بھگوا نظریات کے حامل وکیل کاوزارت داخلہ کو مکتوب ، دہشت گردی کے ملزمین کے مقدمات کی پیروی پر اعتراض، ملک مخالف سرگرمیوں کا الزام بھی عائد کیا، جمعیۃ قانونی چارہ جوئی کریگی
EPAPER
Updated: April 26, 2022, 1:47 AM IST | Nadeem asran | Mumbai
بھگوا نظریات کے حامل وکیل کاوزارت داخلہ کو مکتوب ، دہشت گردی کے ملزمین کے مقدمات کی پیروی پر اعتراض، ملک مخالف سرگرمیوں کا الزام بھی عائد کیا، جمعیۃ قانونی چارہ جوئی کریگی
ملک کی مختلف ریاستوں میں بم دھماکوں جیسے حساس معاملات کے ملزموں کی اپنے وکلاء کے ذریعے پیروی کرنے والی جمعیۃ علماء ہند کو بھگوا نظریات کے حامل وکیل اورخود ساختہ سماجی کارکن ویبھور آنند نے قومی سلامتی کے لئے خطرہ بتاتے ہوئےمرکزی وزارت داخلہ کو مکتوب روانہ کیا اور مرکزی ایجنسیوں سے اس کی جانچ کرانے کی اپیل کی ہے جس سے شدید ناراضگی پائی جارہی ہے ۔اسی کے پیش نظر جمعیۃ علماء کے لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی نے ذرائع ابلاغ کے ذریعہ جمعیۃ کے خلاف مکتوب بھیجے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے ۔ انہوں نے قانونی ماہرین سے اس بارے میں صلاح و مشورہ کے بعد لائحہ عمل تیار کرنے کا اشارہ دیا ہے ۔
وکیل ویبھور آنند نےجمعیۃ کے خلاف مرکزی وزارت داخلہ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ’’ جمعیۃ علماء مہاراشٹر بم دھماکوں جیسے سنگین جرم میں ملوث ایسے ملزموں کو قانونی مدد فراہم کرتی ہے جو لشکر طیبہ ، القاعدہ اور انڈین مجاہدین جیسی ممنوعہ دہشت گردتنظیموں سے وابستہ پائے گئے ہیں اور یہ کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث اورممنوعہ تنظیموں سے وابستہ ملزموں کو قانونی مدد دینے والی یہ تنظیم ملک کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ ہے ۔‘‘ وکیل نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ یہ تنظیم ہندوستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث رہتی ہے اورحلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے والی تنظیموں میں سے ایک تنظیم ہے ۔
مکتوب روانہ کرنے والے وکیل کے بقول ۱۹۱۹ء میں دیو بند مکتب فکر کے اسکالرس کے ذریعہ قائم کی گئی اس تنظیم نے ملک کی تقریباً تمام ریاستوں میں حلال ٹرسٹ اور لیگل سیل یونٹس قائم کررکھے ہیں اور انہی لیگل یونٹس کی مدد سے وہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ملزموں کو قانونی مدد فراہم کرتی ہے ۔وکیل نے مکتوب میں بتایا ہے کہ مولانا ارشد مدنی کی قیادت میں چلنے والی اس تنظیم نے ۲۰۰۷ء سے ۲۰۲۲ء تک دہشت گردانہ معاملات میں ملوث ۷؍ سو سے زائد ملزموں کو قانونی مدد فراہم کی ہے اور ۱۹۲؍ افراد کو رہا کرا چکی ہےساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ اس تنظیم کا قیام اس لئے کیا گیا تاکہ بے گناہ اور جھوٹے الزامات میں پھنسائے گئے اور جیلوں میں قید بے گناہ جن کے اہل خانہ کو قانونی لڑائی لڑنے کے لئے اپنا گھر ، زیور اور زمین تک فروخت کردینا پڑتا ہے ، کو مالی اور قانونی مدد فراہم کی جاسکے ۔
مرکزی وزارت داخلہ کو روانہ کئے گئے مکتوب میں ممبئی سلسلہ وار بم دھماکوں سے لے کر مالیگاؤں بم دھماکہ ۲۰۰۶ء اور ۲۰۰۸ء کے علاوہ ممبئی دہشت گردانہ حملوں ، زویری بازار اور گیٹ وے آف انڈیا بم دھماکوں نیز دیگر معاملات کی پیروی کرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے ۔
وکیل ویبھور آنندنے جمعیۃ علماء ہند کے خلاف تمام مرکزی ایجنسیوں این آئی اے ،سی بی آئی اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) کے ذریعہ جانچ کرا نے کی اپیل کی ہے ۔
اس سلسلہ میں انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے جمعیۃ لیگل سیل کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ ’’ذرائع ابلاغ کے ذریعہ جماعت کے خلاف مرکزی وزارت داخلہ کو مکتوب روانہ کرنے کا پتہ چلا ہے ۔اس مکتوب میں جماعت پر جو الزامات لگائے گئے ہیں ، وہ سرا سر غلط اور بے بنیاد ہیں ۔ ہم اس سلسلہ میں قانونی ماہرین سے صلاح و مشورہ کے بعد قانونی لائحہ عمل تیار کریں گے ۔‘‘