کرلا ٹرمنس پر فرضی مارشل سرگرم ،ماسک نہ لگانے پرمہاجرمزدوروں سے پیسے اینٹھتے ہیں

Updated: March 04, 2022, 7:53 AM IST | Mumbai

یہاں لوکمانیہ تلک ٹرمنس پر بدمعاشوں کا ایک گروہ خود کو بی ایم سی کا مارشل ظاہر کرکے مسافروں کوماسک نہ لگانے کے نام پر ان سے رقم اینٹھ رہا ہے

Fake clean-up marshals, including women, flee after seeing police.
پولیس کو دیکھ کر فرضی کلین اپ مارشل جن میں خواتین بھی ہیں ، فرار ہوتے ہوئے۔

): یہاں لوکمانیہ تلک ٹرمنس پر بدمعاشوں کا ایک گروہ خود کو بی ایم سی کا مارشل ظاہر کرکے مسافروں کوماسک نہ لگانے کے نام پر ان سے رقم اینٹھ رہا ہے۔ ان کے پاس ماسک مارشل کے جعلی یونیفارم اورفرضی آئی ڈی کارڈ بھی ہیں۔ وہ دیگر ریاستوں سے آنے والے مہاجر مزدوروں کو ہراساں کرکے رقم وصول کررہے ہیں۔ وہاں اس نمائندے نے ایک شخص کو بھی دیکھا جو خود کو صحافی ظاہر کرکے اس گروہ کے افراد کو وہاں آنے والی پولیس کی کارروائی  سے بچانے کی کوشش کررہا تھا۔ واضح رہے کہ یہ بات پہلے ہی سامنے آچکی ہے کہ جن کلین اپ مارشل کو بی ایم سی نے ماسک نہ لگانے والے شہریوں سے جرمانہ وصول کرنے کا کام دیا تھا ، وہ لوگوں سے پیسے اینٹھتے پائے گئے تھے اس لئے شہری ان سے سخت ناراض ہیں۔ کرلا ٹرمنس پر ایسے ۲۰،۲۵؍ بدمعاش پائے گئے جو مسافروں کو ہراساں کرکے پیسے اینٹھ رہے تھے۔
 لوکمانیہ تلک ٹرمنس (ایل ٹی ٹی ) شہر کا مصروف ٹرمنس ہے جہاں روزانہ ۱۰؍ ہزار افراد آتے ہیں۔ یہ فرضی کلین اپ مارشل ریلوے بریج کے نیچے مسافروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس بارے میں بی ایم سی مارشل کے ٹھیکیدار گنیش چوان نے بتایا کہ  انہوں نے ان چوروں کے بارے میں پولیس اور میونسپل افسران سے شکایت کی تھی، اس کے باوجود یہ گینگ سرگرم ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کئی مرتبہ ان افراد کو متنبہ کیا تھا۔ چوان نے مزید کہا کہ ’’ہم نے اس علاقے میں ۱۰؍ مارشل تعینات کئے ہیں۔ یہ جعلی مارشل ۶،۷؍ مہینے پہلے یہاں آئے تھے۔ اس علاقے میں جھوپڑپٹیاں ہیں۔ یہ لوگ مسافروں سے بڑی بدتمیزی سے پیش آتے ہیں اور ان کی پٹائی بھی کرتے ہیں۔ ہمارے مارشل صرف ان افراد سے جرمانہ وصول کرتے ہیں جو ماسک نہیں لگاتے ہیں اور ہم انہیں رسید دیتے ہیں لیکن یہ جعلی مارشل لوگوں سے یہی رسید جمع کرلیتے ہیں اور اسے دیگر افراد سے جرمانہ وصول کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔‘‘ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ’’میں نے ایک شخص کی تصویر بھی اتاری تھی جس کا نام راہل تھا اور وہ مسافروں سے جرمانہ وصول کررہا تھاتواس کی گینگ نے ہمیں دھمکی دی تھی۔ یہ صرف غنڈہ گردی ہے۔ کئی مواقع پر ہم نے انہیں مسافروں کو ہراساں کرنے سے روکا تھا۔ جب کبھی پولیس وہاں پہنچتی تھی تو وہ جھوپڑپٹیوں میں فرار ہوجاتے تھے۔انقلاب /مڈڈے کے فوٹوجرنلسٹ سیّد سمیر عابدی نے بھی ایسے فرضی مارشلوں کی تصاویر اپنے کیمرے میں قید کی ہیں۔ حال ہی میں اس تعلق سے شکایت ملنے پر جب پولیس کرلا ٹرمنس پہنچی تو وہ لوگ بھاگ کر بریج کے نیچے پہنچے اورفرار ہونے سے قبل اپنے یونیفارم اتاردیئے ۔ جیسے ہی پولیس اہلکار وہاں پہنچے،ایک شخص خود کوصحافی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کے پاس پہنچا اور انہیں بتایا کہ ’’پہلے پولیس اہلکار ان کا انتظام کررہے تھے۔‘‘ تو اس پر پولیس افسر نے جواب دیا کہ ’’اب وہ پرانا عملہ جاچکا ہے۔ ہم یہاں کسی فرضی مارشل کو اجازت نہیں دیں گے۔‘‘
 بی ایم سی کے ایگزیکٹیو انجینئر مہادیوشندے جو ایل وارڈ کے انچارج بھی ہیں اور اسسٹنٹ  میونسپل کمشنر کے عہدے پر بھی فائز ہیں ، نے اس کی تصدیق کی کہ انہیں تواتر سے فرضی مارشلوں کے بارے میں شکایتیں ملتی رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ چند دن قبل ہمیں ایک مسافر کی جانب سے فون موصول ہوا تھا اور ہم نے اس مارشل کا آئی ڈی کارڈ چیک کرنے کو کہا تھا۔ تاہم وہ مارشل اسے دھمکانے لگا۔‘‘ شندے کے مطابق کرلاٹرمنس کے باہر جھوپڑپٹیاں ہیں اور جرائم پیشہ افراد وہیں رہتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ’’ہم اپنے ساتھ پولیس کو لے کر سیدھے وہاں نہیں جاتے۔ چند دنوں قبل پولیس انہیں پکڑنے پہنچی تو وہ فرار ہوگئے۔ ہم نے پولیس کوکرلا ٹرمنس پر  مارشلوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور اگر کوئی جعلی مارشل نظرآئے تو ان کے خلاف کارروائی کا کہا ہے۔‘‘ مہادیوشندے کے مطابق ’’ہرشہری کو چاہئے کہ جرمانہ ادا کرنے سے قبل آئی ڈی کارڈ کی جانچ کرے۔ پولیس انہیں پکڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ ہمیں ایسی شکایتیں بھی موصول ہوئی ہیں کہ لوگوں نے خود فون کرکے بتایا کہ مارشل یونیفارم میں نہیں ہیں یا ان کے پاس آئی ڈی کارڈ نہیں ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK