مجموعی طورپر۵۰؍فیصد پولنگ ہونے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ،پچھلے میونسپل الیکشن کی بہ نسبت اس بار پولنگ میں بہتری کا دعویٰ کیا گیا۔
ایک پولنگ مرکز کے باہر ووٹر قطار میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر:پی ٹی آئی
مہاراشٹر کی۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں کے لئے رائے دہی کا عمل جمعرات کی شام مجموعی طور پر بخیریت مکمل ہوا۔ ریاستی الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے کے مطابق مجموعی ووٹر ٹرن آؤٹ۴۶؍ سے۵۰؍ فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ ہے، جو ۲۰۱۷ء کے شہری انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن (ایس ای سی) کے اعداد و شمار کے مطابق، شام۴۰:۳؍ بجے تک ریاست بھر میں ووٹنگ کا تناسب۴۱ء۱۳؍ فیصد تھا۔ رات ۹؍بجے جب یہ خبر لکھی جارہی ہے تب تک ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کا حتمی ڈیٹا جاری نہیں کیا گیاہے۔ خیال رہے کہ ووٹوں کی گنتی آج جمعہ (۱۶؍جنوری۲۰۲۶ء) کو کی جائے گی۔
کہاں کتنی پولنگ ہوئی؟
سہ پہر ۳۰:۳؍ بجے تک ریاست کی کچھ اہم میونسپل کارپوریشنوں کی پولنگ کے مرتب کردہ اعدادوشمار کے مطابق ۲۹؍ میونسپل کارپوریشنوں میں سب سے زیادہ پولنگ کولہاپور میں درج کی گئی ،یہاں مجموعی پولنگ ۵۰ء۸۵؍فیصد رہی ۔ریاستی الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پونے میں ووٹنگ ۳۶ء۹۵؍فیصدرہی اورناگپور میں مجموعی پولنگ ۴۱ء۲۳؍ فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ اورنگ آباد میں مجموعی رائے دہی کا فیصد ۴۳ء۶۷؍رہا جبکہ ناسک میں ۳۹ء۶۴؍فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق جمعرات کو مختلف مقامات پر ووٹنگ کے دوران اس بات پر تنازع پیدا ہوا کہ ووٹ ڈالنے والے ووٹروں کی انگلیوں پر ’ناقابلِ مٹائی‘ سیاہی کے بجائے مارکر انک استعمال کی گئی۔ مہاراشٹر کے اسٹیٹ الیکشن کمشنر دنیش واگھمارے نے کہا کہ ووٹ ڈالنے کے بعد انگلیوں سے سیاہی مٹانے سے متعلق وائرل ویڈیوز کی جانچ کی جا رہی ہے، اور انہوں نے’جھوٹا بیانیہ‘ پھیلانے کی کوششوں کے خلاف کارروائی کی وارننگ دی۔ ایس ای سی نے یہ بھی وضاحت کی کہ ووٹر کی انگلی سے سیاہی کا نشان مٹانا ایک قابلِ سزا جرم ہے۔
قابل ذکر ہےکہ مختلف شہروں میں پولنگ کے عمل کے دوران سیاسی کارکنوں کے درمیان مارپیٹ کے معاملات پیش آئے ہیں۔ کئی پولنگ مراکز پر امیدواروں کے حامیوں نے ووٹروں کو لبھانے کیلئے ایک دوسرے پر پیسے بانٹنے کا الزام لگا یا ہے۔ مختلف اطلاعات کے مطابق پونے، ناگپور، اورنگ آباد سمیت کئی شہروں کے انتخابی مراکز پر سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں کے درمیان بحث و تکرار اور جھگڑے ہوئے ۔ تاہم پولیس نے سبھی جگہ پر مداخلت کرتے ہوئے حالات کو بگڑنے نہیں دیا۔ تمام ہی پولنگ مراکز پر سیکوریٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ ہنگامہ آرائی اور گڑبڑی کرنے والے افراد کو پولنگ مراکز سے کھدیڑنے کے لئے پولیس نے طاقت کا بھی سہارا لیا ہے۔اپوزیشن کی پارٹیوں کے ساتھ ساتھ برسراقتدار پارٹیوں کے نمائندوں نے بھی مختلف مقامات پر انتخابی دھاندلیوں کے الزامات لگائے اور احتجاج کیا۔
خیال رہے کہ ملک کے امیر ترین شہری ادارے بی ایم سی پر سب کی نظریں مرکوز ہیں، جہاں روایتی ایک وارڈ، ایک کارپوریٹر ماڈل کے تحت دو دہائیوں بعد کزنز ادھو ٹھاکرے اور راج ٹھاکرے دوبارہ ایک ساتھ آئے ہیں۔ایگزٹ پول کے مطابق بی جے پی کے مقابلے ان دونوں بھائیوں کے اتحاد کو مراٹھی ووٹروں نے ترجیح دی ہے۔