دہلی فساد: کابینہ کافیصلہ ویٹو ،لیفٹیننٹ گورنر نے پولیس کے تجویز کردہ وکیلوں  کی تقرری کردی

Updated: August 01, 2020, 5:04 AM IST | New Delhi

سالیسٹر جنرل تشار مہتا ، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل امن لیکھی، ایس وی راج اور چیتن شرما جیسے بڑے وکیل ذیلی عدالت میں   پولیس کی پیروی کریں  گے، کابینہ کے اشکالات کو قطعی نظر انداز کردیا گیا۔

Lieutenant Governor Anil Baijal. Photo: INN
لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل۔ تصویر: آئی این این

دہلی فساد کے معاملوں   میں  استغاثہ کی پیروی کیلئے دہلی پولیس ٟکے نامز د کردہ وکلاء کے پینل کو منظوری نہ دینےکے ریاستی کابینہ کے فیصلے کو دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر نے ویٹو کردیاہے۔انہوں  نے اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتےہوئے ان وکیلوں  کو فساد کے ۸۵؍ معاملات میں  وکیل استغاثہ نامزد کردیا جن کے نام پولیس نےتجویزکئے تھے۔ جن وکیلوں  کو دہلی فساد کے معاملات میں  وکیل استغاثہ نامزد کیاگیا ہے وہ ہیں ۔
 تشار مہتا ، سالیسٹر جنرل
امن لیکھی ، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل
چیتن شرما ، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل
ایس وی راج، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل
امیت مہاجن، ایڈوکیٹ
رجت نائر ،ایڈوکیٹ
  اس سلسلے میں  ریاستی حکومت کی جانب سے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ عام طور پر ٹرائل کورٹ کی سطح پر سالیسٹر جنرل جیسے بڑے عہدہ پر فائز شخصیت کو وکیل استغاثہ کے طور پر نامز د نہیں  کیا جاتا مگر دہلی فساد کے معاملوں  میں   اس سے پہلے بھی سالیسٹر جنرل ہی پولیس کی پیروی کرتے رہے ہیں ۔ یاد رہےکہ انہیں   فساد کے معاملوں  میں  وکیل استغاثہ کے طور پر منتخب کرنے کے بجائے اروند کیجریوال حکومت نے مقدموں کی منصفانہ پیروی کیلئے اپنی وزارت داخلہ کو وکیلوں  کاپینل خودمنتخب کرنے کی ہدایت دی تھی۔پولیس کے نامزد کردہ مذکورہ وکیلوں  کو مقرر کرنے سے انکار کرتے ہوئے دہلی کابینہ اس رائے کی حامل تھی کہ دہلی فسادات کے معاملے میں   دہلی پولیس کی جانچ کو خود کورٹ نے منصفانہ تسلیم نہیں کیا ہےاسلئے ایسی صورت میں  پولیس کے ذریعہ ہی نامزد کردہ وکیلوں  کے پینل کی تقرری سے منصفانہ شنوائی بھی ممکن نہیں  ہوسکے گی۔ بہرحال مرکزی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ریاست کے لیفٹیننٹ گورنرانل بیجل نے وکیلوں  کے پینل سے متعلق دہلی پولیس کی تجویز مسترد کرنے کے ریاستی کابینہ کے فیصلے کو اُلٹ دیاہے۔ اس کی اطلاع خود ریاستی حکومت نے دی ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کئے گئے بیان کے مطابق’’سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ میں  دہلی فساد کے معاملوں  کی شنوائی کیلئے وکیلوں  کا پینل منتخب کرنے کےدہلی کابینہ کےفیصلے کو لیفٹیننٹ گورنر انل بیجل نے مسترد کردیاہے۔ انہوں   نے آئین کے ذریعہ حاصل خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے یہ قدم اٹھایا ہے۔‘‘ حکومت کے فیصلے کو بدلتے ہوئے گورنر نے ریاست کے محکمہ داخلہ کو دہلی پولیس کی تجویز کو منظور کرنے کی ہدایت دی ہے۔ 
 دہلی فساد کی جانچ ریٹائرڈ جج سے کروانے کی مانگ
دہلی فساد کے نام پر شہریت ترمیمی ایکٹ کے مظاہرین کی گرفتاری اور اصل ملزمین کی طرف سے دہلی پولیس کی چشم پوشی کی مذمت ملک ہی نہیں  بیرون ملک بھی ہورہی ہے۔اس بیچ دہلی کی ۲۷۰؍ ممتاز شخصیات نے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال کو مکتوب لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ریٹائرڈ جج کی نگرانی میں  دہلی فسادات کی آزادانہ جانچ کرواکر حقیقی صورتحال منظر عام پر لائی جائے۔اس مطالبےکی ۶؍وجوہات بیان کرتے ہوئے وزیراعلیٰ  کو لکھے گئے مکتوب میں  کہاگیا ہے کہ اس طرح کی آزادانہ جانچ ’’دہلی کے عوام کا اعتماد بحال کریگی ، اصل خاطیوں  کو سزادلانے کے ضرورت کو منظر عام پر لائے گی اور متاثرین کو انصاف دلائے گی۔‘‘ مکتوب میں  کئی حوالوں کے ذریعہ دہلی پولیس کی جانچ کومنظر عام پر لاتے ہوئے بتایاگیاہے کہ اس جانچ کی و جہ سے عوام کا اعتماد بحال نہیں  ہوا ۔   پولیس کی جانچ پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے ممتاز شخصیات نےاس کا موازنہ اقلیتی کمیشن کی آزادانہ جانچ سے کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’سیاسی مقاصد کے تحت کی گئی پولیس کی پوری طرح سے یکطرفہ جانچ اقلیتی کمیشن کے ذریعہ کی گئی جانچ اوراس کی سفارشات کے قطعی برخلاف ہے۔‘‘ اقلیتی کمیشن کی مذکورہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دہلی کی ممتاز شخصیات نے اروند کیجریوال پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے کہ ’’اس (اقلیتی کمیشن کی رپورٹ)کی وجہ سے آزادانہ جانچ کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے۔‘‘ خط پر دستخط کرنے والوں  میں   ایئر وائس مارشل (سبکدوش) این آئی رزاقی، سابق خارجہ سیکریٹری مکند دوبے، سابق چیف انفارمیشن کمشنر وجاہت حبیب اللہ، سی پی ایم کے پولٹ بیورو کی رکن برنداکرات، سماجی کارکن ہرش مندر اور سوامی اگنی ویش، صحافی ایچ کے دوا، مرینال پانڈے، پلاننگ کمیشن کی سابق رکن سیدہ حمید اور درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ پربھات پٹنائک، جیتی گھوش اور دیگر افراد شامل ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK