• Wed, 18 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکھلیش کا بی جے پی اور آرایس ایس پر حملہ، بدعنوانی کاالزام عائد کیا

Updated: February 18, 2026, 11:07 AM IST | Inquilab News Network | New Delhi

انہوں نے کہا کہ آرایس ایس ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم ہے جس نے آزادی سے پہلے یا بعد میں کبھی وندے ماترم نہیں گایا۔

Akhilesh Yadav.Photo:INN
اکھلیش یادو۔آئی این این
سماجوادی پارٹی کے قومی صدراکھلیش یادونے بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہاکہ آر ایس ایس ایک غیر رجسٹرڈ تنظیم ہے جس نے نہ آزادی سے پہلے اور نہ آزادی کے بعد کبھی’وندے ماترم‘ گایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت میں بدعنوانی اپنے عروج پر ہے اور عوام کی آواز کو دبایا جا رہا ہے۔
اکھلیش یادو نے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ’’مکھیہ منتری بشٹ جی کو یہ تک معلوم نہیں کہ ریاست میں کیا ہو رہا ہے؟ ان کے غیر رجسٹرڈ ساتھیوں نے کبھی وندے ماترم نہیں گایا۔ انہیں اپنے ان ساتھیوں سے پوچھنا چاہئے کہ آزادی سے پہلے انہوں نے وندے ماترم اور’سجلَم، سُفلَم‘ کیوں نہیں گایا۔‘‘ وکست بھارت۔گارنٹی فارروزگار اینڈ اجیویکا مشن (گرامین) اسکیم کے خلاف جاری مخالفت پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایس پی سربراہ نے کہا کہ جمہوریت میں عوام کو حکومت کی پالیسیوں کی مخالفت کرنے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن موجودہ حکومت آمریت کی راہ پر ہے جسے تنقید قطعی برداشت نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت نہ مخالفت دیکھ سکتی ہے، نہ ہی سن سکتی ہے، ہر موقع پر صرف اپنا راگ الاپتی رہتی ہے۔ اتنی جھوٹی حکومت آج تک نہیں دیکھی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس یوجنا میں اتر پردیش کا بجٹ کم کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہلی حکومت کو چاہئے کہ اتر پردیش کیلئے زیادہ بجٹ مختص کرے تاکہ ریاست میں روزگار کے مواقع بڑھ سکیں اور عوام کو فائدہ پہنچے۔
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ جل جیون مشن کے تحت بننے والی پانی کی ٹنکیاں ناقص تعمیر کی وجہ سے گر رہی ہیں۔ انہوں نے لکھیم پور اور آگرہ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آدھا پانی بھرنے پر بھی ٹنکیاں گر جا رہی ہیں کیونکہ تعمیر میں بدعنوانی ہوئی ہے۔انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اس حکومت میں بدعنوانی کی پائپ لائن مہوبا سے سیدھی لکھنؤ تک جا رہی ہے۔ سماجوادی  سربراہ نے محکمہ صحت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ریاست میں طبی سہولیات کی ابتر حالت لاپروائی اور کمیشن خوری کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ صحت کے وزیر کے پاس نام کی تختی کے علاوہ کوئی اختیار نہیں اور محکمہ میں ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔انہوں نے کہا کہ عوام بی جے پی حکومت کی بدعنوانیوں کو سمجھ چکے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ جب بی جے پی جائے گی تب ہی صحت اور نظام بہتر ہو پائے گا۔
 
 
انہوں نے الزام عائد کیا کہ۲۰۱۷ء کے بعد سے اتر پردیش میں امن و امان، روزگار، سماجی ہم آہنگی اور طرزِ حکمرانی میں نمایاں گراوٹ آئی ہے۔اپنے واٹس ایپ چینل پر جاری ایک تفصیلی پیغام میں انہوں نے بی جے پی حکومت پر الزام لگایا کہ ریاست میں جرائم، بے روزگاری اور سماجی بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں اتر پردیش جرائم اور بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے اور یہ ریاست اب انتشار کی حالت میں ہے۔
 
 
سابق وزیر اعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ جرائم پیشہ عناصر اور جبراً وصولی کے خوف نے ریاست کے بعض حصوں میں کرفیو جیسا ماحول پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ’’ پورے اتر پردیش میں غیر قانونی عناصر کا راج ہے اور لوگ سیکوریٹی پر سوال اٹھانا چھوڑ چکے ہیں کیونکہ بی جے پی حکومت سے کوئی توقع باقی نہیں رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ کمیشن خور ہی حکومت چلا رہے ہیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK