• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

۶۳؍سال کی عمر میں فلمسازآنند پنڈت ۷؍ دن میں ۳۳۳؍ کلومیٹر سائیکلنگ کرتے ہیں

Updated: October 26, 2026, 6:50 PM IST | Christchurch

فلم پروڈیوسر اور رئیل اسٹیٹ کاروباری شخصیت آنند پنڈت نے ۶۳؍ سال کی عمر میں نیدرلینڈز میں سات دن کے دوران ۳۳۳؍ کلومیٹر سائیکلنگ کرکے ثابت کردیا ہے کہ اگر انسان مستقل مزاجی، مناسب تیاری اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنائے تو بڑھتی عمر میں بھی جسمانی سرگرمیوں اور طویل فاصلے کے سفر کا لطف اٹھا سکتا ہے۔

Anand Pandit.Photo:X
آنند پنڈت۔ تصویر:ایکس

فلم پروڈیوسر اور رئیل اسٹیٹ کاروباری شخصیت آنند پنڈت نے ۶۳؍ سال کی عمر میں نیدرلینڈز میں سات دن کے دوران ۳۳۳؍ کلومیٹر سائیکلنگ کرکے ثابت کردیا ہے کہ اگر انسان مستقل مزاجی، مناسب تیاری اور صحت مند طرزِ زندگی کو اپنائے تو بڑھتی عمر میں بھی جسمانی سرگرمیوں اور طویل فاصلے کے سفر کا لطف اٹھا سکتا ہے۔ ان کا یہ سائیکلنگ سفر صرف جسمانی برداشت کا امتحان نہیں تھا بلکہ ذہنی سکون، خود احتسابی اور روزمرہ کی مصروفیات سے کچھ وقت نکالنے کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ 
آنند پنڈت نے اپنے اس سفر کے دوران نیدرلینڈز کے مختلف شہروں اور سائیکلنگ راستوں کا سفر کیا۔ ان کے سفر میں وینلو، آئندھوون، بریڈا، روٹرڈیم، دی ہیگ اور ہارلیم سمیت کئی مقامات شامل تھے۔ سات دنوں میں ۳۳۳؍ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا اس بات کی مثال ہے کہ طویل دورانیے کی جسمانی سرگرمی کے لیے صرف طاقت ہی نہیں بلکہ مسلسل محنت، رفتار پر قابو، برداشت اور مناسب آرام بھی ضروری ہوتے ہیں۔
آنند پنڈت نے اپنے پیشہ ورانہ کام اور روزمرہ کی مصروفیات سے کچھ وقت الگ گزارنے کے مقصد سے یہ سائیکلنگ سفر کیا۔ ان کے مطابق، سالانہ سائیکلنگ کے اس وقفے کا اصل مقصد محض زیادہ سے زیادہ فاصلہ طے کرنا نہیں، بلکہ کام، ٹیکنالوجی اور روزمرہ کے معمولات سے دور ہوکر خود کو وقت دینا، نئے لوگوں سے ملنا اور اپنے خیالات کو سکون کے ساتھ سمجھنا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:آئی آئی ٹی طالبعلم کیلئے کینڈل مارچ، مظاہرین پر پولیس کی سختی

