Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’تفریح کیلئے شائقین اب الگ الگ پلیٹ فارم کا سہارا لے رہے ہیں‘‘

Updated: August 16, 2026, 2:04 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

ٹی وی اداکار اُجول شرما کا کہنا ہے کہ ورٹیکلز کے معاملے میں میرا تجربہ کافی اچھا رہا ہے، ممبئی میں اکثر صرف تین یا چار دن کے اندر ہی پوری شوٹنگ مکمل کرنی پڑتی ہے۔

TV actor Ujjwal Sharma. Photo: INN
ٹی وی اداکار اُجول شرما۔ تصویر: آئی این این

 اُجول شرما ماڈل اور ٹیلی ویژن اداکار ہیں، جنہوں نے ماڈلنگ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا اور بعد میں ٹی وی اور فلموں میں کام کیا۔ ان کی شناخت خاص طور پر ٹی وی سیریل ’’رادھا کرشن‘‘ اور ’’ساجن گھر‘‘ سے بنی۔ اجول کا تعلق نئی دہلی سے ہے۔ انہوں نے تقریباً ۱۹؍سال کی عمر میں فیشن اور کمرشیل ماڈلنگ سے اپنے کریئر کا آغاز کیا۔ مختلف فیشن برانڈز اور پروڈکشن کمپنیوں کے لیے کام کرنے کے بعد انہوں نے اداکاری کی جانب قدم بڑھایا۔ اجول شرما نےٹیلی ویژن پر ’’رادھا کرشن‘‘ کے ذریعے نمایاں شناخت حاصل کی۔ اُجول شرما نے ۲۰۲۲ء کی ہندی فلم ’’ڈیئر دیا‘‘ میں روہت کاکردار ادا کیا۔ اس کے علاوہ ان کے کریڈٹس میں میوزک ویڈیوز اور دیگر ٹی وی و مختصر پروجیکٹس بھی شامل ہیں۔ اجول شرما کو حالیہ دنوں میں ٹی وی شو ’’ساجن گھر‘‘ کی ساتھی اداکارہ سَنچیتا اُگلے کی موت کے بعد ایک تنازع کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر مختلف طرح کے الزامات عائد کئے گئے حالانکہ انہوں نے ان الزامات کی تردید کی اور اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ سَنچیتا کی موت کے بعد ان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔ نمائندہ انقلاب نے اُجول شرما سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
اس وقت آپ کس شو یا پروجیکٹ میں مصروف ہیں؟
ج:اس وقت میں مختلف پروجیکٹس پر کام کر رہا ہوں۔ میری کوشش ہے کہ ایسے کردار کا انتخاب کروں جو بطور اداکار مجھے کچھ نیا سیکھنے اور خود کو بہتر بنانے کا موقع دے۔ اس وقت میں زیادہ تر ورٹیکلز میں کام کررہا ہوں اور اس کے ذریعہ خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کررہا ہوں۔ گزشتہ دنوں میرے ساتھ جو تنازع ہوگیا تھا اس کی وجہ سے ٹی وی شوز میں کام محدود ہوگیا ہے۔ بہرحال میں اپنے طورپر خود کو ثابت کرنے کی کوشش کررہا ہوں۔ میں نے وقت کے ساتھ یہ محسوس کیا ہے کہ صرف اچھی شخصیت، اچھی باڈی یا اسکرین پر موجودگی کافی نہیں ہے۔ اگر آپ کو اداکاری کرنی ہے تو اداکاری کا فن اور کرافٹ مضبوط ہونا بہت ضروری ہے۔ آپ کی شکل و صورت یا جسمانی ساخت شاید آپ کو پہلا موقع دلا سکتی ہے، لیکن ایک اداکار کو طویل عرصے تک قائم رکھنے والی چیز اس کی اداکاری اور اس کا ہنر ہی ہوتا ہے۔ 
آپ نے اداکاری کے شعبے میں آنے کا فیصلہ کیسے کیا؟
ج: شروع میں مجھے بھی لگتا تھا کہ اچھی شخصیت اور فٹنیس ہی کافی ہے، لیکن جلد ہی احساس ہوگیا کہ ایک کامیاب اداکار بننے کیلئے اداکاری کا فن سیکھنا اور اپنے کرافٹ کو مضبوط کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی لیے میں نے اپنی اداکاری پر مسلسل محنت کی۔ مجھے بچپن ہی سے اداکار بننے کا شوق رہا ہے اور میں اس کیلئے اسکول اور کالج کے مختلف کلچرل پروگرامز میں شرکت کیا کرتا تھا۔ میں نے بعد میں تھیٹر گروپس میں بھی شرکت کی اور وہاں سے بھی اداکاری کا ہنر سیکھنے لگا۔ کوشش یہی رہی کہ اپنے خواب کو پورا کروں اور اداکاری کے شعبے میں قسمت آزماؤں۔ میں نے پیشہ ورانہ طورپر ہی اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا۔ 
سوشل میڈیا کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج: سوشل میڈیا کے مثبت اور منفی دونوں پہلو ہیں۔ اگر یہی پلیٹ فارم آپ کو شہرت دیتا ہے تو تنقید اور بدنامی بھی یہیں سے مل سکتی ہے۔ اس لیے اسے متوازن انداز میں استعمال کرنا چاہیے۔ جہاں اچھائی ہوتی ہے وہاں برائی بھی موجود ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا کے ساتھ میرا تجربہ ایسا ہی رہاہے۔ ایک اداکارہ کی خودکشی کے معاملے میں مجھے سوشل میڈیا پر بدنام کرنے کی پوری کوشش کی گئی۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا لیکن میں کوشش کررہا ہوں کہ اسی سوشل میڈیا کی وجہ سے میری ساکھ بھی بہتر ہوگی۔ میں نے اس کا استعمال شروع کیا ہے اور امید کرتاہوں کہ میں اس میں کامیاب رہوں۔

