ارجنٹائنا فٹبال اسوسی ایشن اور کئی کھلاڑیوں پر عائد الزامات میں سب سے نمایاں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل کے بعد فاکلینڈ جزائر سے متعلق سیاسی بینر لہرانا ہے، جس پر لاس مالویناس ارجنٹائنا کا حصہ ہیں درج تھا۔
EPAPER
Updated: July 30, 2026, 6:09 PM IST | Zurich
ارجنٹائنا فٹبال اسوسی ایشن اور کئی کھلاڑیوں پر عائد الزامات میں سب سے نمایاں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل کے بعد فاکلینڈ جزائر سے متعلق سیاسی بینر لہرانا ہے، جس پر لاس مالویناس ارجنٹائنا کا حصہ ہیں درج تھا۔
فیفا نے ورلڈ کپ کے دوران مبینہ ضابطہ خلاف ورزیوں پر ارجنٹائنا فٹبال اسوسی ایشن (اے ایف اے) اور متعدد کھلاڑیوں کے خلاف باضابطہ تادیبی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹائنا فٹبال اسوسی ایشن اور کئی کھلاڑیوں پر عائد الزامات میں سب سے نمایاں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل کے بعد فاکلینڈ جزائر سے متعلق سیاسی بینر لہرانا ہے، جس پر لاس مالویناس ارجنٹائنا کا حصہ ہیں درج تھا۔
یہ بھی پڑھئے:’’تھیٹرس کو وقت دینےکی وجہ سے میں فلموں پر توجہ نہیں دے سکی ‘‘
فیفا کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے مقابلوں کو سیاسی پیغام رسانی یا مظاہروں کے لیے استعمال کرنا ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔ عالمی ادارے نے یاد دلایا کہ ۲۰۱۴ء میں بھی اسی نوعیت کے بینر کی نمائش پر ارجنٹائن کو جرمانہ کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق ٹورنامنٹ کے دوران امتیازی نعروں، نامناسب اشاروں، میچوں کے تاخیر سے آغاز، سیکیورٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی، شائقین کی جانب سے میدان میں اشیاء پھینکنے اور دیگر غیر کھیلوں کے رویوں کی بھی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:مَیں رتیک جیسا لگتا ہوں: کنگنا کے طنز پر سی جے پی ترجمان سوراو داس کا جواب
دوسری جانب اسپین اور ارجنٹائنا کے درمیان فائنل کے بعد پیش آنے والے ہنگامے کے سلسلے میں بھی کئی کھلاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔ ارجنٹائن کے لیانڈرو پاریڈیس پر تین جبکہ نہویل مولینا پر دو الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مولینا، تھیاغو المادا، ٹیم آفیشل رابرٹو ایالا اور اسپین کے گاوی پر بھی غیر کھیلوں کے رویے کا ایک، ایک الزام عائد کیا گیا ہے۔ فیفا کے مطابق تمام متعلقہ فریقوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا ہے، جس کے بعد ڈسپلنری کمیٹی حتمی فیصلہ سنائے گی۔