Updated: September 21, 2026, 9:05 PM IST
| London
شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر نے شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل کیلئے سرکاری سیکوریٹی کی حمایت کرتے ہوئے میڈیا کوریج کے ممکنہ اثرات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ہیری اور میگھن کے حالات کو ڈائنا کے تجربات سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ماضی کے واقعات سے سبق لیتے ہوئے ان کی حفاظت کے معاملے کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہئے۔
شہزادی ڈائنا کے بھائی ارل چارلس اسپینسر نے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کو سرکاری سیکوریٹی فراہم کرنے کی حمایت کی ہے۔ بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسپینسر نے کہا کہ ہیری اور میگھن کے ساتھ میڈیا کا برتاؤ انہیں ڈائنا کے ساتھ ہونے والے سلوک کی یاد دلاتا ہے اور ایسے حالات میں حفاظتی انتظامات کو سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ اسپینسر نے کہا، ’’سیکوریٹی کے معاملے میں، ایک ایسے ماموں کی حیثیت سے جس نے اپنی بہن کو ایسے حالات میں مرتے دیکھا جنہیں بہت حد تک روکا جاسکتا تھا، میں سیکوریٹی فراہم کرنے کی طرف جاؤں گا۔ ‘‘ انہوں نے اس رائے کے لیے ہیری کے برطانوی تخت کی جانشینی میں پانچویں نمبر پر ہونے اور سابق فوجی ہونے کا بھی حوالہ دیا۔
انہوں نے ڈائنا، ہیری اور میگھن سے متعلق اخباری کوریج کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض ٹیبلوئڈ مضامین ’’بہت، بہت ناخوشگوار‘‘ ہوسکتے ہیں۔ اسپینسر نے کہا، ’’لوگوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈائنا کے تجربے سے سبق سیکھیں۔ ‘‘ ان کے مطابق کسی شخص کو مسلسل اس طرح کی منفی کوریج کا سامنا ہو تو اس کا اثر اس کی زندگی پر انتہائی گہرا ہوسکتا ہے۔ اسپینسر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی بہن پر میڈیا کی مسلسل توجہ کے اثرات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ ان کے مطابق ڈائنا تنقید سے بہت متاثر ہوتی تھیں اور میڈیا کوریج کے باعث انہیں شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب ہیری اور میگھن کے معاملے میں بھی انہیں اسی صورتحال کی کچھ جھلک نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران جنگ: ٹرمپ کی ”پوری قوم کو اڑا دینے“ کی دھمکی؛ آئی آر جی سی نے وسیع تر جنگ کا انتباہ دیا
ہیری اور میگھن نے ۲۰۲۰ء میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ دونوں نے برطانوی میڈیا کے طرز عمل پر کئی مرتبہ تنقید کی ہے، جبکہ ہیری نے برطانوی اخبارات کے خلاف قانونی کارروائیاں بھی کی ہیں۔ دونوں ۲۶؍ اگست ۲۰۲۶ء کو اپنے بچوں کے ساتھ دوبارہ برطانیہ میں رہنے کے لیے واپس آئے۔ ہیری کی سرکاری سیکوریٹی کا معاملہ پہلے ہی قانونی اور انتظامی بحث کا موضوع ہے۔ برطانیہ کی رائل اینڈ وی آئی پی ایگزیکٹو کمیٹی نے ہیری اور میگھن کی سیکوریٹی کا دوبارہ جائزہ شروع کیا ہے۔ میگھن کے لیے یہ ۲۰۲۰ء میں شاہی ذمہ داریوں سے دستبرداری کے بعد پہلا نیا خطرے کا جائزہ ہے، جبکہ ہیری کے معاملے میں بھی جائزہ جاری ہے۔
ارل اسپینسر کا یہ بیان ان کی نئی کتاب ’سوان سانگ: ڈائنا، مائی سسٹر‘ کی اشاعت سے عین قبل سامنے آیا ہے۔ کتاب میں انہوں نے ڈائنا کی زندگی اور ان کی موت کے بعد کے حالات کے ساتھ ساتھ کنگ چارلس سے متعلق بھی کئی دعوے کیے ہیں۔ بکنگھم پیلس نے کتاب میں بیان کردہ بعض دعوؤں کے جواب میں کہا ہے کہ طویل عرصے بعد کا غم کسی شخص کی یادداشت، فیصلے اور واقعات کی تشریح کو متاثر کرسکتا ہے۔ اسپینسر نے تاہم اپنے دعووں پر قائم رہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سچ بیان کررہے ہیں۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ڈائنا کی موت کے بعد مبینہ گفتگو کے بارے میں انہوں نے اپنے قریبی دوستوں اور خاندان کو اسی وقت بتایا تھا، کیونکہ ان کے مطابق وہ بات ان کیلئے انتہائی غیر معمولی تھی۔