راکیش ٹکیت متاثرین سے ملنے پہنچے، حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام، نشاندہی کی کہ متاثرہ خاندانوں کو نوکری ملی نہ ان کے خلاف درج مقدمات واپس لئے گئے
EPAPER
Updated: October 04, 2022, 10:19 AM IST | Jilani Khan | Lucknow
راکیش ٹکیت متاثرین سے ملنے پہنچے، حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام، نشاندہی کی کہ متاثرہ خاندانوں کو نوکری ملی نہ ان کے خلاف درج مقدمات واپس لئے گئے
:لکھیم پور کھیری میں کسانوں پر گاڑی چڑھاکرہلاک کردینے کے دلدوز سانحہ کی پہلی برسی پر پیر کو کسان لیڈر راکیش ٹکیت متاثرہ خاندانوں سے ملنے پہنچے۔ا نہوں نے اس موقع پر حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام عائدکیا اور کہا کہ قصوروار ابھی بھی سزا سے دور ہے جبکہ متاثرہ کنبے انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں۔ہم سے کئے گئے وعدوں میں سے صرف معاوضہ اور مالی امداد کا وعدہ حکومت نے پورا کیا ہے باقی تمام وعدے وہ بھول گئی ہے۔ٹکیت نے کہا کہ متاثرہ کنبوں کوسرکاری ملازمت ملی نہ ہی خواتین پر سے درج مقدمات واپس لئے گئے ہیں۔
راہل اور پرینکا نے بھی وعدہ یاد دلایا
مہلوک کسان نچھترسنگھ کے بیٹے نے اس موقع پر کہاکہ ’’آج کا دن ہمارے لئے یوم سیاہ ہے، جسے ہم کبھی نہیں بھول سکتے۔ادھر کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور پرینکاگاندھی نے بھی ٹویٹ کرکے حکومت کو اس کے وعدے یاد دلائے اور کہا ہے کہ جو وزیراتنے بڑے واقعہ کےلئے ذمہ دار تھا، اس کی ابھی بھی عہدے پر برقراری سے بی جے پی کا کسان مخالف چہرہ سب کے سامنے ہے۔ریاستی راجدھانی لکھنؤ سے تقریباً ۲۰۰؍کلومیٹر دورلکھیم پور کھیری ضلع کے تکونیا میں گزشتہ برس ۳؍ اکتوبرکوپیش آئے دردناک واقعہ کا پیر کو ایک سال مکمل ہونے پرکسانوں نے اپنے شہید ساتھیوں کے لئے’ پرارتھنا سبھا‘کا انعقاد کیا جس میں بھارتیہ کسان یونین کے قومی جنرل سکریٹری راکیش ٹکیت بھی شامل ہوئے۔
ٹکیت کی یوگی اور مودی سرکار پر تنقید
کسان تحریک کے نمایاں چہرہ رہے ٹکیت نے پیر کو پھر بی جے پی حکومت پر بھڑاس نکالتے ہوئے کہا کہ شہادت کے ایک برس بعد بھی ان کسانوں کے کنبوں کو انصاف نہیں ملا ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ہماری جن شرطوں کو پورا کرنے کا بھروسہ دلایا تھا وہ اب بھی ادھوری ہیں۔ٹکیت نے میڈیا سے مختصر بات چیت میں کہا کہ متاثہ کنبوں کے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینےکا یوگی حکومت نے وعدہ کیا تھا مگر ایک کو بھی نوکری نہیں ملی ہے۔
۲۶؍ نومبر سے پھر تحریک کا انتباہ
اسی طرح،خواتین پر درج مقدمے بھی واپس لینے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر سرکار یہ وعدہ بھی پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہید کسانوں کے اہل خانہ کو انصاف ملنا چاہئے، ایک۔ ایک فرد کو سرکار نوکری دےاور قصورواروں کو جلد از جلد سزاکو یقینی بنائے۔راکیش ٹکیت نے یہ بھی اعلان کیا کہ کسان ۲۶؍ نومبر کو پھر سےملک گیر تحریک چھیڑیں گے اور لکھیم پور کے شہیدوں کے انصاف ملنےاورکسانوں کے باقی دیگر مطالبات پورے ہونے تک ہماری لڑائی جارہی رہے گی۔
اس سے قبل اتوار کو ٹکیت نے کہا تھا کہ موجودہ بر سر اقتدار جماعت اور حکومت ملک کی آئین میں یقین کرتی ہے نہ لیگل سسٹم میں۔ اسے انصاف میں یقین نہیں ہے ، برعکس اس کےوہ اپنے اختیارات کابیجا استعال ضرور کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حال ہی میں دہلی میں سہ روزہ دھرنا بھی دیا جس میں ۵۰؍ہزار سے زائد کسان جمع ہوکر اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھے تھے۔ یہ تمام وہ مطالبات تھے، جن پر عمل کی یقین دہانی مرکزی حکومت نے پہلے کرائی تھی۔مگر، اب وہ سب کچھ بھول چکی ہے۔
مہلوکین کے اہل خانہ کو انصاف کا انتظار
کسانوں کی شہادت کی برسی کے موقع پر راہل گاندھی نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ شہید کسانوں کے اہل خانہ ابھی بھی انصاف کی راہ دیکھ رہے ہیں جبکہ بی جے پی حکومت ہمیشہ کی طرح مجرموں کو بچانے میں لگی ہوئی ہے۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’ بی جے پی حکومت کا کسان مخالف چہرہ پھر سب کے سامنے ہے۔ لکھیم پور واقعہ کے ایک سال بعد بھی وہ وزیر اپنے عہدہ پر برقرار ہے، جسے اس سانحہ کیلئے قصوروار مانا گیا۔ٹرائل سست پڑ چکی ہے جبکہ متاثرہ کنبے مایوس ہوچکے ہیں
سکھوں نے بھی صدائے احتجاج بلند کی
لکھیم پور کھیری واقعہ پر بھارتیہ سکھ سنگٹھن کے چیئر مین جسبیر سنگھ ورک نے کہا کہ حکومت ابھی ابھی اس وزیر کو بچارہی ہے جس کے سبب اتنے کسان مارے گئے اور ایک صحافی ہلاک ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہماری درخواست ہے کہ حکومت کم از کم اب تو اس معاملے میں کارروائی کو یقینی بنائےاور مذکورہ وزیر کو معطل کرے۔‘‘