آنند پنڈت نے اپنے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بعض اوقات روزمرہ کی ذمہ داریوں سے کچھ دیر کے لیے دور ہونا انسان کو زندگی کے بارے میں ایک نیا نقطۂ نظر فراہم کرتا ہے۔ مسلسل کام اور مصروفیات کے درمیان ذہن کو سکون دینے کا موقع ملے تو انسان زیادہ واضح انداز میں سوچ سکتا ہے اور اپنی ترجیحات کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔ ان کا سائیکلنگ سفر اس بات کی جانب بھی توجہ دلاتا ہے کہ صحت کا تعلق صرف جسمانی ورزش سے نہیں، بلکہ ذہنی تازگی اور زندگی میں توازن برقرار رکھنے سے بھی ہے۔ فطرت کے قریب وقت گزارنا، نئے مقامات دیکھنا اور روزمرہ کے معمولات سے وقفہ لینا بہت سے لوگوں کے لیے ذہنی سکون کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ 
ماہرین کے مطابق، مناسب تیاری اور صحت کی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے سائیکلنگ بڑی عمر کے افراد کے لیے ایک مفید جسمانی سرگرمی ثابت ہوسکتی ہے۔ ماہر غذائیت اور فٹنس ماہر گریما گوئل کے مطابق، سائیکل چلانا دل اور پھیپھڑوں کی کارکردگی بہتر بنانے، جسمانی برداشت بڑھانے اور ٹانگوں کے پٹھوں کو مضبوط رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
دوڑنے جیسی زیادہ جھٹکے والی سرگرمیوں کے مقابلے میں سائیکلنگ میں جوڑوں پر نسبتاً کم بار بار دباؤ پڑتا ہے۔ تاہم، یہ ہر شخص کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتی؛ اس کا انحصار فرد کی مجموعی صحت، جوڑوں کی حالت اور پہلے سے موجود جسمانی فٹنس پر ہوتا ہے۔ بڑھتی عمر میں باقاعدہ جسمانی سرگرمی نقل و حرکت برقرار رکھنے، خود مختاری میں مدد دینے اور معیارِ زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ 
سات دنوں میں ۳۳۳؍ کلومیٹر سائیکل چلانے جیسی سرگرمی کے لیے جسم کو مسلسل توانائی درکار ہوتی ہے۔ اس دوران مناسب غذا، پانی کی فراہمی اور جسم کو صحت یاب ہونے کا وقت دینا انتہائی اہم ہے۔فٹنس ماہرین کے مطابق: متوازن غذا: کاربوہائیڈریٹس طویل جسمانی سرگرمی کے دوران توانائی فراہم کرتے ہیں، جبکہ پروٹین پٹھوں کی مرمت اور بحالی میں مدد دیتا ہے۔  پانی اور نمکیات: پسینے کے ذریعے خارج ہونے والے سیال اور نمکیات کی کمی پوری کرنا ضروری ہے، خصوصاً طویل سفر یا گرم موسم میں۔  مناسب نیند: اچھی نیند اور ورزش کے بعد آرام جسم کو اگلے دن کی سرگرمی کے لیے تیار کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ آہستہ آہستہ مشق میں اضافہ: سائیکلنگ کا دورانیہ اور فاصلہ بتدریج بڑھانے سے جسم کو اضافی مشقت کے مطابق ڈھلنے کا موقع ملتا ہے۔ طاقت اور توازن کی مشقیں: بڑی عمر میں سائیکلنگ کے ساتھ پٹھوں کو مضبوط بنانے اور جسمانی توازن بہتر کرنے والی ورزشیں بھی اہم ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’جولی ایل ایل بی ۴‘‘ میں اکشے کمار نہیں ہوں گے؟ ارشد وارثی مرکزی کردار میں

آنند پنڈت کی مثال یقیناً حوصلہ افزا ہے، لیکن ہر شخص کے لیے ۳۳۳؍ کلومیٹر سائیکلنگ کا ہدف مقرر کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ ہر فرد کی جسمانی صلاحیت، دل کی صحت، ادویات اور پہلے سے موجود بیماریوں کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ جو افراد طویل عرصے سے ورزش نہیں کررہے یا کسی دائمی بیماری میں مبتلا ہیں، انہیں طویل فاصلے کی سائیکلنگ شروع کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کرنا چاہیے۔ ابتدا مختصر اور آسان سفر سے کرکے بتدریج دورانیہ بڑھانا زیادہ محفوظ طریقہ ہے۔آنند پنڈت کا سات روزہ سائیکلنگ سفر ایک اہم پیغام دیتا ہے: عمر بڑھنے کا مطلب سرگرمیوں کو محدود کردینا نہیں، بلکہ اپنی صحت کے مطابق متحرک رہنے، جسم کا خیال رکھنے اور ذہنی سکون کے لیے وقت نکالنے کی اہمیت کو سمجھنا ہے۔ مستقل مزاجی، متوازن غذا، مناسب آرام اور احتیاط کے ساتھ بڑھتی عمر میں بھی صحت مند اور فعال زندگی گزارنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK