ترون تیج پال نے اپنی ۱۰؍ سالہ سزائے قید کم کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ گوا حکومت نے سزا بڑھانے کی اپیل کی ہے۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 3:06 PM IST | Agency | New Delhi
ترون تیج پال نے اپنی ۱۰؍ سالہ سزائے قید کم کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ گوا حکومت نے سزا بڑھانے کی اپیل کی ہے۔
سپریم کورٹ نے تہلکہ میگزین کے سابق مدیر اعلیٰ ترون تیج پال کی۱۰؍ سالہ قید کی سزا کے خلاف دائر کردہ اپیل اور گوا حکومت کی جانب سے سزا میں اضافے کی اپیل پر سماعت۳؍ نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔ دونوں درخواستیں۲۰۱۳ء میں ایک جونیئر خاتون ساتھی کے ساتھ عصمت دری کے مقدمے سے متعلق ہیں۔ تیج پال نے بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ کے فیصلے کو چیلنج کیا ہے جبکہ حکومت نے سزا بڑھانے کی استدعا کی ہے ۔ تازہ سماعت کے دوران گوا حکومت نے عدالت کو بتایا کہ اس نے تیج پال کی درخواست پر اپنا جواب جمع کرا دیا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے مزید کارروائی کیلئے۳؍ نومبر کی تاریخ مقرر کی۔یہ مقدمہ اس وقت سپریم کورٹ پہنچا جب بامبے ہائی کورٹ کی گوا بنچ نے ذیلی عدالت کاتیج پال کو بری کرنے کا فیصلہ منسوخ کرتے ہوئے انہیں جرم کا مرتکب قرار دیا اور ۱۰؍ برس کی سخت قید سنائی۔
یہ بھی پڑھئے: سابق آئی اے ایس افسر دِویہ متل نے ’جن نیتی بھارت‘ پارٹی قائم کی
ہائی کورٹ نے ۶؍ اگست ۲۰۲۶ء کوفیصلہ سنایا جس میں ۲۰۱۳ء کے واقعے کے حوالے سے سزا سنائی گئی۔ تیج پال نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا اور سزا کے خلاف درخواست دائر کی۔ گوا حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں سزا کو بڑھانے کا مطالبہ بھی اسی مقدمے کے ساتھ زیر سماعت ہے۔سپریم کورٹ نے۲۵؍ اگست کو حکم دیا تھا کہ تیج پال۳؍ ہفتوں کے اندر خود کو حکام کے حوالے کریں۔ بعد میں ان کے وکیل کپل سبل نے عدالت کو بتایا کہ حکم کے مطابق تیج پال نے خود سپردگی کر دی ہے۔ عدالت نے۲۵؍ ستمبر کو تیج پال کی درخواست پر گوا حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا تھا۔ سماعت کے دوران عدالت نے کہا تھا کہ اگلی تاریخ جلد طے کی جائے گی۔