آسام بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ سیکیا نے کہا کہ یہ پوسٹ پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک رکن نے باضابطہ منظوری کے بغیر اپ لوڈ کی تھی، اسے برطرف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس اپ لوڈنگ کو ”ناپختہ“ اور ”بدانتظامی“ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 7:18 PM IST | Guwahati
آسام بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ سیکیا نے کہا کہ یہ پوسٹ پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک رکن نے باضابطہ منظوری کے بغیر اپ لوڈ کی تھی، اسے برطرف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے اس اپ لوڈنگ کو ”ناپختہ“ اور ”بدانتظامی“ قرار دیا۔
بی جے پی کی آسام اکائی نے سوشل میڈیا پر تنقید کا ہدف بننے والے متنازع ویڈیو کو ”غیر مجاز“ قرار دیا ہے جس میں وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا شرما کو علامتی طور پر مسلمانوں کی تصاویر پر گولیاں چلاتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ اس پوسٹ پر سیاسی ردِعمل اور تنقید میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
متنازع ویڈیو گزشتہ ہفتے سنیچر کو آسام بی جے پی کے آفیشل ’ایکس‘ اکاؤنٹ سے شیئر کیا گیا تھا۔ ویڈیو پر بڑے پیمانے پر تنقید اور تنازع کے بعد اسے ڈیلیٹ کردیا گیا تھا۔ ویڈیو میں شرما کے رائفل سنبھالنے کے ویڈیو کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایسے مناظر کے ساتھ جوڑا گیا تھا جن میں مسلمانوں کو بطور ہدف دکھایا گیا تھا۔ ویڈیو پر ”غیر ملکیوں سے پاک آسام“، ”کوئی رحم نہیں“ اور ”تم پاکستان کیوں نہیں گئے؟“ جیسے نعرے بھی درج تھے۔
بی جے پی کی صفائی
آسام بی جے پی کے ریاستی صدر دلیپ سیکیا نے کہا کہ یہ پوسٹ پارٹی کی سوشل میڈیا ٹیم کے ایک رکن نے باضابطہ منظوری کے بغیر اپ لوڈ کی تھی۔ ریاستی اکائی کے سوشل میڈیا سیل کے چار کو-کنوینرز میں سے ایک کو برطرف کردیا گیا ہے۔ سیکیا نے اس اپ لوڈنگ کو ”ناپختہ“ اور ”بدانتظامی“ قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ کو-کنوینرز کو معمول کی اپ ڈیٹس جیسے مبارکباد کے پیغامات یا پارٹی اعلانات پوسٹ کرنے کی اجازت ہے، لیکن وہ حساس مواد، خاص طور پر وزیراعلیٰ سے متعلق مواد، مقررہ سوشل میڈیا انچارج یا وزیراعلیٰ کے دفتر سے منظوری کے بغیر شائع کرنے کے مجاز نہیں ہیں۔
اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر تنقید
اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ کانگریس اور کل ہند مجلسِ اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے متنازع ویڈیو کے سلسلے میں پولیس میں شکایات درج کرائی ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) اور کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے کارروائی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
متنازع ویڈیو کے سلسلے میں بی جے پی کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کر لی گئی ہے۔ شرما کے مطابق، پولیس نے کانگریس کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات پر کارروائی کی، جبکہ ایک بی جے پی کارکن نے بھی الگ سے شکایت درج کرائی ہے۔
شرما کا ردعمل اور پارٹی کا موقف
اس تنازع پر ردِعمل دیتے ہوئے شرما نے بیان دیا کہ وہ اور ان کی پارٹی آسامی مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ”بنگلہ دیشی مسلمانوں“ یا مبینہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے خلاف ہیں، ہندوستانی شہریوں کے خلاف نہیں۔
بی جے پی کا کہنا ہے کہ وہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے بارے میں فکر مند ہے لیکن اس نے ایسی کسی بھی تجویز کو مسترد کر دیا کہ پارٹی مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی حمایت کرتی ہے۔