۱۱۲؍’کیپٹیو پلانٹس‘ کو بھی پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کا حکم۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 1:46 PM IST | Agency | New Delhi
۱۱۲؍’کیپٹیو پلانٹس‘ کو بھی پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کا حکم۔
بجلی کی بڑھتی طلب کے پیش نظر مرکزی حکومت نے جمعہ کو ایمرجنسی اختیارات کااستعمال کرتے ہوئے کوئلہ سے چلنے والے تقریباً۱۱۲؍ ایسے بجلی گھروں’’کیپٹیو پلانٹس‘‘ کو یکم اکتوبر سے۳۱؍ دسمبر تک پوری صلاحیت کے ساتھ چلانے کی ہدایت دی ہے جنہیں عام طور پر صنعتی ادارے اپنی ضرورت کے مطابق چلاتے ہیں۔
ملک میں ستمبر کے دوران بجلی کی طلب غیر معمولی طور پر بڑھ گئی ہے۔۱۰؍ستمبر کو بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب۲۶۹؍گیگاواٹ تک پہنچ گئی، جو ستمبر میں اب تک کی سب سے بلند سطح ہے۔ رواں سال بجلی کی سب سے زیادہ طلب۲۷۰؍ گیگاواٹ مئی میں ریکارڈ کی گئی تھی۔ کیپٹیو پاور پلانٹ ایسا بجلی گھر ہوتا ہے جسے کوئی صنعتی کمپنی یا فیکٹریوں کا گروپ اپنی بجلی کی ضرورت پوری کرنے کیلئے قائم کرتا ہے۔ اس سے پیدا ہونے والی بجلی بنیادی طور پر خود استعمال کی جاتی ہے، اسے عام گرڈ کو فروخت نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھئے:زیورات کی برآمدات کو ۱۰۰؍ ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف
حکومت نے یہ ہدایت بجلی ایکٹ کی دفعہ۱۱؍ کے تحت جاری کی ہے۔ اس دفعہ کے تحت غیر معمولی حالات میں حکومت بجلی گھروں کو زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنے کی ہدایت دے سکتی ہے۔اس حکم کا اطلاق ۵۰؍میگاواٹ یا اس سے زیادہ صلاحیت والے کوئلے سے چلنے والے تمام کیپٹیو پاور پلانٹس پر ہوگا۔ انہیں اپنی دستیاب صلاحیت کے مطابق زیادہ سے زیادہ بجلی پیدا کرنی ہوگی۔ اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد بچنے والی بجلی پاور ایکسچینج کے ذریعے فروخت کی جاسکے گی۔ حکومت نے بجلی گھروں کو مناسب مقدار میں کوئلہ ذخیرہ رکھنے کی بھی ہدایت دی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار میں رکاوٹ نہ آئے۔ ان پلانٹس کو ہر ہفتے مرکزی بجلی اتھارٹی کو پیداوار، اپنے استعمال، بجلی کی فروخت، دستیاب صلاحیت اور کوئلے کے ذخیرے کی تفصیلات بھی دینی ہوں گی۔