اسرائیلی حملوں اور محاصرہ کے سبب غذائی بحران شدت اختیار کرگیا، اقوام متحدہ نے غذائی امداد میں کمی کردی، ہر ماہ ہزاروں بچے علاج کیلئے اسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 1:33 PM IST | Agency | Gaza
اسرائیلی حملوں اور محاصرہ کے سبب غذائی بحران شدت اختیار کرگیا، اقوام متحدہ نے غذائی امداد میں کمی کردی، ہر ماہ ہزاروں بچے علاج کیلئے اسپتالوں میں داخل ہو رہے ہیں۔
غزہ میں اشیائے خورد و نوش کی قلت، قیمتوں میں اضافے اور انسانی امداد میں کمی کے باعث بچوں کیلئے غذائیت سے بھرپور خوراک کا انتظام کرنا خاندانوں کیلئے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ تجارتی سامان کی فراہمی متاثر ہونے سے پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار فلسطینی خاندانوں کی پریشانیاں مزید بڑھ گئی ہیں۔ ۳۰؍سالہ ہدیٰ ابو لیلیٰ کو کئی ماہ بعد اس ہفتے اپنی پانچ بیٹیوں کو ناشتے میں صرف چائے اور روٹی دینی پڑی۔ اسرائیل کی جانب سے رواں ماہ کے اوائل میں غزہ میں اشیائے ضروریہ کی آمد محدود کیے جانے کے بعد ان کیلئے بچوں کی متوازن غذا کا انتظام مزید مشکل ہوگیا ہے۔
اسرائیل کی تین سالہ جنگ اور اسکے ساتھ جاری ناکہ بندی کے دوران غزہ کی منڈیاں اکثر خالی رہتی ہیں اور دستیاب اشیا بھی لوگوں کی قوت خرید سے باہر ہو جاتی ہیں۔ ہدیٰ کی بیٹیوں کی عمریں ۱۸؍ماہ سے ۱۰؍سال کے درمیان ہیں۔ ہدیٰ نے کہاکہ ہم فوری طور پر اس صورت حال سے متاثر ہوئے۔ ہمیں انڈے اور دودھ نہیں مل سکے اور ہمارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہیں کہ خوراک ذخیرہ کرسکیں۔ وہ اپنی بیٹیوں کے ساتھ غزہ سٹی کے مغربی علاقے میں ایک خیمے میں رہتی ہیں۔ ان کے شوہر جنگ کے دوران زخمی ہو گئے تھے اور اب کام کرنے کے قابل نہیں ہیں جبکہ وہ دوسروں کے لیے روٹیاں بنا کر کچھ رقم کما لیتی ہیں۔
بعض دنوں میں ان کا خاندان ڈوکہ (مقامی مسالہ) یا زعتر کے ساتھ ڈبہ بند لوبیا کھاتا ہے لیکن جب خوراک کی دستیابی مزید کم ہوجاتی ہے تو انہیں چائے میں روٹی ڈبو کر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ اسرائیل نے ۱۴؍اکتوبر کو غزہ میں تجارتی سامان کی ترسیل روک دی تھی جس سے خوراک اور دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی متاثر ہوئی۔ یہ اقدام تاجروں سے محصور علاقے میں سامان لانے کیلئے فی ٹرک ۱۰؍ہزار شیکل (۳؍ہزار ۲۲۵؍ڈالر) ادا کرنے کے مطالبے پر پیدا تنازع کے دوران کیا گیا۔ ۱۹؍اکتوبر کو اسرائیل نے تجارتی سامان کی ترسیل بتدریج بحال کرنے کا اعلان کیا۔ اسرائیلی فوج کے ادارے کوگاٹ کے مطابق تاجروں نے اطلاع دی تھی کہ حماس نے یہ مطالبہ واپس لے لیا ہے تاہم حماس نے اس رقم کو جنگ سے متاثرہ افراد کی مدد کیلئے قائم فنڈ میں رضاکارانہ تعاون قرار دیا تھا۔
اہل غزہ کیلئے امداد میں بھی کمی
اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے ۱۹؍اکتوبر کو اعلان کیا کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث غزہ میں غذائی امداد کم کرنی پڑ رہی ہے۔ پروگرام کے تحت امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد ستمبر میں ۱۶؍لاکھ سے کم کرکے اکتوبر میں ۱۱؍لاکھ کر دی گئی ہے۔ غذائی راشن بھی نصف کر دیا گیا ہے اور اب خاندانوں کو دو کی بجائے ایک غذائی پیکٹ اور گندم کے آٹے کا ایک چھوٹا تھیلا دیا جا رہا ہے۔ تیار کھانوں کےپیکٹ بھی کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کر دئیے گئے ہیں۔