مہاراشٹر سائبر نے ہندوستان میں میڈیکل پریکٹس کیلئے رجسٹریشن حاصل کرنے کیلئے میڈیکل امتحان کے فرضی اور جعلی دستاویزات اور سرٹیفکیٹ بنانے میں ملوث ایک بین ریاستی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 07, 2026, 1:42 PM IST | Agency | Mumbai
مہاراشٹر سائبر نے ہندوستان میں میڈیکل پریکٹس کیلئے رجسٹریشن حاصل کرنے کیلئے میڈیکل امتحان کے فرضی اور جعلی دستاویزات اور سرٹیفکیٹ بنانے میں ملوث ایک بین ریاستی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔
مہاراشٹر سائبر نے ہندوستان میں میڈیکل پریکٹس کیلئے رجسٹریشن حاصل کرنے کیلئے میڈیکل امتحان کے فرضی اور جعلی دستاویزات اور سرٹیفکیٹ بنانے میں ملوث ایک بین ریاستی نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس معاملے میں اب تک ۳؍افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ یہ کیس مہاراشٹر میڈیکل کونسل (ایم ایم سی) کی شکایت پر درج کیا گیا تھا۔ ممبئی میں مہاراشٹر سائبر کے نوڈل سائبر پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
اس پورے معاملے میں غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس ملوث ہیں جنہوں نے بیرون ملک ایم بی بی ایس کی ڈگریاں حاصل کیں اور انہیں ہندوستان میںمیڈیکل پریکٹس کیلئے رجسٹرڈ ہونے سے قبل فارن میڈیکل گریجویٹ ایگزامنیشن (ایف ایم جی ای) پاس کرنا ضروری تھا۔ یہ امتحان نیشنل بورڈ آف ایگزامنیشنز اِن میڈیکل سائنسز (این بی ای ایم ایس) کے ذریعے منعقد کیا جاتا ہے۔ رجسٹریشن کی درخواستوں کی جانچ کرتے ہوئے مہاراشٹر میڈیکل کونسل نے پتہ چلا کہ کچھ غیر ملکی میڈیکل گریجویٹس جنہوں نے’ایف ایم جی ای‘ کا لازمی امتحان پاس نہیں کیا تھا، ان کے پاس میڈیکل رجسٹریشن سرٹیفکیٹ تھے۔ اس کے بعد ایم ایم سی نے مہاراشٹر سائبر کو مطلع کیا اور تحقیقات شروع کی گئی۔ تکنیکی تجزیہ، ڈیجیٹل ریکارڈ اور سسٹم لاگ کے ذریعے مہاراشٹر سائبر نے اس فراڈ میں ملوث افراد کی شناخت کی۔
یہ بھی پڑھئے:چندر پور: ٹینکر پلٹ گیا، بڑی مقدار میں ڈیزل ضائع
گرفتارشدہ تین ملزموں میں سے ۲؍ درخواست گزار ہیں جنہوں نے مقررہ امتحان پاس نہیں کیا تھا لیکن انہوں نے مبینہ طور پر میڈیکل رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کر رکھا تھا۔ ملزم ورون پرتاپ راؤ اکھڑے (۲۸) اور سنکیت پربھاکر انہالے (۲۶)بلڈانہ کے رہنے والے ہیں ۔ معاملے کی مزید تفتیش اور ڈیجیٹل اور مالیاتی لنکس کی جانچ کے دوران مہاراشٹر سائبر نے ناسک ضلع کے۳۵؍ سالہ راہل گوپال پاٹل کو بھی گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق راہل اس بین ریاستی گینگ کا کلیدی آپریٹر ہے اور اسے جعلی دستاویزات کی تیاری اور خریداری میں ملوث کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مہاراشٹر ٹی ای ٹی پیپر لیک معاملے میں پولیس نے پہلے چارج شیٹ میں نامزد تمام۱۸؍ ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
ابتدائی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ملزموں نے تقریباً ۱۵؍ سے ۲۰؍ درخواست دہندگان کو جعلی امتحانی اسکور کارڈ، سرٹیفکیٹ اور دیگر ضروری دستاویزات تیار کرنے اور فراہم کرنے میں مدد کی جس کے عوض رقم وصول کی گئی۔ مہاراشٹر سائبر اب اس بات کی تحقیقات کر رہا ہے کہ یہ جعلی دستاویزات کس نے تیار کئے۔