• Wed, 14 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ گرین لینڈ چاہتے ہیں لیکن امریکی سینیٹرز کا ان کے عزائم روکنے کیلئے بل پیش

Updated: January 14, 2026, 7:01 PM IST | Washington

ٹرمپ گرین لینڈ چاہتے ہیں لیکن امریکی سینیٹرز نےان کے عزائم کو روکنے کیلئے بل پیش کیا ، اس کے تعلق سے خدشات پیدا ہورہے ہیں کہ آیا یہ اقدام نیٹو جنگ روکنے میں معاون ہوگا۔

US Senate. Photo: INN
امریکی سینیٹ۔ تصویر: آئی این این

ڈونالڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ پر قبضہ کرنے کے دباؤ کے درمیان، امریکی سینیٹرز نے ایک دو جماعتی بل پیش کیا ہے جو نیٹو کے کسی بھی رکن ملک کے علاقے کو ضم یا کنٹرول کرنے کی کسی بھی کارروائی کے لیے فنڈز کو روکنے کے لیے ہے۔ یہ اقدام کانگریس میں بڑھتی ہوئی مخالفت کو اجاگر کرتا ہے جبکہ گرین لینڈ اور ڈنمارک امریکی ملکیت کے دعووں کو سختی سے مسترد کر چکے ہیں۔ ڈیموکریٹ جین شاہین اور ریپبلکن لیزا مرکوسکی کے تحریر کردہ، دو جماعتی ’’نیٹو اتحاد تحفظ قانون‘‘ کا مقصد دفاعی محکمہ اور خارجہ محکمہ کو فنڈز استعمال کرنے سے روکنا ہے تاکہ وہ کسی بھی دوسرے نیٹو رکن ملک کے علاقے پر ناکہ بندی، قبضہ، الحاق یا کسی اور طریقے سے کنٹرول قائم کرنے کے لیے استعمال نہ کر سکیں۔
دریں اثناء ایک بیان میں، شاہین، جو نیو ہیمپشائر کی نمائندگی کرتی ہیں، نے کہا، یہ دو جماعتی قانون سازی واضح کرتی ہے کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالرز ان اقدامات کے لیے استعمال نہیں کیے جا سکتے جو نیٹو کو توڑ دیں گے اور نیٹو کے ساتھ ہماری اپنی وعدہ خلافی کریں گے۔ یہ بل ایک واضح پیغام بھیجتا ہے کہ گرین لینڈ کے بارے میں حالیہ بیانات امریکہ کے اپنے قومی سلامتی کے مفادات کو شدید نقصان پہنچارہے ہیں اور کانگریس میں دو جماعتی مخالفت کا سامنا ہے۔مرکوسکی، جو الاسکا کی نمائندگی کرتی ہیں اور ٹرمپ کی ریپبلکن ناقد ہیں، نے کہا کہ۳۲؍ رکنی نیٹو سلامتی اتحاد عالمی سلامتی کے لیے ’’سب سے مضبوط دفاعی لائن‘‘ ہے۔ 
مرکوسکی نے مزید کہا کہ ، صرف یہ خیال کہ امریکہ اپنے وسیع وسائل اپنے اتحادیوں کے خلاف استعمال کرے گا، انتہائی پریشان کن ہے اور کانگریس کو قانونی طور پر اسے مکمل طور پر مسترد کرنا چاہیے۔واضح رہے کہ یہ سب کچھ اس امریکی حملے کے بعد شروع ہوا جس میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ڈنمارک کے علاقے کو امریکہ کا حصہ بنانا امریکہ کے قومی سلامتی کے مفاداتمیں معاون ہو گا، کیونکہ اس کا محل وقوع حکمت عملی کے لحاظ سے امریکہ کیلئے اہمیت کا حامل ہے۔ ٹرمپ نے دلیل دی کہ روس یا چین کو علاقے پر قبضہ کرنے سے روکنے کے لیے امریکی اقدام ضروری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ علاقہ پہلے ہی روسی اور چینی جہازوں سے ڈھکا ہوا ہے، اور گرین لینڈ کے اپنے دفاع کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ یہ صر ف دو کتے گاڑیوں پر مشتمل ہے۔ تاہم اپنے نیٹو اتحادیوں کی مخالفت کے باوجود، ٹرمپ اپنے بیانات جاری رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے کہا، مجھے آپ کو بتانا ہےمیں ڈنمارک کا بھی مداح ہوں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس۵۰۰؍ سال پہلے ایک کشتی اتری تھی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ زمین کے مالک ہیں۔‘‘
بعد ازاں ٹرمپ نے یہ بھی اعلان کیا کہ امریکہ گرین لینڈ کے ساتھ سودا کرے گا چاہے راستہ مشکلہو یا آسان ۔‘‘تاہم منگل ۱۳؍جنوری کو گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نیلسن نے کہا کہ اگر ان کے ملک کو انتخاب کرنا ہو تو وہ ڈنمارک کے ساتھ رہنا ترجیح دیں گے۔ ان کا انکار صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے آرکٹک علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کے دباؤ کے براہ راست جواب میں آیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کو یہ بات بالکل واضح طور پر سمجھنی چاہیے کہ ’’گرین لینڈ امریکہ کی ملکیت نہیں بننا چاہتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK