کنفیڈریشن نے وزیر مالیات سے سستے قرضوں کی فراہمی اور منصفانہ مسابقت کیلئے ای کامرس پر کنٹرول کیلئے اقدامات کی مانگ کی۔
وزیر مالیات نرملا سیتارمن اتوار یکم فروری کو بجٹ پیش کریںگی،اس کیلئے تجاویز دینے کا سلسلہ شروع ہوچکاہے۔ تصویر: آئی این این
کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس (سی اے آئی ٹی) نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کوبجٹ ۲۷-۲۰۲۶ءکیلئے تجاویزپیش کرتے ہوئے خوردہ تاجروں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کیلئے سستے قرض اور ای کامرس کی غیر منصفانہ مسابقت سے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
سی اے آئی ٹی(کائٹ )کے قومی جنرل سیکریٹری اور چاندنی چوک حلقہ سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ پروین کھنڈیلوال نے منگل کو کہا کہ کیٹ نے وزیر خزانہ کو تجاویز پیش کی ہیں جو کاروبار کو عزت، آسانی، سلامتی اور مساوات فراہم کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومت نے کاروبار کرنے میں آسانی، لوکل کیلئے ووکل، گلوبل مارکیٹس کیلئے لوکل، ڈِجیٹل انڈیا، میک ان انڈیا اور آتم نر بھر بھارت جیسے اقدامات کے ذریعے ملک کے کاروباری ماحول کو نئی شکل دی ہے۔ آئندہ بجٹ میں ان اقدامات کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔
کائٹ نے چھوٹے تاجروں کیلئے ’’سنگل ونڈو تعمیل‘‘ کے طریقہ کار، غیر ضروری نوٹس اور معائنہ سے تحفظ اور تجارتی قوانین سے مجرمانہ نوعیت کو ختم کرنے میں تیزی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ہر ضلع میں عہدیداروں اور تاجروں کی جوائنٹ کمیٹی بنانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ کاروباری مسائل کو ضلعی سطح پر ہی حل کیا جاسکے۔
کھنڈیلوال نے ای- کامرس اور کوئک - کامرس میں بھاری چھوٹ، بازار پر قبضہ کرنے کے مقصد سے انتہائی کم قیمت کا تعین اور غیر ملکی فنڈنگ سے ہونے والے غیر مناسب مقابلے پر فوری کنٹرول کی ضرورت پر زوردیا ہےتاکہ چھوٹے خوردہ تاجروں کے مفاد کا تحفظ کیا جاسکے۔ اس کیلئے ٹریڈرس کنفیڈریشن نے وزارتِ تجارت کے ساتھ ہر ای کامرس اور کوئک کامرس کمپنی کالازمی رجسٹریشن، یکساں قواعد، سخت نگرانی اور منصفانہ تجارت کے ضوابط کے نفاذ کی تجویز دی ہے تاکہ چھوٹے خوردہ تاجروں کے مفادات کا تحفظ ہو سکے۔
کیٹ نے ایماندار ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کیلئے ٹیکس دہندگان کی درجہ بندی کے نظام، کم جانچ، تیزی سے ریفنڈ اور سستے قرض کی سہولت فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے ون نیشن ون لائسنس ون رجسٹریشن کے تصور پر عمل درآمد، تمام تجارتی لائسنس ایک ہی ڈجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے جاری کرنے اور خودکار تجدید کی سہولت فراہم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔
’کائٹ ‘نے روایتی تجارت کو جدید بنانے کیلئے ٹیکنالوجی اپنانے کی ترغیبی اسکیم، کاروبار کی ڈیجیٹائزیشن کو ممکن بنانے والے آلات پر سبسڈی اور ٹیکس مراعات، اور ڈجیٹل دکان مشن متعارف کرانے کی بھی سفارش کی ہے۔تنظیم نے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزس (ایم ایس ایم ایز) اور چھوٹے تاجروں کیلئے مخصوص تجارتی مالیاتی پالیسی، بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے سخت قوانین، منڈیوں کی جدید کاری اور گوداموں نیز کولڈ اسٹوریج کی سہولیات کو بہتر بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔بی جے پی رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ ’’تاجر برادری ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ وزیر اعظم کی دور اندیش قیادت میں، اگر تاجروں کو عزت، تحفظ، سادگی اور مساوی مواقع ملتے ہیں، تو ہندوستان کو۵؍لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت اور وِکست بھارت بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