وزیراعظم لوکورنو نے ایمرجنسی کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے صدر نے تشدد کو روکنے میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 1:48 PM IST | Agency | Paris
وزیراعظم لوکورنو نے ایمرجنسی کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے صدر نے تشدد کو روکنے میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
فرانس میں حکومت مخالف ملک گیر مظاہروں کے درمیان حکام نے پیرس، لِیل اور نیس سمیت کئی شہروں کے بعض علاقوں میں رات کا کرفیو نافذ کر دیا ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم سیباستیان لوکورنو نے گوکہ پیرس بھر میں کرفیو نافذ کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا، تاہم ایمرجنسی کے نفاذ کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ فی الحال مخصوص علاقوں میں جزوی اور مقامی سطح پر کرفیو لگانا زیادہ مناسب ہے۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’امن و امان بحال کرنے کیلئے میرا عزم غیر متزلزل ہے۔‘‘ واضح رہے کہ ۲؍ہزارسے زائد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
’’انتہائی بائیں باز کے گروہ بدامنی کے ذمہ دار‘‘
فرانس میں حکومت مخالف ملک گیر ا حتجاجی مظاہروں کے دوران ہنگاموں اور لوٹ مار کے واقعات کے نتیجے میں سیکوریٹی انتظامات کے حوالے سے حکام کو شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر پیرس، لِیل اور نیس سمیت کئی شہروں کے بعض علاقوں میں پیر کو رات کاکرفیو نافذ کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ میں اسرائیل کے حملے میں ۵؍ افراد جاں بحق
لوکورنو نے فرانس میں گزشتہ کئی برس کے بدترین بدامنی کے واقعات میں سے بعض کا ذمہ دار انتہائی بائیں بازو کے گروہوں کو ٹھہرایا۔ ان کے بقول ’’ملک میں انتہائی بائیں بازو کی ایک تحریک موجود ہے جو صدارتی انتخابات سے قبل ملک میں شدید بدامنی پھیلانا چاہتی ہے۔‘‘ اس پر انتہائی بائیں بازو کے صدارتی امیدوار ژاں لوک میلونشوں نے وزیراعظم سے اپنے الزام کے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہاکہ ’’انہیں معافی مانگنی چاہئے، خاموش رہنا چاہئے اور بدامنی کو ہوا دینا بند کرنا چاہئے۔‘‘
مظاہرے کیوں ہو رہے ہیں؟
سنیچر کے اختتام پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکلے اور مظاہروں میں شرکت کی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں عوامی خدمات کا معیار گرتا جا رہا ہے اور ان کا نظام غیر موثر ہو چکا ہے۔ مہنگائی اور معمول کے اخراجاتِ زندگی میں اضافے کے مسائل نے اٹلی، بیلجیئم اور البانیہ سمیت یورپ کے دیگر ممالک میں بھی ہفتے کے اختتام پر ہونے والے احتجاجی مظاہروں کو ہوا دی۔ تجار اور ریٹیل سیکٹر کی فیڈریشن کے مطابق سنیچر کے اختتام پر ہونے والے واقعات کے دوران تقریباً ۳؍ ہزار دکانیں متاثر ہوئیں۔فیڈریشن نے کہاکہ ’’ہر ایسی دکان کے پیچھے جسے توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا، کاروباری مالکان، ملازمین اور خاندان موجود ہیں، جن کی برسوں کی محنت اور کوششیں چند گھنٹوں میں تباہ ہو گئیں۔‘‘ تنظیم نے متاثرہ کاروباروں کیلئے سماجی تحفظ اور ٹیکسوں میں ریلیف دینے کا مطالبہ بھی کیا۔ دریں اثناء یورپی اور دیگر حکومتوں نے فرانس کا سفر کرنے والے اپنے شہریوں کو بڑے اجتماعات سے دور رہنے اور احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے سخت تنقید
انتہائی دائیں بازو کی جماعت نیشنل ریلی کے صدر جورڈن بارڈیلا نے تشدد کو روکنے میں ناکامی پر حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’حکومت ناکام ہو گئی ہے اور سربراہِ مملکت بھی فرانسیسی عوام کے تحفظ کی اپنی بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘انہوںنے مزیدکہا کہ ’’میں اب فرانس کے عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ احتجاج کے حق کے علاوہ اپنے حق رائے دہی کو بھی استعمال کریں۔‘‘ وہ انتہائی دائیں بازو کی رہنما میرین لے پین کے ساتھ انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں گزشتہ کئی ماہ سے لے پین کو آئندہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں سب سے آگے دکھایا جا رہا ہے۔