• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایل نینو اور تیل کی بڑھتی قیمتیں ۱۳؍ کروڑ ۲۰؍ لاکھ افراد کو غربت میں دھکیل سکتی ہیں

Updated: October 14, 2026, 6:04 PM IST | New Delhi

دنیا میں تیل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑا طاقتور ایل نینو اور ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا بڑھتا بوجھ عالمی غربت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔

El Nino.Photo:INN
ایل نینو۔ تصویر:آئی این این

دنیا میں تیل اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے جڑا طاقتور ایل نینو اور ترقی پذیر ممالک پر قرضوں کا بڑھتا بوجھ عالمی غربت میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی اکتوبر ۲۰۲۶ء کی رپورٹ کے مطابق، اگر خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل کیا گیا تو رواں سال دنیا بھر میں تقریباً  ۱۳؍ کروڑ افراد مزید غربت کی سطح سے نیچے جا سکتے ہیں۔ بعض خبروں کی سرخیوں میں یہ تعداد ۱۳؍ کروڑ۲۰؍ لاکھ بتائی گئی ہے، تاہم اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی رپورٹ میں بنیادی تخمینہ تقریباً ۱۳؍ کروڑ افراد کا ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک اس صورت حال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس غریب اور کم آمدنی والے گھرانوں کو مہنگائی سے بچانے کے لیے مالی وسائل محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ 
 مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورت حال کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے کئی ممالک کی معیشتوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے پیٹرول، ڈیزل، بجلی، نقل و حمل اور اشیائے ضروریہ کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کا اثر صرف گاڑیوں میں ایندھن بھرنے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ سامان کی ترسیل، کھیتی باڑی، صنعت اور روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں تک پہنچتا ہے۔ کم آمدنی والے خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، ایندھن اور بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی ان کے بجٹ کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔یو این ڈی پی کے مطابق، ترقی پذیر ممالک نے اب تک ایندھن پر سبسڈی، قیمتوں کو محدود رکھنے، ٹیکس میں رعایت اور دیگر اقدامات کے ذریعے عوام کو عالمی قیمتوں کے اثرات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم، ان اقدامات پر سرکاری خزانے سے بھاری رقم خرچ ہو رہی ہے، جس کے باعث انہیں طویل عرصے تک جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔   

یہ بھی پڑھئے:شاہ رخ خان کی سالگرہ پر مداحوں کو خاص تحفہ ملے گا، فلم ’’کنگ‘‘ کا ٹیزرریلیز ہوگا

ایل نینو بحرالکاہل کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کے درجۂ حرارت میں معمول سے زیادہ اضافے سے وابستہ موسمیاتی کیفیت ہے، جو دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں، درجۂ حرارت اور خشک سالی کے انداز کو تبدیل کر سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں شدید خشک سالی، جبکہ دوسرے مقامات پر غیر معمولی بارشوں اور سیلاب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، موجودہ ایل نینو افریقہ، ایشیا اور لاطینی امریکہ میں فصلوں اور غذائی نظام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ اگر بارشیں معمول سے کم ہوں یا شدید موسمی حالات پیدا ہوں تو فصلوں کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے، جس سے اناج، سبزیوں اور دیگر غذائی اشیا کی فراہمی میں کمی اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ اس طرح موسمیاتی بحران اور توانائی کی مہنگائی ایک دوسرے کے اثرات کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔  
 تیسرا بڑا مسئلہ حکومتوں کے لیے قرض حاصل کرنے کی بڑھتی ہوئی لاگت ہے۔ یو این ڈی پی کی رپورٹ کے مطابق، ترقی پذیر ممالک میں حکومتیں اپنی آمدنی کا اوسطاً  ۵ء۹؍فیصد صرف قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے خرچ کر رہی ہیں، جو گزشتہ ۲۵؍ برسوں میں سب سے زیادہ تناسب ہے۔ قرضوں کی ادائیگی پر بڑھتے اخراجات کے باعث صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور غریب خاندانوں کی امداد کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا کے دس سالہ سرکاری بانڈز پر منافع کی شرح ۳ء۵؍ فیصد تک پہنچ گئی، جو ۲۰۰۲ء کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ عالمی مالیاتی منڈیوں میں شرح سود بڑھنے سے ان ممالک کے لیے قرض لینا مزید مہنگا ہو سکتا ہے جو پہلے ہی مالی مشکلات اور بھاری قرضوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ 
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے مطابق، غربت میں اضافے کے ممکنہ اثرات خاص طور پر ذیلی صحارا افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرقی ایشیا میں شدید ہو سکتے ہیں۔ ان خطوں میں کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے خوراک اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کو برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے۔ اگر حکومتیں قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کے لیے امداد جاری نہ رکھ سکیں تو ایسے خاندان بھی غربت کا شکار ہو سکتے ہیں جو پہلے کسی حد تک اپنی بنیادی ضروریات پوری کر پا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:آٹھ ماہ کی محنت ضائع، اجنارندی میں دوبارہ کچرا جمع، بٹو تباہی پھر صفائی میں مصروف

رپورٹ میں غربت کے مختلف پیمانوں کے تحت ممکنہ اثرات کا بھی اندازہ لگایا گیا ہے۔ اگر خوراک اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا پورا بوجھ صارفین پر منتقل ہو تو تقریباً  ۱۳؍کروڑ مزید افراد یومیہ۸۵ء۶؍ ڈالر، ۱۲؍ کروڑ ۱۰؍ لاکھ افراد ۶۵ء۳؍ ڈالر اور ۶؍کروڑ۶۰؍ لاکھ افراد۲ء۱۵؍ ڈالر کی آمدنی کی حد سے نیچے جا سکتے ہیں۔ یہ اعدادوشمار ممکنہ خطرے اور تخمینوں کی عکاسی کرتے ہیں، غربت میں پہلے سے واقع ہو چکے اضافے کی تصدیق نہیں ہیں۔  
 یو این ڈی پی نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تمام صارفین کو یکساں فائدہ پہنچانے والی وسیع سبسڈی کے بجائے محدود مدت اور ضرورت کے مطابق امدادی اقدامات کو ترجیح دیں۔ اس کے تحت کم آمدنی والے خاندانوں کو براہِ راست مالی مدد، سماجی تحفظ کے پروگراموں کی توسیع اور خوراک و توانائی کی مہنگائی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد کے لیے خصوصی معاونت فراہم کی جا سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، عالمی مالیاتی اداروں، عطیہ دہندگان اور ترقیاتی شراکت داروں کو بھی ترقی پذیر ممالک کے لیے سستے اور آسان قرضوں اور مالی معاونت کی فراہمی میں اضافہ کرنا چاہیے، تاکہ حکومتیں اپنے شہریوں کو مہنگائی سے بچانے کے ساتھ صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی وسائل برقرار رکھ سکیں۔ 
 مجموعی طور پر، رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ تیل کی بڑھتی قیمتیں، ایل نینو کے باعث زرعی پیداوار کو لاحق خطرات اور قرضوں کی مہنگی ادائیگیاں ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا سکتی ہیں۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو عالمی سطح پر غربت کم کرنے کی برسوں کی کوششوں کو دھچکا پہنچ سکتا ہے اور کروڑوں مزید افراد کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK