ایس آئی آر پرا ٹھنےوالے سوالات کے بیچ سپریم کورٹ کے جج کا واضح موقف۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 9:01 AM IST | Ahmadullah Siddiqui | New Delhi
ایس آئی آر پرا ٹھنےوالے سوالات کے بیچ سپریم کورٹ کے جج کا واضح موقف۔
نئی دہلی(احمداللہ صدیقی):ایس آئی آر کے خلاف ملک میں بڑے پیمانے پر احتجاجی اور عوامی بے چینی کے بیچ سپریم کورٹ کے جج، جسٹس اُجل بھوئیاں نے نالسار یونیورسٹی میں اپنے خطاب میں واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایساکوئی بھی عمل جس سے لاکھوں افراد حق رائے دہی سےمحروم ہوجائیں، من مانی اور غیر آئینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا کوئی جواز نہیں پیش کیا جاسکتا۔ ملک میں دوطرح کے شہری (ایک کے پاس ووٹنگ کا اور دوسرا اس سے محروم) نہیں ہوسکتے۔
انہوں نے ایس آئی آر کا براہ راست ذکر نہ کرتےہوئےکہا کہ کسی بھی قسم کی جوابی دلیل شہریوں کے ووٹنگ کے حقوق چھیننے کے عمل کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔حیدرآباد کی نالسار یونیورسٹی میں منعقدہ جسٹس بی آر ساہنی میموریل موٹ کورٹ مقابلے کے اختتامی اجلاس سے خطاب میں جسٹس بھوئیاں نے کہا کہ اگر کسی عمل کے نتیجے میں لاکھوں ہندوستانی شہری حق رائے دہی سے محروم ہو جاتے ہیں اور اپنے ہی ملک میںدوسرے درجے کے شہری بن جاتے ہیںتو ایسا عمل بنیادی طور پر من مانی ہے۔ اسے آئین کی روح پر کاری ضرب قرار دیتےہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں یہ تک کہوں گا کہ یہ اس آئینی نظام کی نفی ہے جسے ہم نے ہندوستان کے آئین کے تحت اختیار کیا ہے۔‘‘
سپریم کورٹ کے جسٹس نے کہاکہ ہندوستانی آئین شہریوں کے دو درجات کا تصور پیش نہیں کرتا، یعنی ووٹنگ کے حق والے شہری اور ووٹنگ کے حق سے محروم شہری جیسا کوئی تصور نہیں۔کوئی بھی ایسا عمل جو ہندوستانی شہریوں کو بڑے پیمانے پر حق رائے دہی سے محروم کر کے انہیں ووٹنگ کے حق کے بغیر شہری بنا دے، وہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل ۳۲۶؍ اور ۱۴؍ کی خلاف ورزی ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ اس معاملے میں کوئی بھی ادارہ استثنیٰ کا حامل نہیں ۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہاکہ کوئی بھی اتھاریٹی ایسا نہیں کر سکتی، کوئی عدالت اس کی تائید نہیں کر سکتی۔ کوئی بھی آئین سے بالاتر نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے سابق جسٹس روہنٹن فالی نریمن نے بھی الیکشن کمیشن کے کام کاج پر تحفظات کا اظہار کیا اورکہا’آپ ایسا الیکشن کمیشن نہیں رکھ سکتے جو اس طرح کام کرے یا جس کا نظام اس طرح درہم برہم ہو۔ ‘‘