• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

دہلی میں مرکزی دستوں کی تعیناتی میں توسیع

Updated: October 24, 2026, 11:53 AM IST | Agency | New Delhi

دہلی پولیس کے ساتھ ۲۰؍ ہزار جوان قومی راجدھانی میں ۳۱؍ اکتوبر تک رہیں گے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

نئی دہلی (ایجنسی): ایس آئی آر کی منسوخی ، چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ اور الیکشن کمشنروں کی تقرری کے قانون  میں تبدیلی کیلئے سیاسی جماعتوں اور شہری تنظیموں   کی جانب سے رُک رُک کر ہونےوالے مظاہروں  کے اندیشوں کی بناپر مرکزی وزارت داخلہ نےدہلی میں مرکزی مسلح پولیس فورسیز (سی اے پی ایف) کی ۲۷۳؍ کمپنیوں کی تعیناتی میں۳۱؍اکتوبر تک بڑھا دی ہے۔  ایک کمپنی میں ۷۰؍ سے ۱۰۰؍ جوان ہوتے ہیں۔ اس طرح دہلی پولیس کے  ۲۰؍ ہزار جوانوں کے علاوہ کم و بیش ۲۰؍ ہزار اضافی جوان قومی راجدھانی میں  ۳۱؍ اکتوبر تک تعینات رہیںگے۔ 

اس ماہ کے آغاز میں کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج کے پیش نظر فورسیز کی تعیناتی کا حکم دیا گیا تھا۔ اس میں یہ دوسری توسیع ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے۲۲؍اکتوبر کو دہلی پولیس اور متعلقہ مرکزی مسلح پولیس فورسیز کو تعیناتی کے سلسلے میں باہمی تال میل قائم رکھنے کی ہدایت دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی وی کے، کانگریس اور ڈی ایم کے کا الیکشن کمیشن کی میٹنگ سے واک آؤٹ

دہلی پولیس کی درخواست پر یہ توسیع منظور کی گئی ہے۔ پولیس نے وزارت کو مطلع کیا تھا کہ دہلی کے مختلف ’’حساس‘‘ مقامات پر سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کی جانب سے اچانک احتجاجی مظاہروں کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق، امن و قانون کی صورت حال برقرار رکھنے کیلئے  فورسیز کی تعیناتی جاری رکھنا ضروری تھا۔

دہلی میں مقامی پولیس کے ساتھ تعینات رہنے والی ان کمپنیوں میں سے۱۲۵؍کمپنیاں مرکزی ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کی ہیں، جن میں خواتین اہلکاروں کی۲۰؍کمپنیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) کی۲۰، بارڈرسیکوریٹی فورس (بی ایس ایف) کی۴۶،  انڈو تبت بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی۳۹،  سشستر سیما بل (ایس ایس بی) کی۳۱، اور مرکزی سینٹرل انڈسٹریل سیکوریٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کی۱۲؍کمپنیاں تعینات رہیں گی۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK