ہندوستان میں اسرائیلی کیفے میں ہندوستانیوں کا داخلہ ممنوع، ایک دہائی پرانا تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا، ، جس نے ملک میں ایک نئی اور شدید بحث کو جنم دیا ہے۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 10:36 AM IST | New Delhi
ہندوستان میں اسرائیلی کیفے میں ہندوستانیوں کا داخلہ ممنوع، ایک دہائی پرانا تنازع دوبارہ شدت اختیار کر گیا، ، جس نے ملک میں ایک نئی اور شدید بحث کو جنم دیا ہے۔
اے جے پلس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اسرائیلیوں کے زیر انتظام چلنے والے متعدد کیفے اور ریسٹورنٹس میں ہندوستانی شہریوں کو داخلے سے روکا جا رہا ہے، جس نے ملک میں ایک نئے اور شدید بحث کو جنم دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ زیادہ تر کیفے ان مراکز میں واقع ہیں جو نوجوان اسرائیلی سیاحوں میں مقبول ہیں، جن میں سے اکثر فوجی سروس مکمل کرنے کے فوراً بعد ہندوستان کا رخ کرتے ہیں۔ ہماچل پردیش کے گاؤں قصّول میں، جسے ’’منی اسرائیل‘‘ بھی کہا جاتا ہے، متعدد ہندوستانی سیاحوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں کیفے کے اندر جانے سے روک دیا گیا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ کیفوں کے باہر عبرانی زبان میں بورڈ لگے ہیں اور عملہ صرف اسرائیلی صارفین کو ترجیح دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: اسرائیلی لابی کا نیتن یاہو مخالف امیدواروں کی شکست کیلئے لاکھوں ڈالر خرچ
بعد ازاں یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ہندوستانی میڈیا۲۰۱۵ء سے ہی اس طرح کے واقعات کی رپورٹنگ کر رہا ہے، جہاں ہماچل اور گوا جیسے سیاحتی مقامات پر ہندوستانیوں کو اسرائیلی اداروں میں داخلے سے انکار کیا گیا۔ تاہم حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سرخیوں میں آ گیا ہے۔ذہن نشین رہے کہ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ہندوستانی کو اسرائیل کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب کر دیا ہے۔۱۹۹۲ء میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت صرف۲۰؍ کروڑ ڈالر تھی، جو اب۶؍ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان اب اسرائیل کا سب سے بڑا ہتھیار کا خریدار بن چکا ہے۔
مزید برآں ۷؍اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد جب ہزاروں فلسطینی مزدوروں کو اسرائیلی لیبر مارکیٹ سے نکالا گیا، تو اسرائیل نے ان کی جگہ لینے کے لیے ہزاروں ہندوستانی مزدوروں کو بھرتی کیا۔ علاوہ ازیں فروری میں، غزہ پر اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کے باوجود جاری نسل کشی کے درمیان، مودی نے اسرائیل کا اپنا دوسرا دورہ کیا اور کنیسٹ سے خطاب بھی کیا۔
یہ بھی پڑھئے: وزارتِ الیکٹرانکس کی ہدایت پر ایپل نے بٹ چیٹ ہندوستانی ایپ اسٹور سے ہٹا دی
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک طرف حکومت اسرائیل کے ساتھ اسٹریٹجک اور فوجی تعلقات کو مضبوط بنا رہی ہے، تو دوسری طرف ہندوستان کے اندر اسرائیلی کاروبار ہندوستانیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہے ہیں، جو ایک سنگین تضاد ہے۔