ڈونالڈٹرمپ نے مواخذے کی کارروائی کو مضحکہ خیز قرار دیا

Updated: January 14, 2021, 11:53 AM IST | Agency | Washington

رخصت پذیر امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف پیش کردہ قرار داد کے سبب عوام میں غم وغصے کی لہر ہے،اپنے اوپر عائد عوام کو مشتعل کرنے کے الزامات کو مسترد کی

Donald Trump - Pic : INN
ڈونالڈ ٹرمپ ۔ تصویر : آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان میں ڈیموکریٹک  اراکین کی جانب سے اُن کے مواخذے کی کارروائی کو مضحکہ خیز قرار دیا ہے۔گزشتہ ہفتے کانگریس کی عمارت کیپٹل ہل پراپنے حامیوں کے حملے کے بعد صدر نے پہلی مرتبہ منگل کو صحافیوں سے گفتگو کی۔انہوں نے  اس الزام کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ کیپٹل ہل میں توڑ پھوڑ اور ۵؍افراد کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ حملے کے روز انہوں نے وہائٹ ہاؤس کے سامنے اپنے حامیوں سے جو خطاب کیا اس پر لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بالکل مناسب تھا۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے کیپٹل ہل پر حملے سے قبل ٹرمپ کے حامی وہائٹ ہاؤس کے باہر جمع ہوئے تھے جہاں صدر نے ان سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ اُن قانون سازوں کے خلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں جو بائیڈن کی انتخابی کامیابی کی تصدیق کر رہے ہیں۔
 اس کے بعد ہی وہ ہجوم کیپٹل ہل کی جانب بڑھا جہاں نائب صدر مائیک پینس سمیت اراکین کی بڑی تعداد  نو منتخب صدر جو بائیڈن کی انتخابات میں کامیابی کی توثیق کے عمل میں مصروف تھی۔ٹرمپ حامیوں کے حملے کے بعد پولیس نے کیپٹل ہل سے مظاہرین کو باہر نکالا اور وہاں سیکوریٹی کو مزید سخت کردیا جس کے بعد کانگریس نے  صدارتی انتخابات میں بائیڈن کی کامیابی کی تصدیق کی۔جو بائیڈن اب ۲۰؍   جنوری کو امریکہ  کے ۴۶؍ ویں  صدر کی حیثیت سے عہدے کا حلف اٹھائیں گے جس میں ایک ہفتہ باقی ہے تاہم اس سے قبل  نینسی پیلوسی کی ایما پر ڈیموکریٹ اراکین نے  ٹرمپ کے مواخذے کی قرارداد  ایوان میں پیش کر دی۔ ٹرمپ نے جو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بائیڈن اپنا عہدہ سنبھالیں لیکن وہ مزید تشدد نہیں چاہتے۔
 ڈونالڈ ٹرمپ کے بقول ڈیموکریٹ کی جانب سے ایوانِ نمائندگان میں ان کے مواخذے کی کارروائی عوام میں بڑے پیمانے پر غم و غصے کا باعث بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’ یہ آپ (ڈیموکریٹ ) کر رہے ہیں، اور یہ بہت برا کر رہے ہیں۔‘‘ اس الزام کے جواب میں کہ ان کی تقریر کے سبب کیپٹل ہل پر حملہ ہوا تھا ٹرمپ نے کہا  ’’ میں نے وہی کہا جو حقیقت ہے۔ البتہ میں تشدد نہیں چاہتا تھا۔‘‘تشدد بھڑکانے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے امریکی صدر نے ڈیموکریٹ پارٹی ہی پر الزام عائد کیا کہ ’’تشدد تو انہوں نے بھڑکایا تھا ’بلیک لائیوز میٹر‘ تحریک کے دوران۔‘‘ ٹرمپ نے واضح طور پر کہا کہ ’’ اصل  مسئلہ تو ڈیموکریٹ نے کھڑا کیا تھا بلیک لائیوز میٹر تحریک کے دوران جذباتی بیانات دے کر۔‘‘  واضح رہے کہ اگر ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف مواخذے کی تحریک دونوں ایوانوں میں منظور ہو گئی تو وہ نہ صرف فوری طور پر صدر کے عہدے سے ہٹادئیے جائیں گے بلکہ انہیں وہ رعایات بھی حاصل نہیں  ہوں گی جو ایک سابق صدر کو حاصل ہوا کرتی ہے۔ ابھی یہ خدشہ بھی برقرار ہے کہ ٹرمپ خاموشی سے اقتدار چھوڑ دیتے ہیں یا پھر نہیں؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK