فرانس میں احتجاج پر عالمی لیڈران کے ناقابل قبول اور احمقانہ تبصروں پرفرانسیسی صدر ایمانویل میکرون برہم، ٹرمپ اور نیتن یاہو پر بالواسطہ تنقید کی۔
EPAPER
Updated: October 22, 2026, 1:30 PM IST | Agency | Doha
فرانس میں احتجاج پر عالمی لیڈران کے ناقابل قبول اور احمقانہ تبصروں پرفرانسیسی صدر ایمانویل میکرون برہم، ٹرمپ اور نیتن یاہو پر بالواسطہ تنقید کی۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے ملک میں جاری احتجاج کے حوالے سے غیر ملکی لیڈران کے تبصروں کو ناقابل قبول اور احمقانہ قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔ ان کے بیان کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو پر بالواسطہ حملہ سمجھا جارہا ہے۔
خلیجی ممالک کے دورے کے بعد دوحہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے میکرون نے کہا کہ فرانس میں احتجاج کے دوران بیرونی مداخلت کے کوئی واضح شواہد نہیں ہیں، تاہم بیرونی عناصر تشدد سے متعلق معلومات میں ہیرا پھیری کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا،میرے نزدیک پیش آنے والے واقعات میں بیرونی مداخلت کا کوئی واضح ثبوت نہیں ہے۔ تاہم، معلومات میں بیرونی سطح پر ہیرا پھیری کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں کئی لوگوں، بشمول غیر ملکی لیڈران، کی جانب سے ناقابل قبول اور احمقانہ تبصرے سامنے آئے ہیں۔ میکرون نے کہا کہ فرانس کو ایسے غیر ملکی لیڈران کی ضرورت نہیں ہے جو اس کے مسائل کو اپنی انتخابی مہم کے لیے استعمال کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض لیڈران نے اپنے اپنے ملکوں میں انتخابات سے قبل فسادات سے متعلق مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ مواد کو بھی، بعض اوقات بغیر تصدیق کے، دہرایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سوڈان میں بازار پر ڈرون حملے میں۱۵۳؍افرادہلاک
اگرچہ میکرون نے کسی لیڈر کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے تبصروں کا رخ ٹرمپ کی جانب معلوم ہوتا ہے، جن کی ریپبلکن پارٹی کو نومبر میں ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات کا سامنا ہے۔ اسی طرح ان کے بیان کو نیتن یاہو پر بھی تنقید سمجھا جارہا ہے، جن کے ملک میں اسی ماہ انتخابات ہونے والے ہیں۔
نیتن یاہو نے نیوز چینل آئی ۲۴؍ نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ فرانس کو انتہا پسند اسلام کے حملے کا سامنا ہے اور فرانسیسی لیڈروں پر الزام لگایا تھا کہ انہوں نے بدامنی سے نمٹنے کیلئے مناسب تیاری نہیں کی۔ انہوں نے تشدد کا ذمہ دار انتہا پسند مسلمانوں کو ٹھہرایا، حالانکہ پیرس سمیت فرانس کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاج میں متنوع گروپ شریک تھے۔
ٹرمپ نے کہا تھا’’فرانس میں بدامنی کی وجہ مسلمانوں کی نقل مکانی ہے‘‘
امریکی صدر ٹرمپ نے بھی بدامنی کے لیے مسلمانوں کی نقل مکانی کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر یورپ نے اپنی سرحدیں سخت نہ کیں اور ان کے بقول مجرموں کو باہر نہ نکالا تو اسے تباہی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔انہوں نے کہا، اگر یورپ اپنی سرحدیں بند نہیں کرتا اور احتجاج کرنے والوں جیسے مجرموں کو باہر نہیں نکالتا تو یورپ ختم ہوجائے گا۔ جب میں فرانس اور اٹلی کو دیکھتا ہوں اور وہاں کی بدامنی اور نفرت پر نظر ڈالتا ہوں تو یہ اسکولوں کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ ان لوگوں کا معاملہ ہے جو ان ملکوں میں آرہے ہیں اور ان ہی ملکوں سے نفرت کرتے ہیں۔