Updated: April 12, 2026, 7:04 PM IST
| Riyadh
سعودی عرب میں پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے اور پیٹرول ایک ریال فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ۱۵؍ روزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم سعودی عرب میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سعودی آئل۔ تصویر:آئی این این
سعودی عرب میں پیٹرول کی قیمت میں بڑا اضافہ کر دیا گیا ہے اور پیٹرول ایک ریال فی لیٹر مہنگا ہو گیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان ۱۵؍ روزہ جنگ بندی معاہدے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے تاہم سعودی عرب میں پیٹرول کی قیمت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق سعودی آرامکو نے اپریل کے لیے پیٹرول آکٹین ۹۸؍کی قیمت کو ایڈجسٹ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پیٹرول آکٹین ۹۸؍ کی فی لیٹر قیمت میں ایک ریال کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد اب یہ ۹۴ء۳؍ریال فی لٹر میں دستیاب ہوگا۔ پیٹرول آکٹین ۹۸؍ اس سے قبل ۹۴ء۲؍ ریال فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا تھا جبکہ سال کے آغاز میں لانچ کیے جانے کے بعد قیمت۸۸ء۲؍ریال فی لٹر تھی۔ دوسری جانب آرامکو نے اپریل کے لیے پیٹرول ۹۵؍ کی سابقہ قیمت ۳۳ء۲؍ ریال فی لیٹر اور پیٹرول ۹۱؍ کی ۱۸ء۲؍ ریال فی لیٹر برقرار رکھی ہے۔
اس کے علاوہ سعودی میں ڈیزل ۷۹ء۱؍ریال فی لٹر اور کیروسین آئل ۵۹ء۱؍ ریال فی لٹر کی سابقہ قیمت پر دستیاب رہے گا۔ واضح رہے کہ پیٹرول ۹۸؍، اسپورٹس اور ہائی پرفارمنس گاڑیوں کے لیے ہے۔ ان گاڑیوں کی تعداد سعودی میں پانچ فیصد سے زیادہ نہیں جبکہ دیگر گاڑیوں میں اس پیٹرول کے استعمال کا کوئی اضافی فائدہ نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:طوفانِ الامین: نوجوان فٹبالر کے کمال نے بارسلونا کی پوزیشن ناقابلِ تسخیر بنا دی
ایران کی آئل ریفائننگ بحالی کا عمل جاری، دو ماہ میں ۸۰؍ فیصد صلاحیت بحال ہونے کی امید
ایران کی آئل ریفائننگ کی بحالی کا عمل جاری ہے، دو ماہ میں ۸۰؍ فیصد صلاحیت بحال ہونے کی امید ہے۔ ایرانی نائب وزیر تیل محمد صادق عظیمی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ حملوں میں تباہ ہونے والی آئل ریفائننگ صلاحیت آئندہ ۲؍ ماہ کے دوران ۷۰؍ سے ۸۰؍ فیصد تک بحال ہونے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ڈیزل پر برآمدی ڈیوٹی بڑھ کر ۵ء۵۵؍ روپے فی لیٹر، اے ٹی ایف پر۴۲؍ روپے ہو گئی
انہوں نے مزید بتایا کہ لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ تقریباً ۱۰؍ دن کے اندر دوبارہ کام شروع کر دے گا، ملک بھر میں ریفائنریز، ٹرانسمیشن لائنز، آئل ڈپو اور ہوائی جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کی تنصیبات کو بار بار نشانہ بنایا گیا، ملبہ ہٹانے اور خراب آلات کی تبدیلی کے لیے ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جن میں لاوان جزیرے کی ریفائنری بھی شامل ہے۔ ادھر سابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے امریکی نائب صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ وہ ایران پر اپنی شرائط مسلط نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اب بھی صورتحال کو سمجھنے کے لیے دیر نہیں ہوئی۔