یہ بھی پڑھئے: نیہا دھوپیا کی فلم’’۵۲؍ بلیو‘‘ کا آسٹریلوی پریمیئر آئی ایف ایف ایم میں ہوگا

اداکاری کے علاوہ آپ کے مشاغل کیا ہیں؟
ج: مجھے بچپن ہی سے ڈانس کا شوق ہے۔ اداکاری سے پہلے میں چائلڈ ڈانسر بھی رہا ہوں۔ اس کے علاوہ مارشل آرٹس، جم کرنا اور شاعری کرنا بھی میرے پسندیدہ مشاغل ہیں، لیکن میں اداکاری ہی کو ترجیح دیتاہوں کیونکہ یہ میری پہلی پسند ہے۔ میں اداکاری میں آگے بڑھنا چاہتا تھا اور بڑھ بھی رہا ہوں۔ 
آج کل ٹی وی شوز کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، 
ایسا کیوں ہے؟ آپ اس کی کیا وجہ سمجھتے ہیں؟
ج:میرے خیال میں کہانیوں کی کمی نہیں ہے لیکن نئے موضوعات پر رسک لینے کی کمی ضرور ہے۔ میکرز اور پروڈیوسرز اکثر نئی اور منفرد کہانیوں پر کام کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ دوسری جانب ناظرین اب بہت سمجھدار ہو چکے ہیں، وہ ایک جیسا مواد بار بار دیکھ کر اکتا جاتے ہیں، اسلئے انہیں نئی کہانیاں چاہیے، جو اکثر او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور بعض اوقات سنیما میں مل جاتی ہیں۔ آج کل لوگ موبائل فون پر کم وقت میں اپنی پسند کا مواد دیکھنا چاہتے ہیں، جبکہ ٹی وی ڈرامے مسلسل فالو کرنے پڑتے ہیں۔ میرے خیال میں یہی وجہ ہے کہ آج کل ٹی وی شوز کی عمر کم ہوتی جارہی ہے اور ان کی ریٹنگ بھی متاثر ہوتی جارہی ہے۔ آج کے ناظرین کے دیکھنے کا انداز بھی کافی بدل گیا ہے۔ لوگ اب اپنے فون پر بہت سا مواد دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ وہ مختصر دورانیے میں ایسی چیز دیکھنا چاہتے ہیں جو فوراً ان کی توجہ حاصل کر لے اور انہیں تفریح فراہم کرے۔ ٹی وی کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ وہاں ناظرین کو باقاعدگی سے ایک کہانی کے ساتھ جڑے رہنا پڑتا ہے۔ 
 ویب سیریز میں بولڈ مواد کے بارے میں آپ کا کیا مؤقف ہے؟
ج:اگر کسی کردار یا کہانی کی ضرورت کے تحت بولڈ مناظر شامل کیے جائیں تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن اگر صرف سنسنی یا غیر ضروری عریانی دکھانے کیلئے ایسے مناظر شامل کیے جائیں تو میں ایسے پروجیکٹس سے دور رہنا پسند کروں گا۔ فی الحال یہی میری ذاتی رائے ہے، مستقبل میں حالات کے مطابق سوچ بدل بھی سکتی ہے۔ میں ویب سیریز میں بھی کام کرنا پسند کرتاہوں لیکن فی الحال میں جو بھی کام مل رہا ہے ا س میں محنت کررہاہوں ۔ 
 آپ نے بتایا کہ آپ ورٹیکل فارمیٹ میں بھی کام کر رہے ہیں، قارئین کو بتائیں کہ اس کا تجربہ کیسا رہا؟
ج: میرا تجربہ کافی اچھا رہا ہے، لیکن اس فارمیٹ میں کام کی رفتار بہت تیز ہوتی ہے۔ ممبئی میں اکثر صرف تین یا چار دن کے اندر پوری شوٹنگ مکمل کرنی پڑتی ہے، اس لیے فنکاروں اور پوری ٹیم کو اس فارمیٹ میں بہت تیزی اور بھرپور توجہ کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ یہ چیلنجنگ ضرور ہے، لیکن ایک اچھا سیکھنے کا تجربہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے انڈسٹری کے نئے اور نوجوان اداکاروں کو موقع مل رہا ہے۔ 
کیاآج تفریح کے رجحانات تبدیل ہوتے جارہے ہیں؟
ج: آج کے دور میں ایک اداکار کیلئے صرف ٹی وی یا فلموں تک محدود رہنا کافی نہیں رہا۔ او ٹی ٹی، ورٹیکل ویڈیوز، سوشل میڈیا اور مختصر دورانیے کے مواد نے تفریحی صنعت کو تیزی سے تبدیل کیا ہے۔ ناظرین اب زیادہ انتخاب رکھتے ہیں اور وہ روایتی کہانیوں کے ساتھ ساتھ نئی، تازہ اور مختلف نوعیت کی کہانیاں بھی چاہتے ہیں۔ ایسے میں اداکاروں کیلئے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنے فن کے ساتھ ساتھ نئے فارمیٹس کو سمجھیں اور خود کو بدلتے ہوئے وقت کے مطابق ڈھالیں۔ سب سے اہم چیز اداکاری کا کرافٹ، کردار کی مضبوطی اور مسلسل سیکھنے کا عمل ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK