ تینوں میونسپل کارپوریشنز  ان تمام  انہدامی کارروائیوں کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں جو یکم اپریل سے اب تک  انجام دی گئی ہیں ۔ غور طلب ہے کہ کیجریوال نے بلڈوزرکے ذریعہ تجاوزات اور غیرقانونی تعمیرات پر کارروائی کے سلسلے میں پیر کوکہاتھا کہ انہوں نے اپنے اراکین اسمبلی  سے کہا ہے کہ آپ کو جیل جاناپڑے تو بھی ڈرنانہیں، لیکن آپ کو عوام کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔دوسری جانب دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سیسودیا نے بی جے پی پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہاتھا کہ بی جے پی دہلی کو تباہ کرکے دہلی کے۶۳؍لاکھ لوگوں کے گھروں پر بلڈوزر چلانے کی تیاری کر رہی ہے۔   دہلی حکومت نے تجاوزات مخالف مہم کے سلسلے میں بلڈوزر چلانے کے بارے میں تینوں ایم سی ڈی سے رپورٹ طلب کی ہے۔ دراصل، شاہین باغ، جہانگیرپوری مدن پور کھادر، نیو فرینڈز کالونی، منگول پوری، روہنی، گوکل پوری، لودھی کالونی، جنک پوری سمیت شہر کے مختلف حصوں میں تین شہری اداروں کی طرف سے تجاوزات کے خلاف کئی مہم چلائے جانے کے چند دنوں بعد  دہلی حکومت نے ان بلدیاتی اداروں کو نوٹس جاری کیا ہے۔بتادیں کہ شروع سے ہی عام آدمی پارٹی  حکومت دہلی میں بلڈوزر کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھارہی ہے۔ اروند کیجریوال نے خود کہا ہے کہ وہ تجاوزات کے خلاف ہیں لیکن وہ ایم سی ڈی کی  کارروائی سے خوش نہیں ہیں۔دراصل گزشتہ ماہ سے دہلی کے مختلف علاقوں میں تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری ہے۔  انہدامی کارروائی جہانگیر پوری سے شروع ہو کر شاہین باغ، منگل پوری سمیت نجف گڑھ تک  جا پہنچی ۔ ایم سی ڈی نے دعویٰ کیا  ہےکہ اس نے غیر قانونی  قبضہ  جاتوں پر بلڈوزر چلائے ہیں۔ تینوں ایم سی ڈیز نے اپنے اپنے علاقوں میں بلڈوزر چلا کر ناجائز قبضوں اور تجاوزات کے خلاف کارروائی کی ہے۔ واضح رہےکہ دہلی جہانگیرپوری میںرام نومی کے جلوس میںپھوٹ پڑنے والے فرقہ وارانہ تشدد کے بعدیکطرفہ کارروائی کے طورپراقلیتوںعلاقوں میںانہدامی کارروائی شروع کی گئی تھی  ، اس کے بعدمذکورہ بالا علاقوں میںکارروائی  انجام دی گئی ۔شاہین باغ میں  بھی کارپوریشن کے بلڈوزر پہنچےتھے لیکن وہاں کے مکین بلڈوزر کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے اورانہدامی کارروائی نہیں ہونے دی ۔ قبل ازیں، دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ شہر کے کئی علاقوں میں چلائی جا رہی انسداد تجاوزات مہم کی وجہ سے۶۳؍ لاکھ لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور یہ آزاد ہندوستان کی   سب سے بڑی تباہی ہوگی۔ اروند کیجریوال نے بی جے پی کے زیر اقتدار میونسپل کارپوریشنوں کی  ان کی میعاد کے اختتام پر اتنی بڑی مہم شروع کرنے  کے ا خلاقی، آئینی اور قانونی اختیار پر سوال اٹھایا تھا۔اروند کیجریوال نے کہا تھا کہ دہلی کو منصوبہ بند شہر کے طور پر نہیں   بسایا گیا  ہے۔ دہلی کا۸۰؍ فیصد سے زیادہ حصہ غیر قانونی اور تجاوزات  پر مبنی کہا جا سکتا ہے،توکیا اس کا مطلب ہے کہ آپ دہلی کا۸۰؍ فیصد  علاقہ  تباہ کر دیں گے؟  کیجریوال نے اس معاملے پر عام آدمی پارٹی (آپ) کے ایم ایل ایز کے ساتھ ملاقات کے بعد آن لائن میڈیا کے ذریعے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ میونسپل کارپوریشنوں کے جو انتخابات ملتوی  کئے گئے  ہیں وہ اب کرائے جائیں تاکہ نئے کارپوریشن تشکیل دئیے جاسکیں۔ بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کیجریوال نے کہا کہ آپ۶۳؍ لاکھ لوگوں کو بے گھر کر دیں گے اور ان کے گھروں اور دکانوں کو بلڈوزر سے تباہ کر کے رکھ دیں گے۔ یہ آزاد ہندوستان میں سب سے بڑی تباہی ہوگی۔ یہ کوئی برداشت نہیں کرے گا۔اب جب کہ آپ (بی جے پی کے زیر اقتدار کارپوریشنوں) کی مدت کار صرف دو دن باقی ہے، کیا آپ کے پاس اتنا بڑا فیصلہ کرنے کا کوئی اخلاقی، قانونی اور آئینی  جوازہے؟ الیکشن کروائیں۔ نئی ایم سی ڈی (میونسپل کارپوریشن آف دہلی) کو انتخابات کے بعد فیصلہ کرنے دیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK