Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوہر یونیورسٹی پر اَب ای ڈی کا چھاپہ

Updated: August 20, 2026, 11:19 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Lucknow

بیک وقت۱۰؍ مقامات پر کارروائی، ٹرسٹ پر منی لانڈرنگ کا الزام۔

Azam Khan. Picture: INN
اعظم خان۔ تصویر: آئی این این

یوگی سرکار کے مسلسل نشانہ پر رہنے والی اعظم خان کی قائم کردہ جوہر یونیورسٹی  کے خلاف  بدھ کو ای ڈی سرگرم ہوگئی ہے اور اس نے یونیورسٹی اوراس سے جڑے ۱۰؍ مقامات پر بیک وقت چھاپہ مارا۔ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور جوہر یونیورسٹی  پر منی لانڈرنگ کا الزام عائد ہوا ہے جس کی تحقیقات  کےنام پر  یہ چھاپے مارے  گئے۔

ای ڈی کی ٹیموں نے رام پور اور سہارنپور کے علاوہ دہلی کے جامعہ نگر میں بھی تلاشی لی۔ کارروائی کے دوران ای ڈی کو سی آر پی ایف کی سیکوریٹی حاصل رہی۔ سہارنپور کے ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ،۲؍کمپنیاں اور ان کے پروموٹرس  جانچ کے دائرہ میں ہیں۔  ذہن نشین رہے کہ مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ کے مرکزی ٹرسٹی اعظم خان ہیں جو برسوں سے یوگی سرکار کے نشانے پر ہیں۔ان کے خاندان کے بعض افراد اور ساتھی بھی ٹرسٹ سے وابستہ ہیں۔ ٹرسٹ کے تحت ۲۰۰۶ء میں قائم محمد علی جوہر یونیورسٹی اور رامپور میں ایک پبلک اسکول چلایا جارہا ہے۔ 

بی جےپی تعلیم مخالف ہے: اکھلیش

سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے  چھاپوں پر برہمی کااظہار کرتے ہوئےکہا کہ بی جےپی ’’تعلیم، اساتذہ اور طلبہ کے خلاف‘‘ ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ان چھاپوں کا مقصد یونیورسٹی بنانے والوں کو نشانہ بنا کر چھوٹی فرقہ ورانہ ذہنیت کے حامل بی جےپی حامیوں کو خوش کرنا ہے۔‘‘ قنوج کے رکن پارلیمان نے    کئی دیگر مسائل کا حوالہ دیا اور سوال کیا کہ رام مندر چڑھاوا چوری  کے مجرمین کو، ذات کی بنیاد پر جرائم کرنےوالے اقتدار حامی افراد  کے خلاف، کوڈین کے معاملے میں  اور ایکسپریس ویز کی تعمیر میں بدعنوانی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں ہوتی؟

 ای ڈی کیا جانچ کررہی ہے؟
جانچ کا مرکز یہ الزامات ہیں کہ سرکاری ٹھیکوں کیلئے جاری کئے گئے فنڈس کو نجی ٹھیکیداروں کے توسط سے مولانا محمد علی جوہر ٹرسٹ اور یونیورسٹی تک پہنچائی گئی۔
ایسے ٹھیکیداروں کےمالی لین دین کی جانچ  ہو رہی ہے، جنہوں نے سرکاری ٹھیکے حاصل کئے اور ٹرسٹ یا یونیورسٹی کو چندہ دیا  یا تعمیراتی کام سے متعلق ادائیگیوں کی صورت میں رقم منتقل کی۔
ای ڈی یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ کیا سرکاری ٹھیکوں سے مبینہ طور پرحاصل شدہ  فنڈ کو یونیورسٹی اور ٹرسٹ سے وابستہ اثاثوں کی تعمیر یا تشکیل میں استعمال کیا گیا تھا ؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK