• Sat, 24 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی وی کے، کانگریس اور ڈی ایم کے کا الیکشن کمیشن کی میٹنگ سے واک آؤٹ

Updated: October 24, 2026, 11:53 AM IST | Agency | Chennai

گیانیش کمار کا استعفیٰ مانگا، ایس آئی آر کی غلطیاں سدھارنے کی مانگ کی، متحدنظر آکرمودی سرکار کو واضح پیغام بھی دے دیا۔

The BJP and its ally, the All India Anna DMK (AIADMK), participated in an Election Commission meeting in Chennai. Photo: INN
چنئی میں الیکشن کمیشن کی میٹنگ میں  بی جےپی اوراس کی اتحادی آل انڈیا انا ڈی ایم کے شریک رہی۔ تصویر: آئی این این

تمل ناڈو  میں الیکشن کمیشن کو جمعہ کو  سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔  ریاست میں کمیشن کی میٹنگ میں ہی کمیشن کے سربراہ گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے کے بعد حکمراں ٹی وی کے اور اپوزیشن ڈی ایم کے سمیت ۱۲؍ پارٹیوں  نے واک آؤٹ کیا۔ یہ میٹنگ ’اسپیشل سمری ریویژن‘ کیلئے منعقد کی گئی تھی تاکہ ۱۸؍ سال کی عمر کو پہنچنےوالے  نوجوانوں  اوران لوگوں کے نام ووٹر لسٹ میں شامل کئے جاسکیں جو ایس آئی آر میں چھوٹ گئے ہیں۔ 

ٹی وی کے اور ڈی ایم کے کے علاوہ کانگریس، وی سی کے اور بائیں بازو کی جماعتوں کے لیڈر واک آؤٹ کرنےوالوں  میں  شامل  تھے۔ انہوں  نے ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں  کے حوالے سے میٹنگ میں اپنے اعتراضات پیش کئے تاکہ وہ کارروائی کے ریکاڈ میں شامل ہوجائیں پھر چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتےہوئے  میٹنگ سے واک آؤٹ کردیا۔ میٹنگ تمل ناڈو کی چیف  الیکٹورل آفیسر ارچنا پٹنائک نے سکریٹریٹ میں  طلب کی تھی۔احتجاج کرنے والی جماعتوں نے میٹنگ سے واک آؤٹ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ  ریاست میں ایس آئی آرکے دوران الیکشن کمیشن نے شفافیت اور جمہوری غیر جانب داری کو برقرار نہیں رکھا۔ ان جماعتوں نے مطالبہ کیا کہ اسپیشل سمری ریویژن (ایس ایس آر) سے پہلے  ایس آئی آر کی بے ضابطگیوں کو دور کیا جائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: اروناچل میں چین کی دراندازی، سرکار خاموش، کانگریس حملہ آور

میٹنگ سے واک آؤٹ کی قیادت  ڈی ایم کے کی قانونی شاخ کے جوائنٹ سیکریٹری آئی پرانتھامن   نےکی۔ انہوں نےایس آئی آر کے آخری مرحلہ میں انتخابی فہرستوں سے۷۴؍لاکھ سے زیادہ ووٹروں کے نام حذف کئے جانے پر سوال اٹھایا  اور کہا کہ الیکشن کمیشن نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں گئے، کیا انہیں ملک بدر کر دیا گیا  یا وہ اب تمل ناڈو میں نہیں رہتے؟   انہوں نے کہا کہ موجودہ چیف الیکشن کمشنر کی قیادت میں انتخابی فہرستوں کی کوئی بھی نظرثانی قابل اعتماد نہیں ہے ، یہ محض دکھاوا اور بے سود مشق  ہوگی۔  پرانتھامن نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کو یا تو خود استعفیٰ دے دینا چاہیے یا انہیں آئینی طریقے سے عہدے سے ہٹایا جانا چاہیے۔

 مودی سرکار کیلئے کیا پیغام ہے؟

ٹی وی کے تمل ناڈو میں  برسراقتدار ہے جبکہ کانگریس  نے ڈی ایم کے سے ناطہ توڑ کر ٹی وی کے کا ساتھ دیاہے۔اس پس منظر میں ڈی ایم کے   کا کانگریس اور ٹی وی کے کے ساتھ کھڑا ہونا  اہمیت کا حامل ہے۔ اس میں مودی سرکار کیلئے  سیاسی پیغام ہے  جو پارلیمانی حد بندی کا بل پاس کروانے  کیلئے ڈی ایم کے کو  اپنے ساتھ لینے کی کوشش کر رہی  ہے۔ ڈی ایم کے نے واضح کردیا ہے کہ وہ اگر کانگریس کے ساتھ نہیں  ہے تواس کا مطلب یہ نہیں کہ بی جےپی کے ساتھ جاسکتی ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK