خواتین پر مظالم اورجنسی استحصال کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ

Updated: September 26, 2021, 8:19 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن اوردیگر تنظیموں کاباندرہ میںزبردست احتجاج اورنعرے بازی ،کہا:حکومت نعرے اور دعوے کے بجائے عملی اقدام کرےاورحیوانوں کوعبرتناک سزا دے ۔ راجستھان میںچائلڈ میریج رجسٹریشن اورافغانستان میںلڑکیوں کی تعلیم پرروک کے خلاف بھی شدید برہمی کا اظہار کیا

Volunteers, including a large number of women, protest for the protection of women in BandraPicture:Inquilab
باندرہ میں خواتین کے تحفظ کیلئے احتجاج کرتے ہوئے رضاکار جن میں بڑی تعداد میں خواتین شامل ہیں تصویر انقلاب

واتین پر مظالم اورجنسی استحصال، راجستھان میںچائلڈ میریج رجسٹریشن کی اجازت اور افغانستان میں طالبان کےذریعے لڑکیوںکی تعلیم اور خواتین کے ملازمت کرنےپر روک لگانے کے خلاف باندرہ میںلیول کراسنگ گیٹ نمبر ۱۸؍ کے پاس سنیچر کی سہ پہر احتجاج کیا گیا۔ اس میں مظاہرین نے بینر اور تختیاں اٹھاکرنعرے بازی کی اورخواتین کی آبرو سے کھلواڑکرنے والوں کوسخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ یہ احتجاج بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن ،واگھنی ، مراٹھی بھارتی، گنائی سنسکرتی چلول اورچرنجیوی (بچوں سے متعلق کام کرنے والی تنظیم ) کے اشتراک سے کیا گیا ۔ 
کیا صرف نعروں سے خواتین کا تحفظ ممکن ہے 
 بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی عہدیدار نور جہاں صفیہ نیاز نے کہاکہ ’’ کیا صرف نعروں سے خواتین کا تحفظ ممکن ہوگا؟ ڈومبیولی میںجس طرح کی حیوانیت کی گئی اس نےہم سب کو جھنجھوڑکررکھ دیا ہےاورہم سب سوچنے پر  مجبور ہیں کہ کیا ایسا ممکن ہے ،آخر حکومتیں کب بیدار ہوںگی اورسماج اپنی ذمہ داری محسوس کرتے ہوئے خواتین کوتحفظ فراہم کرےگا۔‘‘ انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’اجستھان میںچائلڈمیریج رجسٹریشن کی حکومت کی جانب سے اجازت دینے سے ایک مرتبہ پھر طے شدہ عمر سے کم عمر کے لڑکے لڑکیوں کی شادی کو رواج دینے کی حکومت کوشش کی جارہی ہے ، یہ قابل مذمت ہے۔اس طرح کے فیصلوں سے پھر اس رواج کا راستہ آسان ہوگا جس کے خلاف برسوں کی جدوجہد کے بعد قابوپایا گیا تھا۔ ‘‘ نورجہاںنے یہ بھی کہا کہ ’’ افغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی اورخواتین کی ملازمت پر روک لگانا ان کے حقوق چھیننا ہے ، طالبان کواس تعلق سے سوچناچاہئے اورلڑکیوں کی تعلیم کا مناسب نظم کرنا چاہئے کیونکہ اسلام میںلڑکیوں کی تعلیم کی ممانعت نہیںہےبلکہ اسلام کی تعلیم تواقراء پر ہے ۔‘‘
حکومت ایسی غلطی نہ کرے 
 بھارتیہ مسلم مہیلا آندولن کی سربراہ خاتون شیخ نے کہا کہ ’’خواتین پر مظالم کےخلاف قانون بنانے اور سزادینے کی باتیں زورشور سے کہی جاتی ہیں اورجب کہیں کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے توحکومتیں اس طرح فعال ہوجاتی ہیں جیسے اب وہ اس طرح کے جرائم کاخاتمہ کرکے ہی دم لیںگی لیکن اس کےبعد پھر وہ اس وقت بیدار ہوتی ہیںجب سماج کوشرمسار کرنے والا دوسرا بھیانک واقعہ رونماہوتا ہے جیسا کہ اس وقت ہوا ہے اور اب تک کئی ملزم گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ ‘‘انہوںنے یہ بھی کہا کہ ’’ کم عمر لڑکے لڑکیو ںکی شادی کا رواج ختم کرنے میں برسوں کی کوششوں کے بعدکامیابی ملی لیکن راجستھان حکومت اب پھراس کیلئے راہ نکال رہی ہے۔ یہ نامناسب ہے ،اسے واپس لیا جائے۔اس کے علاوہ افغانستان میںلڑکیوں کی تعلیم یا خواتین کی ملازمت پر پابندی ناقابل قبول ہے ،خواتین کا حق ہے کہ وہ تعلیم حاصل کریں۔‘‘حمیدہ لطیف نے کہا کہ ’’ جن مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ احتجاج کیا گیاہے ،ہمارا حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ اس پرعمل کرے اوراس بات کویقینی بنائے کہ آئندہ خواتین  کے تعلق سے ایسی حیوانیت سننے کو بھی نہیںملے گی ۔‘‘
 فیروزمیٹھی بور والانے کہا کہ ’’ حکومت نے بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ کابہت خوبصورت نعرہ دیا تھا لیکن بچیوں اور خواتین پرمظالم ،جنسی استحصال اوردیگرجرائم کی طویل فہرست دیکھ کریہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ محض نعرہ ہے ،عمل سے اس کاکوئی تعلق نہیںاور ملزمین کو جب تک انتہائی سخت سزااوروہ بھی جلدازجلد نہیںدی جائے گی، حیوانوں کے حوصلے بلند ہوتے رہیںگے اوروہ ایسے گھناؤنے جرائم کاارتکاب کرتے رہیںگے۔ ‘‘ انہوںنے بھی چائلڈ میریج رجسٹریشن کی مخالفت کی اورافغانستان میں لڑکیوں کی تعلیم پرروک لگانے کے سلسلے میںکہا کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیںہے کیونکہ اسلام میں تو عورتوں کو تعلیم حاصل کرنے کو کہا گیا ہے، دراصل یہ علاقائی اورآپسی معاملہ ہے ،لیکن اسے بھی طے کیا جاناچاہئے تاکہ لڑکیاں بھی آسانی سے تعلیم حاصل کرسکیں ۔‘‘
کیا ایسے حیوانوں کو انسان کہنا مناسب ہوگا 
  فاروق ماپکر نے کہا کہ ’’ لڑکیوں اورخواتین پر مظالم کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے اورڈومبیولی میں تو حیوانوں نے ایسی درندگی کی ہے کہ ان کو انسان کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ،کیا کسی ترقی یافتہ معاشرے میں اس طرح کی حیوانیت کی گنجائش ہے ۔جب تک ایسے درندوں کو عبرتناک سزا نہیں دی جائےگی تب تک یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں۔‘‘ روی بھیلانے نے کہا کہ ’’ ہم سب کا مطالبہ ہے کہ بلاتکاریوں کو پھانسی دو اورجو بھی اس گھٹیا جرم میںشامل ہے سب کے چہرے بے نقاب کئے جائیں تاکہ مہیلاؤ ں پر غلط نگاہ ڈالنے کی بھی کسی کی ہمت نہ ہو۔اس کے علاوہ انہوںنے چائلڈ میریج رجسٹریشن کی بھی سخت مخالفت کی ۔ ‘‘احتجاج کے دوران منجری تھوری، فرحین سید، حسینہ شیخ، ثناءپٹیل اور دیگر خواتین موجودتھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK