دہلی ہائی کورٹ نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کی اس عرضی کو خارج کردیا ہے، جس میں انہوں نے اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کی جانب سے جاری کردہ بونڈ بھرنے کےنوٹس کو چیلنج کیا تھا۔
نیہا بورا۔ تصویر: آئی این این
دہلی ہائی کورٹ نے آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا کی اس عرضی کو خارج کردیا ہے، جس میں انہوں نے اسپیشل ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کی جانب سے جاری کردہ بونڈ بھرنے کےنوٹس کو چیلنج کیا تھا۔ اس نوٹس میں انہیں امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ۱۰؍ ہزار روپے کا ذاتی مچلکہ اور ایک ضمانت دار پیش کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سبرامنیم پرساد نے عرضی تو خارج کردی لیکن مجسٹریٹ کو کئی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے اپنے حکم میں کہا کہ نیہا بورا کے خلاف کارروائی میں جن دستاویزات اور مواد پر انحصار کیا جارہا ہے وہ تمام مواد انہیں فراہم کئے جائیں۔
عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ انکوائری کے سلسلے میں کوئی حکم جاری کرنے سے پہلے متعلقہ مواد فراہم کرنا ضروری ہے۔عدالت نے مجسٹریٹ کو ہدایت دی کہ وہ بی این ایس کی دفعہ۱۳۵؍ کے دائرۂ کار اور اس کے مضمرات پر بھی غور کریں۔ جسٹس پرساد نےیہ پہلو خاص طور پر قابل غور قرار دیاکہ آیا انکوائری کے آغاز ہی میں نیہا بورا سے مچلکہ طلب کیا جاسکتا ہے یا اس کی ضرورت کا فیصلہ انکوائری آگے بڑھنے کے بعد کیا جاسکتا ہے۔