Updated: September 21, 2026, 8:03 PM IST
| Washington/Tehran
ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو تہران اپنے ہتھیار اور ”جنگ کا جغرافیہ“ بدل دے گا۔ گروپ کے ترجمان حسین محبی نے اتوار کی شام ٹیلی ویژن پر کہا کہ ایسی صورت میں ایران کی دفاعی اور جارحانہ کارروائیاں ”نمایاں طور پر تبدیل ہو جائیں گی۔ اور دنیا حیران رہ جائے گی،“ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے ایسے نئے اہداف کو نشان زد کرلیا ہے جن پر ابھی تک حملہ نہیں کیا گیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز پورے ایران کو تباہ کرنے کی ایک نئی دھمکی جاری کی ہے۔ صدر نے فاکس نیوز کے رپورٹر ٹرے ینگسٹ کو بتایا کہ سوال یہ ہے کہ ”اگر اور جب“ تہران نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کئے تو کیا ”پوری قوم کو اڑا دینا“ ضروری ہوگا۔ ینگسٹ نے ٹرمپ کے حوالے سے کہا، ”بہتر ہے کہ وہ دوستانہ رویہ اختیار کریں۔“ ینگسٹ نے مزید کہا کہ صدر نے تین راستے گنوائے: ایران کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا، اسے معاشی طور پر گلنے سڑنے کیلئے چھوڑ دینا، یا کوئی معاہدہ کر لینا۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ اور ایران کسی معاہدے کے قریب نہیں ہیں، جبکہ ثالثی کرانے والے ممالک پاکستان اور قطر کی قیادت میں کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے مذاکرات کی شرائط امریکہ کو سونپ دی ہیں: محسن رضائی
ٹرمپ کی جانب سے یہ دھمکی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹرمپ کو ایران جنگ کی وجہ سے مایوس کن پولنگ نتائج کا سامنا ہے۔ فاکس نیوز کے ایک سروے میں پایا گیا کہ ۷۱ فیصد امریکیوں کا ماننا ہے کہ ٹرمپ کے پاس اسے ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ۱۰ میں سے چھ ووٹرز کا کہنا ہے کہ ماضی پر نظر ڈالیں تو جنگ شروع کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ ۱۰ میں سے ۴ سے زیادہ ووٹرز کا خیال ہے کہ یہ جنگ امریکہ کو کم محفوظ بنائے گی، جبکہ اس کے مقابلے ۳۲ فیصد کا کہنا ہے کہ ملک زیادہ محفوظ ہوگا۔ وسط مدتی انتخابات سے قبل ووٹرز کے خدشات میں زندگی گزارنے کی لاگت اور مہنگائی سرِفہرست رہے، جس کے دوران ملک بھر میں پیٹرول کی قیمتیں ۴ ڈالر فی گیلن سے اوپر برقرار ہیں۔
امریکہ کے جنگی اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ پینٹاگون کے تخمینوں کے مطابق اخراجات دسیوں ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ ٹوماہاک میزائلوں اور تھاد (THAAD) انٹرسیپٹرز کے ذخائر کم ہو رہے ہیں، جس سے یوکرین جیسے اتحادیوں کیلئے تشویش بڑھ گئی ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان بھی لڑائی دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔ امریکی اور حوثی حکام نے گزشتہ ہفتے عمان میں ملاقات کی اور اس بات کی توثیق کی کہ جب تک واشنگٹن اس سے الگ تھلگ رہے گا، امریکی اور غیر جانبدار بحری جہازوں کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے ناکہ بندی کرکے ۱۰۰؍ سے زائد فلسطینی اساتذہ کو اسکول جانے سے روکا
آئی آر جی سی کا ”جنگ کے جغرافیہ“ کو بدلنے کا انتباہ
ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے کہا کہ اگر امریکہ نے دوبارہ حملہ کیا تو تہران اپنے ہتھیار اور ”جنگ کا جغرافیہ“ بدل دے گا۔ گروپ کے ترجمان حسین محبی نے اتوار کی شام ٹیلی ویژن پر کہا کہ ایسی صورت میں ایران کی دفاعی اور جارحانہ کارروائیاں ”نمایاں طور پر تبدیل ہو جائیں گی۔ اور دنیا حیران رہ جائے گی،“ انہوں نے مزید بتایا کہ ایران نے ایسے نئے اہداف کو نشان زد کرلیا ہے جن پر ابھی تک حملہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ایک طویل المدتی جنگ کیلئے تیار تھا، آئی آر جی سی نے امریکہ سے کوئی رابطہ نہیں کیا تھا اور مسلح افواج نے سفارت کاری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ خطے میں امریکہ کا غلبہ ختم ہو چکا ہے۔ یہ بیانات آبنائے ہرمز میں جہاز رانی پر کشیدگی کے درمیان سامنے آئے ہیں، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کے تیل کی کھپت کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
قطر کا ایران کے ساتھ علاقائی سلامتی فریم ورک پر زور
قطر کے وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اتوار کے روز خلیجی ممالک اور ایران کو ایک ساتھ لانے والے علاقائی سلامتی کے فریم ورک کا مطالبہ کرتے ہوئے اس جنگ کو ”آنکھیں کھولنے والا لمحہ“ (wake-up call) قرار دیا۔ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی ۸۱ ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر قطر اکنامک فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”ایران ہمارا پڑوسی ہے۔“ انہوں نے ایسے انتظامات کی ضرورت پر زور دیا جو اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ملک دوسرے کیلئے خطرہ نہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ قطر اور اس کے شراکت دار اس مقصد کیلئے کام کر رہے ہیں اور دوحہ اپنی ثالثی جاری رکھے گا اور رابطے کے راستے بحال رکھے گا۔
یہ بھی پڑھئے: جرمنی: الف ایرالپ کی قیادت میں برلن میں بائیں بازو کی جماعت کی شاندار کامیابی
معیشت کے حوالے سے انہوں نے قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی کے اندرونِ ملک پورٹ فولیو کو وسعت دینے کیلئے ’دوحہ انویسٹمنٹ‘ پلیٹ فارم کا اعلان کیا۔ قطر کو توقع ہے کہ وہ پانچ برسوں کے دوران بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے تقریباً ۵ء۳۸ بلین ڈالر کے ٹینڈرز جاری کرے گا، جبکہ رئیل اسٹیٹ اور مہمان نوازی کے شعبے میں ۵ء۲۲ بلین ڈالر کی نجی سرمایہ کاری متوقع ہے۔