• Thu, 15 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بجٹ سے قبل فکّی نے کئی اہم مطالبات پیش کئے

Updated: January 15, 2026, 3:34 PM IST | Agency | New Delhi

ملک کی سب سے بڑی صنعتی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ انکم ٹیکس اپیل سسٹم اور کسٹم قوانین و ضوابط میں اصلاحات کا اعلان کیا جائے۔

Industry body FICCI has given several important suggestions and advice to Finance Minister Nirmala Sitharaman. Picture: INN
صنعتی تنظیم فکی نے وزیر مالیات نرملا سیتا رمن کو کئی اہم تجاویز اور مشورہ دئیے ہیں۔ تصویر: آئی این این
ہر سال بجٹ سے پہلے، صنعتی تنظیمیں، ٹیکس کے نظام کو آسان بنانے اور اسے مزید کاروبار دوست بنانے کے لیے حکومت کو اپنی ترجیحات پیش کرتی  ہیں۔ اس بار ملک کی سب سے بڑی صنعتی تنظیم فکّی  نے بجٹ کے  لئے اہم تجاویز پیش کی ہیں۔ خاص طور پر انکم ٹیکس اپیل سسٹم اور کسٹم اصلاحات پر توجہ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔فکی کا ماننا ہے کہ ، ٹیکس تنازعات کا طویل بیک لاگ کمپنیوں اور حکومت دونوں کے  لئے نقصان دہ ہے۔ ایک طرف کمپنیوں کا پیسہ اپیل کے عمل میں پھنس جاتا ہے اور دوسری طرف حکومت وقت پر ریوینیو وصول نہیں کرپاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بجٹ میں ٹھوس حل کی ضرورت پر زوردیا گیا ہے۔
فکی کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس کمشنر آف اپیل کے سامنے بڑی تعداد میں معاملات بیک لاگ ہیں۔ صر ف یکم اپریل ۲۰۲۵ء تک تقریباً ۴ء۵؍ لاکھ اپیل کیسیز زیر التوا تھے۔ ان معاملات میں تقریباً ۱۶؍ لاکھ کروڑ روپے کی متنازع رقم شامل ہے۔ انڈسٹری باڈی نے کہا کہ اپیل سسٹم کے کامیاب ہونے کے لیے ضروری ہے کہ ان زیر التواء کیسیز کو تیزی سے حل کیا جائے۔ ایسا کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں ٹیکس دہندگان کو ڈیمانڈ اور ریفنڈ دونوں میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔سینٹرل ایکشن پلان کے تحت حکومت نے ۲؍ لاکھ مقدمات کو حل کرنے کا ہد ف مقرر کیا ہے۔ مزید، تقریباً ۱۰؍ لاکھ کروڑ روپے کے متنازع مطالبات کو بین الاقوامی ٹیکس، ٹرانسفر پرائسنگ اور فیس لیس اپیلوں سمیت مختلف چینلز کے ذریعے حل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ صلاحیت میں اضافہ اور علیحدہ ٹریکس اور ٹائم لائنز قائم  کئےبغیر بیک لاگ کا نمٹارا مشکل ہوگا۔
فکی کے مطابق، بقایا ٹیکس قانونی چارہ جوئی کمپنیوں کی بُک پر ایک ہنگامی ذمہ داری کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ جب ہندوستانی پروموٹر غیر ملکی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرتے ہیں، تو یہ زیر التواء مقدمات قدروں کو کم کردیتے ہیں۔ مزید ، حکومت طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات کی وجہ سے ممکنہ آمدنی سے بھی محروم ہو جاتی ہے۔صنعتی انجمنوں نے تجویز دی ہے کہ اپیلیں زیر التوا ہونے پر ٹیکس مطالبات کی مکمل معطلی کے نظام کو مزید معقول بنایا جائے۔ اس سے ٹیکس دہندگان کے لیے ورکنگ کیپیٹل کی رکاوٹیں کم ہوں گی اور ریوینیو کے مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر نظام کو ہموار کیا جائے گا۔
فکی نے اس کے ساتھ ہی کسٹم کے ضوابط میں تبدیلی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ایڈوانس رولنگ کیلئے کسٹمز ایڈوانس رولنگ اتھاریٹی کے دفاتر ملک بھر کے مزید شہروں میں کھولے جائیں۔ فی الحال، دفاتر صرف نئی دہلی اور ممبئی میں ہیں جبکہ چنئی، حیدرآباد، اور کولکاتا جیسی بندرگاہوں سے تجارت سے متعلق بڑی تعداد میں درخواستیں موصول ہوتی ہیں۔فکی نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ خود اعلانیہ توسیع کی اجازت دی جائے۔ اس سے تجارت کی وضاحت میں اضافہ ہوگا، تعمیل کا بوجھ کم ہوگا، اور کسٹم قانونی چارہ جوئی میں کمی ہوگی۔ بجٹ ۲۰۲۶ء سے پہلے فکی کی یہ سفارشات واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ صنعت ٹیکس کے تنازعات کے فوری حل اور کسٹم نظام کی جدید کاری کو اولین ترجیح سمجھتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK