• Mon, 26 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل ۲۰۲۳ء لوک سبھا میں منظور

Updated: August 09, 2023, 11:02 AM IST | new Delhi

کمپنیوں کو بتانا ہو گا کہ وہ کون سا ڈیٹا لے رہی ہیں اور کس کیلئے ڈیٹا استعمال کر رہی ہیں۔قانون کی خلاف ورزی پر ۲۵۰؍ کروڑ روپے کا جرمانہ عائد کیا جائے گا

The passing of the Digital Personal Data Protection Bill is expected to bring relief to mobile phone users.
ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پاس ہونے سے موبائل فون صارفین کو راحت ملنے کی امید ہے۔

ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل ۲۰۲۳ء (ڈی پی ڈی پی ) لوک سبھا میں منظور کرلیاگیا ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مرکزی وزیر اشوینی ویشنو نے جمعرات ۳؍اگست کو لوک سبھا میں یہ بل پیش کیاتھا۔اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد لوگوں کو اپنے ڈیٹا کلیکشن، اسٹوریج اور پروسیسنگ کے بارے میں تفصیلات مانگنے کا حق حاصل ہو جائے گا۔ کمپنیوں کو بتانا ہو گا کہ وہ کون سا ڈیٹا لے رہی ہیں اور کس کیلئے ڈیٹا استعمال کر رہی ہیں۔بل میں اس کی دفعات کی خلاف ورزی کرنے والوں پر کم از کم۵۰؍کروڑ روپے سے لے کر زیادہ سے زیادہ۲۵۰؍ کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ پرانے بل میں یہ۵۰۰؍ کروڑ روپے تک تھا۔
ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا کیا ہے؟
  ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا کو اس طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ جب آپ اپنے موبائل میں کسی کمپنی کا ایپ انسٹال کرتے ہیں تو وہ آپ سے کئی طرح کی اجازتیں مانگتی ہے، جس میں دیگر چیزوں جیسے کیمرہ، گیلری، رابطہ، جی پی ایس تک رسائی شامل ہے۔ اس کے بعد وہ ایپ خود آپ کے ڈیٹا تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔کئی بار یہ ایپس آپ کا ذاتی ڈیٹا اپنے سرورز پر اپ لوڈ کرتے ہیں  اور پھر اسے دیگرکمپنیوں کو فروخت کرتے ہیں۔ دِنک بھاسکر کی خبر کے مطابق ابھی تک ہم ایپ سے یہ معلومات حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں کہ وہ ہم سے کون سا ڈیٹا لے رہے ہیں اور اسے کس لئے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ بل ایسے ڈیٹا کی حفاظت کیلئے لایا گیا ہے۔
 مرکزی کابینہ نے ایک ماہ قبل ۵؍جولائی کو ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل کے مسودے کو منظوری دی تھی۔
ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ تنازع کی صورت میں فیصلہ کرے گا
 تنازع کی صورت میں ڈیٹا پروٹیکشن بورڈ فیصلہ کرے گا۔ شہریوں کو سول کورٹ میں جا کر معاوضے کا دعویٰ کرنے کا حق ہوگا۔ بہت سی چیزیں ہیں جو آہستہ آہستہ سامنے آئیں گی۔ مسودے میں آن لائن اور آف لائن دونوں ڈیٹا شامل ہے جسے بعد میں ڈیجیٹائز کیا گیا ہے۔اگر ہندوستانیوں کی پروفائلنگ بیرون ملک سے کی جارہی ہے یا سامان اور خدمات فراہم کی جارہی ہیں تو اس کا اطلاق اس پر بھی ہوگا۔ اس بل کے تحت ذاتی ڈیٹا پر صرف اسی صورت میں کارروائی کی جاسکتی ہے جب اس کیلئے رضامندی دی گئی ہو۔
اس وقت ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے
  فی الحال ہندوستان میںایسا کوئی قانون نہیں ہے۔ چونکہ موبائل اور انٹرنیٹ کا رجحان ہے، رازداری کے تحفظ کی ضرورت تھی۔ کئی ممالک میں لوگوں کے ڈیٹا کے تحفظ کے حوالے سے سخت قوانین بنائے گئے ہیں۔گزشتہ سال دسمبر میں مرکزی وزیر اشوینی ویشنو نے کہا تھا کہ حکومت پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں ڈیٹا پروٹیکشن بل اور ٹیلی کام بل پاس کر سکتی ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا صارفین کی پرائیویسی پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔دریں اثناء اپریل۲۰۲۳ء میں مرکز نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایک نیا ڈیٹا پروٹیکشن بل تیار ہے اور جولائی میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
 فی الحال اس تعلق سےکوئی سخت قانون نہ ہونے کی وجہ سے ڈیٹا اکٹھا کرنے والی کمپنیاں کئی بار اس کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔ بینک، کریڈٹ کارڈ اور انشورنس سے متعلق معلومات کے لیک ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایسے میں لوگ اپنے ڈیٹا کی پرائیویسی سے متعلق شک وشبہ میں رہتے ہیں۔
اس بل کا مقصد ڈیٹا کیلئے جوابدہی طے کرنا ہے
 ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل ۲۰۲۳ء کا مقصد کمپنیوں، موبائل ایپس اور کاروباری خاندانوں سمیت دیگر افرادکو صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے، اسٹور کرنے اور استعمال کرنے کیلئے جوابدہ بنانا ہے۔ سپریم کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ رازداری کا حق بنیادی حق ہے جس کے بعد ڈیجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر کام شروع ہواتھا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK