• Wed, 07 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دیونار قبرستان میں قبروں کیلئے حد بندی شروع کی گئی ہے

Updated: October 07, 2026, 3:09 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اس قبرستان میںوقت پر تدفین نہ ہونے سے مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ رفیع نگر قبرستان میںمحض ۲۵؍ دن کی گنجائش ہے جبکہ دیونار قبرستان پہلے سے بند ہے۔

There is space left for only 25 days at the Rafi Nagar graveyard. Photo: Inquilab
رفیع نگر قبرستان میں محض ۲۵؍دن کی ہی گنجائش باقی ہے۔ تصویر:انقلاب

عدالت کی بار بار ہدایت اورسختی کے بعد کافی تاخیر سے اب دیونار نئے قبرستان، جہاں ۵۰۰؍ قبروں کی گنجائش ہے، کی چہار دیواری مکمل کرنے کے بعد قبروں کی ترتیب (لائن) کا کام شروع کیا گیا ہے۔دوسری جانب اپریل ۲۰۲۵ء سے بند دیونار قبرستان میں نومبر سے دوبارہ تدفین شروع ہونے کی امید ہے۔ اس کے علاوہ رفیع نگر قبرستان میں بھی گنجائش ختم ہونے والی ہے۔ اس طرح دیونار قبرستان میں وقت پر تدفین شروع نہ کئے جانے سے بڑا مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے۔

۲۰۲۶ء کے اخیر تک نئے قبرستان کا کام پورا ہوجائے گا 

دیونار قبرستان کے ٹرسٹی عبدالرحمٰن عرف منّا نے نمائندۂ انقلاب کے استفسار پر بتایا کہ ’’قبرستان کے لئے ریزرو نئے پلاٹ پرچہار دیواری کاکام پورا ہوگیا ہے، اب قبروں کے لئے ترتیب (لین) بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے مگریہ حقیقت ہے کہ کافی تاخیر ہورہی ہے۔ امید ہے کہ سال کےاخیر تک کام پورا ہوجائے گا اورمٹی وغیرہ بھی ڈال کر ہموار کردی جائے گی مگر نئے قبرستان میں تدفین شروع نہیں کی جائے گی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:یوپی میں راجیہ سبھا کے امیدواروں کا بلا مقابلہ منتخب ہونا طے، ایس پی نے تیسرا اُمیدوار نہیں اُتارا

انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ ’’نومبر کے شروع سے دیونار قبرستان میں تدفین شروع کردی جائے گی جو گنجائش ختم ہونے کے سبب اپریل ۲۰۲۵ء میںبی ایم سی کی ہدایت پر بند کردی گئی تھی۔ مزید وقت تک روکا نہیںجائے گا کیونکہ اب رفیع نگر قبرستا ن میں بھی گنجائش ختم ہونے کے قریب ہے۔‘‘

رفیع نگرمیں جگہ ختم ہونے کے قریب ہے

رفیع نگر قبرستان کی نگرانی کرنےوالوں میںشامل مشتاق شیخ نےبتایاکہ ’’ رفیع نگر قبرستان میں محض ۲۵؍ دن کی گنجائش بچی ہے، یعنی زیادہ سے زیادہ اکتوبر کے اخیرتک یہاںمیت کی تدفین کی جاسکے گی، قبرستان کا بیشتر حصہ بھرچکا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ اصل میں مسئلہ اسی لئے پیدا ہوتا ہےکہ جب دیونار قبرستان بند ہوجاتا ہے تو پھر رفیع نگر میں ہی تدفین کی جاتی ہے۔ ایک دن میںکبھی ۱۲؍ کبھی ۱۰؍ توکبھی ۹؍ اور۸؍ میت لائی جاتی ہے جس سے گنجائش تیزی سے ختم ہوجاتی ہے۔ اگر دونوں قبرستانوں میںتدفین کا سلسلہ جاری رہے تواتنی جلدی گنجائش ختم نہیںہوگی۔ نئے قبرستان کی تعمیر کےبعد یہ مسئلہ ختم ہوجائے گا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: میڈیکل پریکٹس کیلئے جعلی سرٹیفکیٹ بنانے کے ریکٹ کا پردہ فاش ، ۳؍ افراد گرفتار

ہیلتھ آفیسر کی یقین دہانی 

ایم ایسٹ وارڈ کی ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نیلم سالوی کے مطابق ’’کام جاری ہے،ہماری توجہ اس پرہے کہ کام تیزی سے پورا کیا جائے، بطور خاص تدفین کے لئے کسی قسم کا مسئلہ نہ ہونے پائے۔‘‘

عدالت کاحکم اور بی ایم سی کا حلف نامہ
مقامی وکلاء ایڈوکیٹ الطاف خان اور ایڈوکیٹ شمشیر وغیرہ کی مسلسل کوشش کے بعد ہائی کورٹ نے ۱۰؍ نومبر ۲۰۲۳ء کو نئے پلاٹس قبرستان کےلئے دینے کا بی ایم سی کو حکم دیا تھا۔
عدالت نے اُس وقت کہا تھا کہ کم سے کم مرنے کے بعد ایک شخص کوقاعدے سے دفن تو کیاجائے، یہ اس کا حق ہے۔
بی ایم سی نے عدالت میںحلف نامہ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ۲۰۲۴ء تک کام پورا کرکے تدفین شروع کردی جائے گی۔
تدفین تو دور ابھی قبروں کی لائن بنانے کا کام بھی پورا نہیں ہوسکا ہے۔
عدالت کے حکم اور ایس آراے کی جانب سے نوٹس جاری کرنے کے باوجود قبرستان کے لئے ریزرو دوسرے پلاٹ پر قبضہ جات ختم نہیں ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK