• Sun, 11 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زمین کے بدلے نوکری معاملے میں لالوپرساد یادو سمیت ۴۱؍پرفرد جرم

Updated: January 10, 2026, 9:19 AM IST | New Delhi

سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے ۵۲؍افراد کو بدعنوانی کے الزامات سے بری کردیا ہے،کہا کہ لالو خانوادہ نے مجرمانہ گروہ کی طرح کام کیا

File photo of RJD chief Lalu Prasad Yadav, his son Tejashwi Yadav and daughter Misa Bharti.
آرجے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو، ان کے فرزند تیجسوی یادو اور بیٹی میسا بھارتی کی فائل فوٹو

 زمین کے بدلے نوکری معاملے میں  آر جے ڈی سربراہ لالو پرساد یادو اور ان کے خانوادہ کیلئے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔دہلی کے راؤز ایونیور میں واقع سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے آرجے ڈی صدر اور سابق وزیرِ ریلوے لالو پرساد یادو،ان کی اہلیہ رابڑی دیوی،بیٹے تیج پرتاپ، تیجسوی یادو اور دو بیٹیوں میسا بھارتی اور ہیما کے ساتھ کل ملاکر۴۱؍ افراد پر فردِ جرم عائد کی۔ جبکہ ۵۲؍ ملزمین کو بری کر دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ریل وزارت میں چوتھے درجے کی نوکری کے بدلے زمین لینے کے مبینہ گھوٹالے سے متعلق ہے۔
 زمین کے بدلے نوکری گھوٹالہ کیس میں جمعہ کوخصوصی عدالت نے لالو یادو اور دیگر کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے احکامات جاری کیے۔ خصوصی جج وشال گوگنے نے کہا کہ لالو یادو اور ان کاکنبہ ایک مجرمانہ گروہ کی طرح کام کررہا تھا اوران کی طرف سے بڑے پیمانے پر سازش رچی گئی تھی۔ چارج شیٹ میں لالو یادو کے قریبی معاونین کو نوکریوں کے بدلے زمین کے حصول میں شریکِ سازش کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ لالو یادو اور ان کے خاندان کو بری کرنے کی دلیل درست نہیں ہے۔ اس بات کے مضبوط اشارے سامنے آئے ہیں کہ لالو یادو اور ان کے اہلِ خانہ سرکاری عہدے سے الگ ہو کر ایک مجرمانہ کاروبار کے طور پر یہ کام کر رہے تھے۔
 عدالت کے مطابق اس کیس میں سرکاری آئینی اختیارات اور صوابدید کا غلط استعمال ہوا ہے۔ عدالت نے۴۱؍ افراد کے خلاف الزامات طے کیے ہیں۔ ان کے خلاف انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کی دفعہ۱۳(۱) (ڈی) کے ساتھ دفعہ۱۳(۲) کے تحت مقدمہ چلے گا۔ اس کیس میں عدالت نے۵۲؍ ملزمین کو بری کرنے کا حکم سنایا، کیونکہ چارج شیٹ کے تحت ان کے خلاف ٹھوس شواہد سامنے نہیں آئے۔
 جج نے حکم سناتے ہوئے کہاکہ عدالت شک کی بنیاد پر یہ پاتی ہے کہ لالو پرساد یادو نے اپنے کنبہ (بیٹیاں،بیوی  اور بیٹوں)کے لیے غیر منقولہ جائیدادیں حاصل کرنے کے مقصد سے سرکاری نوکری کو سودے بازی کے ہتھیا رکے طور پر استعمال کرنے کی ایک وسیع سازش رچی تھی ۔ عدالت نے۵۲؍ ملزمین کو بری کرنے کا حکم دیا ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت۲۹؍ جنوری۲۰۲۶ء کو ہوگی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK