ایس آئی آر پر سپریم کورٹ سے نظرثانی کا مطالبہ ، جسٹس اوکا نے کہا: صرف انیومریشن فارم نہ بھرنے پر ووٹر کا نام حذف نہیں کیا جاسکتا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 3:13 PM IST | Agency | New Delhi
ایس آئی آر پر سپریم کورٹ سے نظرثانی کا مطالبہ ، جسٹس اوکا نے کہا: صرف انیومریشن فارم نہ بھرنے پر ووٹر کا نام حذف نہیں کیا جاسکتا۔
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھے ایس اوکا نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو یہ طےکرنے کا اختیار نہیں ہے کہ کوئی شخص ہندوستانی شہری ہےیا نہیں۔ انہوں نےسپریم کورٹ سے مطالبہ کیاہے کہ وہ ووٹر لسٹوں کے ایس آئی آر کی آئینی حیثیت برقرار رکھنے سےمتعلق اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کرے۔جسٹس اوکاکے مطابق ایس آئی آر کے طریق کار میں کئی اہم قانونی سوالات موجود ہیں۔ ان میں انیومریشن فارم نہ بھرنے پر ووٹر کا نام حذف کرنا، تمام انتخابی حلقوں میں بیک وقت نظرثانی کرانا اور ووٹر رجسٹریشن کے لیے استعمال ہونے والے فارم-۶؍ اور فارم- ۸؍ میں اضافی اعلانات شامل کرنا شامل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کو قانون سے تجاوز کرتےہوئے کسی ووٹر کا نام حذف کرنے یا اس کی شہریت کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جاسکتا۔’لائیو لا‘ کی۱۴؍ اکتوبر۲۰۲۶ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق جسٹس اوکانےبی بی سی مراٹھی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں یہ باتیں کہیں۔ انہوں نے خصوصی طور پر مئی ۲۰۲۶ء میں سپریم کورٹ کے اس فیصلہ پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا، جس میں ایس آئی آرکی آئینی حیثیت کوبرقرار رکھا گیا تھا۔جسٹس اوکا نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر نظرثانی کی ایک اہم وجہ عوامی نمائندگی ایکٹ ۱۹۵۰ء کی دفعہ۲۱؍(۲) کو قرار دیا۔ ان کے مطابق اس دفعہ کے تحت ووٹر لسٹ کی گہری نظرثانی ایک وقت میں کسی ایک انتخابی حلقہ کیلئے کی جاسکتی ہے، نہ کہ تمام انتخابی حلقوں میں بیک وقت۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ میں ترون تیج پال سے متعلق اپیلوں پرسماعت ملتوی
انہوں نے کہا کہ قانون میں گہری یا جزوی نظرثانی کی گنجائش موجود ہے۔ دفعہ۲۱؍(۳) کی تشریح کرتے وقت یہ دیکھنا ضروری ہے کہ نظرثانی کس علاقے میں اور کن حالات میں کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق قانون میں عام انتخابات سے قبل نظرثانی کا بھی ذکر ہے۔
جسٹس اوکا کا کہنا ہے کہ اس قانونی بنیاد پر ہی سپریم کورٹ کو مئی ۲۰۲۶ء کے اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔جسٹس اوکا نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹروں کو فراہم کیے جانے والے پہلے سے پر کردہ انیومریشن فارم پر بھی سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنی طرف سے یہ فارم متعارف کرایا ہے، حالانکہ ان کے خیال میں اسے ایسا کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں ہے۔