لکھیم پور کھیری سانحہ پر راکیش ٹکیت نے مرکزی وزیر اجے مشرا کےفوری استعفیٰ کی بھی مانگ کی، متنبہ کیا کہ کسانوں کے ساتھ جو سمجھوتہ ہواتھا اس پر ہفتے بھر میںعمل نہ ہواتو ملک گیر احتجاج کیا جائیگا
EPAPER
Updated: October 07, 2021, 8:04 AM IST | lakhimpur kheri
لکھیم پور کھیری سانحہ پر راکیش ٹکیت نے مرکزی وزیر اجے مشرا کےفوری استعفیٰ کی بھی مانگ کی، متنبہ کیا کہ کسانوں کے ساتھ جو سمجھوتہ ہواتھا اس پر ہفتے بھر میںعمل نہ ہواتو ملک گیر احتجاج کیا جائیگا
تکونیا ہنگامہ کے معاملہ میں ابھی تک پولیس کی جانب سے کسی گرفتاری کے نہ ہونے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے حکومت کو انتباہ دیا ہے کہا کہ سرکار سے سمجھوتہ اس بات پر ہوا ہے کہ مرکزی وزیر کو برطرف کیا جائے اور ان کے کلیدی ملزم بیٹے کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سرکار کے پاس ایک ہفتہ کا وقت ہے، اگر کارروائی نہیں ہوئی تو بڑی تحریک چلائی جائے گی۔
ملک گیر تحریک کا انتباہ
لکھیم پور ہاتھی پور گرودوارہ گرو سنگھ سبھا پہنچنے پر راکیش ٹکیت نے نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے اوپر گاڑی چڑھانے والے لوگ بہت ہی خونخوار بدمعاش ہیں، جنہیں آدم خور کہا جاسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو بخشا نہیں جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سرکار سے سمجھوتہ اس بات پر ہوا ہے کہ مرکزی وزیر ۱۲۰-بی(سازش) کے ملزم ہیں، انہیں برطرف کیا جائے اور ان کا بیٹا دفعہ ۳۰۲؍ کا کلیدی ملزم ہے، اسے گرفتار کرکے جیل بھیجا جائے۔ سرکار کو ایک ہفتہ کا وقت دیا گیا ہے۔ اگر اس درمیان کارروائی نہیں ہوئی تو بڑی تحریک چلائی جائے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکار یہ نہ سمجھے کہ ۴۵؍ لاکھ روپے پر سمجھوتہ ہوا ہے۔ اگر سمجھوتہ پیسے پر ہوا ہے تو سرکار اپنا اکاؤنٹ نمبر دے دے، سارا پیسہ واپس کردیا جائے گا۔ ہماری دو ہی مانگیں ہیں کہ وزیر کو برخاست کیا جائے اور ان کے بیٹے کو جیل بھیجا جائے۔ یاد رہے کہ لکھیم پور کھیری میں کسانوں پر گاڑی چڑھا کر ۴؍ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دینے کےمعاملے میں یوگی سرکار نے جن کسان لیڈروں کے ساتھ بات چیت کرکے سمجھوتہ اور متاثرین کو لاشوں کی آخری رسوم ادا کرنے کیلئے راضی کیاتھا ان میں راکیش ٹکیت کلیدی حیثیت کے حامل تھے۔ وہ اب بھی لکھیم پور کھیری میں ہی موجود ہیں۔
اجے مشرا وزیر کیسے رہ سکتے ہیں: ٹکیت
اس سمجھوتے کے ۲؍ دن بعد بھی ملزمین کی گرفتاری نہ ہونے پر ٹکیت نے بدھ کو پریس کانگرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ ’’(کسانوں کی اموات پر) ہمارا احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ ہم سمجھوتے کے بعد سے ۸؍ دن تک انتظا ر کریں گےاگر مطالبات منظور نہیں ہوئے تو ملک گیر احتجاج کیا جائےگا۔ ‘‘ٹکیت نے بتایا کہ پولیس کے ساتھ بات چیت میں جو سمجھوتہ ہواتھا وہ مہلوکین کے اہل خانہ کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد ہوا تھا اور سب نے اس پر ’’اطمینان‘‘ کااظہار کیاتھا۔
راکیش ٹکیت نے حیرت کااظہار کیا کہ ’’جب ان کے بیٹے پر اتنے سنگین الزامات ہیں تو وہ وزارت پر کیسے رہ سکتے ہیں۔‘‘ کسان لیڈر دھرمیندر ملک نے کہا کہ ’’ایف آئی آر میں وزیر کا بھی نام ہے۔ غیر جانبدارانہ جانچ کیلئے ضروری ہے کہ مرکزی حکومت انہیں برطرف کردے۔ ‘‘ انہوں نے منو آشیش عرف منو مشرا کی گرفتاری کا مطالبہ بھی دہرایا۔