مرکزی وزیر کے بیٹے کی گاڑی سےکچل کر جان گنوانے والے کسانوں کے اہل خانہ کو یوگی سرکار میں انصاف ملنے کی امید نہیں، سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے
EPAPER
Updated: April 01, 2022, 1:19 AM IST | lakhimpur kheri
مرکزی وزیر کے بیٹے کی گاڑی سےکچل کر جان گنوانے والے کسانوں کے اہل خانہ کو یوگی سرکار میں انصاف ملنے کی امید نہیں، سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے
لکھیم پور کھیری میں مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کی گاڑی سے کچل کر فوت ہونےوالے ۴؍ کسانوں کے اہل خانہ نے مقدمہ یوپی کے باہر منتقل کرنے کی مانگ کی ہے۔ متاثرین کے اہل خانہ نے اعلان کیا ہے کہ اس کیلئے وہ جلد ہی سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹا سکتے ہیں۔
جمعرات کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے گرویندر سنگھ کے بڑے بھائی گرسیوک سنگھ نے کہا کہ ’’کیس دہلی میں منتقل کیا جانا چاہئے۔ہم سبھی جانتے ہیں کہ کارروائی یہاں متاثر ہو رہی ہے۔ کسانوں کو دھمکی دینے والا ویڈیو وائرل ہونے کے باوجود مرکزی وزیر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اتر پردیش حکومت کا رویہ الگ ہے۔ اتر پردیش میں انصاف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم سب جانتے ہیں کہ جب ملزم ان کی اپنی پارٹی کے ہوںتو بی جےپی حکومت کا رویہ بدل جاتا ہے۔ اتر پردیش میں انصاف کی کوئی امید نہیں ہے۔ جس طرح سے عینی شاہد کے ساتھ ہاتھا پائی کی گئی اور پولیس نے کیس بند کردیا،اس سے بھی یہ بات واضح ہوجاتی ہے۔‘‘
تشدد میں مارے گئے۱۹؍ سالہ لوپریت سنگھ کے والد ستنام سنگھ نے شکایت کی کہ ’’سبھی ثبوت ہونے کے باوجود ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ ہم ہاری ہوئی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ریاستی حکومت ملزمین کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیر برسرعام بیان دے رہے ہیں کہ انھوں نے لکھیم پور کھیری میں بی جے پی کی جیت کے ذریعہ اپنی بے گناہی ثابت کردی ہے۔‘‘
نچھتر سنگھ جو اس حادثے میں مارے گئے اوران کا ویڈیو وائرل ہوا تھا کہ کس طرح گاڑی کی ٹکر لگنے سے دور جاکر گرے تھے، ان کے بیٹے جگدیپ سنگھ کو بھی یوپی میں یوگی حکومت کی موجودگی میں انصاف ملنے کی امید نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’’ اتر پردیش میں انصاف ملنا ممکن ہی نہیں ہے ۔ ایس آئی ٹی نے عدالت میں ثبوت پیش کیا کہ واردات (ڈرائیور کی )لاپروائی کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ پہلے سے منصوبہ بند سازش کا حصہ تھی مگر عدالت نے کلیدی ملزم کو آسانی سے ضمانت دیدی۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’ یہ ملک کے سب سے اندوہناک جرائم میں سے ایک تھا۔ ہم جلد ہی کیس کو دہلی یا کہیں اور منتقل کرنے کیلئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔‘‘
یاد رہے کہ لکھیم پور میں مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کے بیٹے کی گاڑیوں کے قافلے نے احتجاج سے لوٹ رہے کسانوں کو کچل دیا تھا۔ الزام ہے کہ کسانوں کو احتجاج کی جرأت کرنے پر انہیں مزہ چکھانے کیلئے جان بوجھ کر گاڑیاں مظاہرین پر چڑھائی گئیں۔اس معاملے میں کلیدی ملزم آشیش مشرا کی گرفتاری معاملہ سپریم کورٹ پہنچنے کے بعد ہوئی تاہم اسمبلی الیکشن کے دوران اسے ضمانت بھی مل گئی۔اتنا ہی نہیں آشیش مشرا کے والد اجے مشرا مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ ہیں اور اس مطالبے کے باوجود کہ وہ جانچ کو متاثر کرسکتے ہیں، مودی حکومت نےانہیں عہدہ سے نہیں ہٹایا۔
یوپی اسمبلی الیکشن میں لکھیم پور کی تمام سیٹیں جیت لینے کے بعد بی جےپی اسے اس بات کی توثیق کے طور پر پیش کررہی ہے کہ اس کے لیڈروں پر عائد کیا گیا الزام غلط ہے اور عوام نے اس ضمن میں اپنا فیصلہ سنا دیاہے۔