’’لوکل ٹو گلوبل ‘‘ کا عزم، مرکزی حکومت لاکھوں کاریگروں کی ماہرانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ہندوستانی زیورات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے پر توجہ دیگی۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 1:41 PM IST | Agency | New Delhi / Mumbai
’’لوکل ٹو گلوبل ‘‘ کا عزم، مرکزی حکومت لاکھوں کاریگروں کی ماہرانہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ہندوستانی زیورات کو عالمی منڈی میں زیادہ مسابقتی بنانے پر توجہ دیگی۔
مرکزی حکومت نے جواہرات اور زیورات کی برآمد میں اضافہ کرتے ہوئے ۲۰۴۰ء تک۱۰۰؍ارب امریکی ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس کا مقصد لاکھوں کاریگروں کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا اور انہیں ہنرمندی کے میدان میں عالمی سطح پر مسابقت کے قابل بنانا ہے۔
’ووکل فار لوکل ‘ کے بعد’لوکل ٹو گلوبل‘
دہلی جیولری اینڈ جیم فیئر کے۱۴؍ویں ایڈیشن سے خطاب کرتے ہوئے لوک سبھا کے رکن پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ برآمدات کے اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے زیورات کی صنعت کو ’ووکَل فار لوکل‘ سے ’لوکل ٹو گلوبل‘ کی طرف بڑھنا ہوگا۔ اس کیلئے سرمایہ کاری، ہنرمندی کی تربیت اور مصنوعات کو زیادہ قیمتی بنانے پر توجہ دینا ضروری ہے۔ فی الحال ہندوستان کی جویلری صنعت تقریباً ۲ء۵؍ لاکھ کروڑ روپے مالیت کی مصنوعات برآمد کرتی ہے، جبکہ درآمدات تقریباً۱ء۶۵؍ لاکھ کروڑ روپے کی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شعبہ برآمدات میں اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ملک کی تجارت میں بھی نمایاں حصہ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ووٹ نہیں بلکہ راہل گاندھی کا دماغ چوری ہوا ہے‘‘
کاریگروں کی صلاحیتوں میں اضافہ پرتوجہ
کھنڈیلوال نے مقامی کاریگروں کی صلاحیتوں کو تسلیم کرنے اور انہیں مزید تربیت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ کاریگروں کی مہارت بہتر بنانے سے ہدنوستانی زیورات کا معیار اور عالمی مسابقت میں ملک کی پوزیشن مضبوط ہوگی اور بین الاقوامی منڈیوں میں ہندوستانی زیورات کی موجودگی بڑھے گی۔
مقامی کانوں سے سونے کا حصول
ماہرین کا اندازہ ہے کہ آئندہ۵؍ سے۷؍برسوں میں ہندوستان میں استعمال ہونے والے سونے کا تقریباً۲۰؍ سے۲۵؍فیصد حصہ مقامی کانوں سے حاصل ہوسکتا ہے۔ نیشنل جیولری اینڈ جیم اسٹون کونسل آف انڈیا کے چیئرمین پرمود دیراوالا نے جویلری صنعت میں ترقی کے امکانات اور اس کی ویلیو چین کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ورلڈ گولڈ کونسل کے بھارت میں ریجنل سی ای او سچن جین نے ’وکست بھارت ۲۰۴۷ء‘ کے ہدف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبہ کے تحت ہندوستانی معیشت کو موجودہ تقریباً۴ء۵؍ ٹریلین ڈالر سے بڑھا کر۳۰؍ٹریلین ڈالر تک لے جانے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:چھتیس گڑھ کی طوفانی بارش سے گڈچرولی میں سیلابی صورتحال
آزادتجارتی معاہدوں سے امید
حکومتی اقدامات اور آزاد تجارتی معاہدوں کے ذریعے منڈیوں تک بہتر رسائی سے جویلری کے شعبے میں مینو فیکچرنگ اور برآمدات دونوں میں ترقی کے بڑے امکانات ہیں۔ جن ممالک کے ساتھ ہندوستان نے آزاد تجارتی معاہدے کئے ہیں، وہ تقریباً ۵۵؍ ارب ڈالر مالیت کے زیورات درآمد کرتے ہیں۔اس میں ہندوستان کا حصہ تقریباً۸؍ارب ڈالر ہے۔ ان ممالک میںجویلری کی برآمدات بڑھانے کی بڑی گنجائش موجود ہے۔
گھروں میں موجود سونے پر بھی نظر
ہندوستان میں ورلڈ گولڈ کونسل کے ریجنل سی ای او سچن جین کے مطابق ہندوستانی گھرانوں کے پاس موجود سونے سے معیشت کو فائدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان کے گھروں میں تقریباً۳۱؍ ہزار ہزار ٹن سونا ہے۔ مالیاتی نظام میںا س سونے کو شامل کرنے، نئی مصنوعات اور خدمات متعارف کرانے اور نئی حکمت عملی بناکر اس سونے سے زیادہ معاشی فائدہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ۲۶؍تا۲۸؍ ستمبر بھارت منڈپم میں سہ روزہ میلے کا اہتمام انفارما مارکیٹس نے کیا جس میں سیکڑوں مینوفیکچررس، خردہ فروش، ڈسٹری بیوٹرس اور ایکسپورٹرس نے شرکت کی۔