شرجیل امام کے جیل میں چھ سال مکمل ہوگئے، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے ایک ریسرچ اسکالر اور شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف تحریک کے ایک نمایاں چہرہ تھے،انہیں ۲۸؍ جنوری۲۰۲۰؍ کو گرفتار کیا گیا تھا۔
EPAPER
Updated: January 28, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi
شرجیل امام کے جیل میں چھ سال مکمل ہوگئے، جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے ایک ریسرچ اسکالر اور شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کے خلاف تحریک کے ایک نمایاں چہرہ تھے،انہیں ۲۸؍ جنوری۲۰۲۰؍ کو گرفتار کیا گیا تھا۔
شرجیل امام، جن کی عمر اب۳۶؍ سال ہو گئی ہے، انہیں۲۸؍ جنوری۲۰۲۰ء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ گرفتاری سی اے اے اور مجوزہ نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران دیے گئے ان کے خطابات کے بعد ہوئی تھی۔ پانچ ریاستوں (دہلی، اتر پردیش، آسام، منی پور اور اروناچل پردیش) کی پولیس نے ان کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی تھیں، جن میں ان پر علاحدگی پسندانہ اور اشتعال انگیز تقریریں کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران شرجیل امام نے ’’چکا جام‘‘ کی تجویز دی تھی۔ پولیس نے الزام لگایا کہ ان کی تقریریں فروری۲۰۲۰ء میں شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات کا سبب بنیں۔ تاہم، ان کے۱۶؍ جنوری۲۰۲۰ء کے علی گڑھ خطاب کے دوران یا فوراً بعد کوئی تشدد نہیں ہوا تھا، جو ان کے خلاف سازش کے مقدمے کی بنیاد ہے۔شرجیل امام کو شاہین باغ احتجاج کا ایک اہم فکری معمار سمجھا جاتا ہے، جو سی اے اے کے خلاف ۱۰۰؍ دنوں تک چلنے والا پرامن دھرنا تھا اور مزاحمت کی علامت بن گیا۔
یہ بھی پڑھئے: یوجی سی گائیڈ لائنس کیخلاف ملک بھر میں احتجاج
شرجیل امام بہار کے جہان آباد سے تعلق رکھتے ہیں، آئی آئی ٹی بمبئی کے گریجویٹ، سافٹ ویئر انجینئر اور ایک کامیاب مصنف ہیں۔ انہوں نے جے این یو سے جدید تاریخ اور فلسفہ میں ماسٹرز کیا، مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ حاصل کی، نیٹ کلیئر کیا اور اسسٹنٹ پروفیسرشپ کے اہل تھے۔ گرفتاری سے پہلے ان کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔ان کے خلاف آٹھ ایف آئی آر درج ہوئیں۔ سات میں انہیں ضمانت مل چکی ہے، بشمول یو اے پی اے اور غداری کے مقدمات میں، جہاں عدالتوں نے متعدد بار نوٹ کیا کہ انہوں نے تشدد کیلئے نہیں ورغلایا تھا۔ وہ صرف دہلی فسادات کی سازش کے مقدمے میں یو اے پی اےکے تحت جیل میں ہیں، جہاں ضمانت مسترد ہوئی ہے، حالانکہ ان کی تقریر کو تشدد سے براہ راست جوڑنے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے۔
دریں اثناء ان کے چار ساتھی ملزمان گلفشا فاطمہ، شفا الرحمٰن، محمد سلیم خان اور میران حیدر کو۲۰۰۰؍ سے زائد دن جیل میں گزارنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔ تاہم، سپریم کورٹ نے شرجیل امام، عمر خالد، اطہر خان، خالد سیفی، طاہر حسین، سلیم ملک اور تسلیم احمد کی ضمانت مسترد کر دی، یہ کہتے ہوئے کہ یو اے پی اے کے تحت اولین نظر میں کیس موجود ہے۔اس فیصلے پر انسانی حقوق کی تنظیموں، قانونی ماہرین، قیدیوں کے خاندانوں، سیاسی رہنماؤں اور سول سوسائٹی سے شدید تنقید ہوئی۔شرجیل امام نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کا خیرمقدم کیا ۔ انہوں نے کہا، ’’عمر اور میں اس لیے سزا پا رہے ہیں کہ ہم نے حالیہ ہندوستانی تاریخ کے شاید سب سے اہم عوامی احتجاج کی تنظیم اور قیادت کی۔ یہ فیصلہ منظم احتجاج کو جرم قرار دیتا ہے اور رکاوٹ کو دہشت گردی سمجھتا ہے۔ یہ دہشت گردی اور جمہوری اختلاف کے درمیان فرق مٹا دیتا ہے۔‘‘
بعد ازاں اپنی ذاتی حالت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’میری واحد تشویش میری بزرگ ماں کی جسمانی اور ذہنی صحت ہے۔ اس کے علاوہ، میں پرامید ہوں۔ انشاءاللہ، حق غالب آئے گا۔‘‘فیض احمد فیض کا شعر نقل کرتے ہوئے انہوں نے لکھا، ’’دل ناامید تو نہیں، ناکام ہی تو ہے…‘‘ تاہم ان کے بھائی مزمل امام نے فیصلے کو انتہائی مایوس کن اور من مانا قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر ایک ہی کیس میں سات ملزمان ہیں اور صرف دو کو ضمانت نہیں ملتی، تو سازش کا کیا مطلب؟ وہ برسوں سے جیل میں ہیں۔ اب ایک سال تک ضمانت کی درخواست بھی نہیں دے سکتے۔ یہ تماشا ہے۔‘‘واضح رہے کہ چھ سال گزرنے کے باوجود شرجیل امام جیل میں ہیں، جو بہت سے لوگوں کے لیےہندوستان کے انسداد دہشت گردی قوانین کے ذریعے اختلاف رائے کو دبانے اور احتجاج کو جرم بنانے کی علامت ہیں۔