• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیرس کے نواح میں فائرنگ، ایک ہلاک، ۵؍ زخمی؛ مسلم مخالف عناصر شامل ہونے کا دعویٰ

Updated: October 24, 2026, 11:12 AM IST | Paris

فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی علاقوں میں فائرنگ کے واقعے میں ایک شخص ہلاک اور ۱۲؍ سالہ لڑکی سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ مقامی میئر نے حملے میں نسل پرستانہ اور ممکنہ طور پر اسلام مخالف عناصر شامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ حکام اس کے محرکات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فرانسیسی حکام کے مطابق پیرس کے نواحی علاقوں میں ایک مسلح شخص نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو ہلاک اور پانچ دیگر کو زخمی کردیا۔ زخمیوں میں ۱۲؍ سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔ حکام کو شبہ ہے کہ یہ واقعہ اسلام مخالف نفرت پر مبنی ایک ’’دہشت گردانہ جرم‘‘ ہوسکتا ہے۔ جمعہ کو دارالحکومت پیرس کے باہر واقع قصبوں ترَاپ اور قریبی لا وریئر میں حملوں کے کچھ ہی دیر بعد ۳۹؍ سالہ نامعلوم مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے بچوں کے کھیلنے کی جگہ، ایک پٹرول پمپ اور ایک طبی مرکز پر فائرنگ کی۔ ان کے مطابق زخمیوں میں سے تین کی حالت تشویشناک تھی اور ان کی جان کو خطرہ لاحق تھا جن میں ۱۲؍ سالہ لڑکی بھی شامل ہے۔

نونیز نے کہا کہ حملہ ۱۵؍ منٹ سے بھی کم وقت تک جاری رہا اور بظاہر حملہ آور نے ’’فوجی نوعیت کا ہتھیار یا کم از کم خودکار ہتھیار‘‘ استعمال کیا۔ ان کے مطابق استغاثہ اس واقعے کو ’’دہشت گردانہ جرم‘‘ سمجھتے ہوئے تحقیقات کر رہا ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ آیا اس کے پیچھے نسلی یا مذہبی محرکات تھے۔ فرانسیسی صدارتی محل ایلیزے نے فائرنگ کے واقعے کو ’’نسل پرستانہ دہشت گردانہ حملہ‘‘ قرار دیا۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جمعہ کو فائرنگ کے بعد ترَاپ کا دورہ کیا۔ یہ محنت کش طبقے کی آبادی والا قصبہ پیرس سے تقریباً ۲۰؍ کلومیٹر (۱۳؍ میل) مغرب میں واقع ہے۔ ترَاپ کے میئر علی راحبی نے کہا کہ حملہ آور ’’بظاہر اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا اور ایسا لگتا تھا کہ وہ بڑے پیمانے پر لوگوں کا قتل عام کرنا چاہتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا، ’’یہ ایک دہشت گردانہ حملہ تھا جس میں نسل پرستانہ اور غالباً اسلام مخالف عناصر شامل تھے۔‘‘ راحبی کے مطابق، ہلاک ہونے والا شخص افریقی نژاد تھا، جبکہ زخمیوں میں سے ایک شخص جس کی حالت تشویشناک تھی، شمالی افریقی نژاد تھا۔

لا وریئر کے میئر نکولا ڈینویل نے بتایا کہ لڑکی کو آٹھ گولیاں لگی تھیں۔ اس کی حالت سنگین تھی تاہم اب وہ مستحکم ہے۔ ترَاپ کے ۵۰؍ سالہ رہائشی عادل نے خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’میں شمالی افریقی نژاد ہوں اور یہ واقعہ ان تمام لوگوں کیلئے خوفناک ہے جن کا پس منظر میرے جیسا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ جان کر ’’دل ٹوٹ گیا‘‘ کہ ممکن ہے متاثرین کو ان کی نسل کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہو۔ عادل نے بتایا کہ ان کے قصبے میں زخمی ہونے والے دو افراد اسکول میں صفائی کا کام کرتے ہیں۔ جمعہ کی صبح جب حملہ آور اپنی گاڑی سے باہر نکل کر فائرنگ کرنے لگا تو وہ وہاں کام کر رہے تھے۔ ان کے مطابق دونوں افریقی نژاد تھے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی خاتون اول کا اولیشکی میں روس، یوکرین کے درمیان جنگ بندی کا اعلان

میکرون نے کہا کہ قومی انسدادِ دہشت گردی کے استغاثہ نے مقدمے کی ذمہ داری سنبھال لی ہے۔ تحقیقات کا آغاز ’’دہشت گردانہ سرگرمی سے وابستہ قتل‘‘ کے الزام کے تحت کیا گیا ہے۔ حکام اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا متاثرین کو ان کی حقیقی یا مفروضہ نسل، نسلی شناخت، قومیت یا مذہب کی بنیاد پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ حکام نے بتایا کہ مشتبہ شخص نے اپنے فلیٹ میں بھی خطرناک جال بچھا رکھا تھا، جہاں گیس کے تین سلنڈر اور بجلی کی تاریں نصب تھیں جو ’’ٹائمر سے منسلک‘‘ تھیں۔ میکرون نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، ’’ہماری ہمدردیاں متاثرین، ان کے اہل خانہ اور یولین کے تمام رہائشیوں کے ساتھ ہیں۔ اس کٹھن آزمائش میں پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘ وزیر اعظم سیباسٹین لیکورنو نے بھی ایکس پر اپنی پوسٹ میں اس معاملے کو ’’انتہائی سنگین‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’سیکوریٹی فورسز اور عدلیہ کے تمام وسائل پوری طرح متحرک ہیں‘‘۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK