• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امتحان کے پہلے دن نقل کے ۴۲؍ کیس درج

Updated: February 12, 2026, 5:45 AM IST | Saadat Khan | Mumbai

امرائوتی ڈویژن میںسب سے زیادہ ۲۲؍ طلبہ کونقل کرتےہوئے پکڑا گیا،ممبئی، کولہاپور اور کوکن ڈویژن سےنقل کرنےکاایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا

Students outside an examination centre in Matunga.
ماٹونگا کے ایک امتحانی مرکز کے باہر طلبہ۔ ( تصویر، انقلاب:آشیش راجے)

مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ آف سیکنڈری  اینڈ ہائر سیکنڈری ایجوکیشن(ایم ایس بی ایس ایچ ایس ای) کی طرف سے منعقد ہونے والے بارہویں جماعت کے امتحان کے پہلےہی دن نقل کرنےکے ۴۲؍ معاملات سامنے آئےہیں جس سے اسٹیٹ بورڈ کے کاپی فری مہم کےدعوے کی قلعی کھل گئی ۔ ضلع انتظامیہ نے اس معاملے میں نہ صرف محکمانہ انکوائری شروع کر دی ہے بلکہ فوجداری مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔ممبئی ، کوکن اور کولہا پور ڈویژن میں کاپی کرنےکا ایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیاجبکہ دیگر ۶؍ڈویژن میں کاپی کے معاملات درج کئے گئے۔
 اسٹیٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق پیر کوہونےوالے انگریزی کےپہلے پرچے کےدوران نقل کرنےکے ۴۲؍ شکایات درج کی گئی ہیں۔ امرائوتی ڈویژن میںسب سے زیادہ ۲۲؍ طلبہ کونقل کرتےہوئے پکڑا گیاجبکہ پونے ڈویژن میں ۱۰؍طلبہ ،ناسک میں ۴، اورنگ آباد میں ۳، لاتور میں ۲؍ اور ناگپور میں ایک کیس درج کیاگیا۔ 
 ممبئی، کولہاپور اور کوکن ڈویژن سےنقل کرنےکاایک بھی معاملہ سامنے نہیں آیا جس سےاس بات کاپتہ چلتاہےکہ ان ڈویژنوںمیں سخت نگرانی میںامتحانات منعقدکئےگئے۔
 ریاستی بورڈ کے عہدیداروں نے کہا کہ ضلعی سطح کی چوکسی کمیٹیاں امتحانی مراکز کی نگرانی کر رہی ہیں اور ان سینٹروں کے خلاف سخت کارروائی کا انتباہ دیا گیا ہےجن پر نقل کرنےکامعاملہ سامنے آیاہے۔ان مراکزکو بورڈ امتحان کیلئے منسوخ بھی کیاجاسکتاہے۔
 ممبئی ڈویژن کےچیئرمین راجیندر آہیرے نے بتایاکہ ممبئی ڈویژن، جس میں ممبئی سٹی، مضافات، تھانے، پال گھر اور رائے گڑھ شامل ہیں، میں بارہویں امتحان کا پہلا دن نقل سے پاک رہا۔امتحانات وقت پر شروع ہوئے اور کوئی انتظامی مسئلہ بشمول سوالیہ اور جوابی پرچوں نہیںہوا۔
 واضح رہےکہ اسٹیٹ بورڈ نے ہرسال کی طرح امسال بھی نقل سے پاک امتحان کو یقینی بنانے کیلئے مختلف اقدامات کئے ہیں۔ تمام امتحانی مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے پر زور دیا گیالیکن ۱۷۲؍ امتحانی مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہیں کئے جاسکےجس کی وجہ سے ان امتحانی مراکز کے عملہ کو دوسرے امتحانی مراکز پر ڈیوٹی دی گئی ہے۔ اس کےباوجود ریاست میں بارہویں کے امتحان کے پہلے ہی دن نقل کرنےکےمعاملات سامنے آئے ہیں۔
 نقل سے سےمتعلق اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے سخت ردِعمل کااظہارکرتےہوئےکہاکہ’’ جو طلبہ سال بھر محنت کرتے ہیں، ان کے ساتھ کسی بھی صورت میں ناانصافی نہیں ہونی چاہئے۔ نقل کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے والوں کو فروغ دینا تعلیمی نظام کے ساتھ کھلواڑ ہے ۔ اس کیلئے جو بھی ذمہ دار ہے،اس کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی جرأت نہ کر سکے۔ علاوہ ازیں جن امتحانی مراکز پر نقل کے واقعات پیش آئےہیں، وہاں سخت پابندی عائد کی جائے اور متعلقہ مراکز کی منظوری منسوخ کرنے پر بھی غور کیا جائے۔‘‘انہوںنےیہ بھی کہاکہ ’’ریاست مہاراشٹر میں جاری بارہویں کے امتحانات کے دوران مختلف امتحانی مراکز پر نقل کرانے کے سنگین واقعات سامنے آ ئے ہیں۔ بعض مراکز پر سینٹر انچارج کی مبینہ سرپرستی میں اور کچھ بیرونی افراد کی مدد سے طلبہ کو نقل کرائی جا رہی ہے جس سے امتحانی نظام کی شفافیت متاثر ہو رہی ہے۔حکومت کی جانب سے’کاپی مُکت امتحان‘ (نقل سے پاک امتحان) کا اعلان کیا گیا تھا مگر حالیہ واقعات اس دعوے پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہے ہیں۔ متعدد مقامات پر پیش آئے ان واقعات نے محنتی اور دیانتدار طلبہ میں تشویش پیدا کر دی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK