• Wed, 14 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایلون مسک کی اسٹارلنک کے لیے نئی مشکل، سودیشی جاگرن منچ تنظیم کا نیا مطالبہ

Updated: October 14, 2026, 7:01 PM IST | Mumbai

راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسٹارلنک کو ہندوستانمیں سیٹیلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کی اجازت نہ دے۔

Elon Musk.Photo:INN
ایلون مسک۔ تصویر:آئی این این

دنیا کے معروف کاروباری شخصیت ایلون مسک کی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹارلنک کو ہندوستان میں تجارتی خدمات شروع کرنے سے پہلے ایک نئی مشکل کا سامنا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے وابستہ تنظیم سودیشی جاگرن منچ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسٹارلنک کو ہندوستان میں سیٹیلائٹ کے ذریعے انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کی اجازت نہ دے۔ تنظیم نے قومی سلامتی، انٹرنیٹ کی نگرانی، حساس علاقوں میں رابطہ منقطع کرنے کی حکومتی صلاحیت اور ملکی قوانین پر عمل درآمد سے متعلق خدشات ظاہر کیے ہیں۔ یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایلون مسک نے الزام لگایا تھا کہ ہندوستان میں بعض طاقتور کاروباری مفادات اسٹارلنک کی آمد میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں تاکہ موجودہ کمپنیوں کی بالادستی برقرار رہے۔  سودیشی جاگرن منچ کے قومی شریک کنوینر اشونی مہاجن کے مطابق، اسٹارلنک کے سیٹیلائٹ نیٹ ورک کی تکنیکی ساخت ہندوستان کے لیے بعض اہم انتظامی اور سلامتی سے متعلق سوالات پیدا کرتی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اسٹارلنک کے سیٹیلائٹ لیزر رابطوں کے ذریعے ایک دوسرے کو براہِ راست معلومات منتقل کر سکتے ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ بھارت میں پیدا ہونے والا انٹرنیٹ ڈیٹا ملکی زمینی مراکز کے بجائے بیرونِ ملک موجود بنیادی ڈھانچے سے گزر سکتا ہے۔ تنظیم کے مطابق، حکومت کے لیے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ انٹرنیٹ ٹریفک ملکی ضابطوں کے مطابق چلے اور متعلقہ اداروں کو قانونی نگرانی کے لیے درکار سہولت حاصل ہو۔ تاہم، یہ تنظیم کے خدشات اور دعوے ہیں؛ انہیں اسٹارلنک کی جانب سے قوانین کی خلاف ورزی کا ثابت شدہ ثبوت نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’کھوسلہ کا گھونسلہ ۲‘‘ کی نئی ریلیز تاریخ کا اعلان، سلمان کی ’’مونسٹر‘‘ سے ٹکراؤ کا امکان

تنظیم نے یہ بھی سوال اٹھایا ہے کہ اگر کسی علاقے میں دہشت گردی، فسادات، احتجاج یا امن و امان کی صورت حال کے باعث انٹرنیٹ خدمات محدود یا معطل کرنے کا حکم دیا جائے تو کیا اسٹارلنک اس پر پوری طرح عمل کر سکے گا؟ سودیشی جاگرن منچ کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس کسی مخصوص جغرافیائی علاقے میں رابطہ منقطع کرنے اور قانونی احکامات نافذ کرنے کی مؤثر صلاحیت ہونی چاہیے۔ تنظیم کے مطابق، اگر سیٹیلائٹ انٹرنیٹ روایتی مواصلاتی نظام سے الگ انداز میں کام کرے تو نگرانی اور پابندیوں کے نفاذ میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی بنیاد پر اس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق تمام شرائط پوری ہونے تک اسٹارلنک کو تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ 
اس معاملے نے ایلون مسک اور ہندوستانی ٹیلی مواصلاتی صنعت کے بڑے کاروباری اداروں کے درمیان جاری بحث کو بھی نئی توجہ دی ہے۔ مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا تھا کہ بعض طاقتور کاروباری مفادات اسٹارلنک کی ہندوستان میں آمد روک کر اپنی بالادستی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے بیان کو ریلائنس انڈسٹریز کے سربراہ مکیش امبانی اور ان کی ٹیلی مواصلاتی کمپنی جیو کے حوالے سے بھی دیکھا گیا۔ اس کے جواب میں مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ ہندوستان میں سیٹیلائٹ مواصلاتی خدمات کے لیے ضابطہ جاتی نظام منصفانہ اور غیر امتیازی ہے اور کسی بھی کمپنی کو سلامتی سے متعلق شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ حکومت کے مطابق، اسٹارلنک، جیو سیٹیلائٹ کمیونی کیشنز اور بھارتی ایئرٹیل کی حمایت یافتہ ایوٹیل ون ویب کی درخواستوں کا سلامتی کے نقطۂ نظر سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آسٹریلیا کی خواتین ٹیم نے بنگلہ دیش کو ۸؍ وکٹ سے ہرایا، سیریز بھی جیتی

اسٹارلنک ہندوستان میں سیٹیلائٹ براڈبینڈ انٹرنیٹ خدمات شروع کرنے کے لیے ضروری منظوریوں کے عمل سے گزر رہی ہے، لیکن تجارتی آغاز کے لیے حتمی اجازت ابھی باقی ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام متعلقہ کمپنیوں کو قومی سلامتی، ڈیٹا کے تحفظ اور ضابطہ جاتی تقاضے پورے کرنا ہوں گے۔ اس لیے سودیشی جاگرن منچ کا مطالبہ ایک ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب اسٹارلنک کی ہندوستان میں آمد کے بارے میں پہلے ہی بحث جاری ہے۔ 
سودیشی جاگرن منچ نے یہ تجویز بھی پیش کی ہے کہ بھارت کو اپنی مقامی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اور خدمات کو فروغ دینا چاہیے۔ تنظیم کے مطابق، ملکی کمپنیوں کے ذریعے دور دراز اور ان علاقوں تک انٹرنیٹ پہنچایا جا سکتا ہے جہاں روایتی موبائل نیٹ ورک یا براڈبینڈ کی سہولت محدود ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ مقامی نظام قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکتا ہے اور صارفین کو مناسب قیمت پر خدمات فراہم کرنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، مقامی متبادل کی قیمت، دستیابی اور تکنیکی صلاحیت کے بارے میں حتمی نتیجہ عملی پیش رفت کے بعد ہی سامنے آئے گا۔ 
مجموعی طور پر، اسٹارلنک کے معاملے نے ہندوستان میں سیٹیلائٹ انٹرنیٹ کی توسیع، قومی سلامتی، ڈیٹا کے تحفظ، حکومتی نگرانی اور غیر ملکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ضابطہ جاتی تقاضوں پر بحث تیز کر دی ہے۔ اب توجہ اس بات پر ہے کہ حکومت سلامتی سے متعلق خدشات کا جائزہ لے کر اسٹارلنک کی درخواست پر کیا فیصلہ کرتی ہے اور آیا کمپنی تمام ضروری شرائط پوری کرکے ہندوستان میں اپنی تجارتی خدمات شروع کر پاتی ہے یا نہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK