فرانسیسی استغاثہ نے ایم ای پی ریما حسن کے لیے معطلی اور قید کی سزا، کے ساتھ عہدے پر پابندی کا مطالبہ کیا، یہ مطالبہ ۱۹۷۲ء کے تل ابیب ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے کا حوالہ دینے والی حذف شدہ سوشل میڈیا پوسٹ کے لیےکیا گیا ۔
EPAPER
Updated: October 20, 2026, 10:03 PM IST | Paris
فرانسیسی استغاثہ نے ایم ای پی ریما حسن کے لیے معطلی اور قید کی سزا، کے ساتھ عہدے پر پابندی کا مطالبہ کیا، یہ مطالبہ ۱۹۷۲ء کے تل ابیب ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے کا حوالہ دینے والی حذف شدہ سوشل میڈیا پوسٹ کے لیےکیا گیا ۔
فرانسیسی براڈکاسٹر فرانس انفو نے رپورٹ کیا کہ استغاثہ نے منگل کو یورپی پارلیمنٹ کی رکن ریما حسن کے لیے۱۹۷۲ء میں تل ابیب ہوائی اڈے پر ہونے والے مہلک حملے کے مرتکب افراد میں سے ایک کا حوالہ دینے والی حذف شدہ سوشل میڈیا پوسٹ کے لیے۱۰؍ ماہ کی معطل قید کی سزا اور عوامی عہدہ رکھنے پر دو سالہ پابندی کا مطالبہ کیا ۔پراسیکیوشن نے دلیل دی کہ حسن کی پوسٹ دہشت گردی کی تعریف کے مترادف ہے، اور کہا کہ اس نے حملے کو معمولی بنایا اور اس کے مرتکب کی تعریف کی۔ مزید برآں پراسیکیوٹر دفتر نے حسن کے اس دعوے کو بھی مسترد کر دیا کہ یہ معاملہ سیاسی طور پر محرک ہے، مبینہ جرم کو واضح قرار دیا اور اس بات سے انکار کیا کہ کارروائی ان کے سیاسی خیالات کی وجہ سے لائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مراکش کی نئی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا
بعد ازاں بائیں بازو کی لا فرانس انسومیز پارٹی کی رکن حسن نے اس کیس کو انہیں ڈرانے دھمکانے اور ایک اپوزیشن قانون ساز کو خاموش کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ معاملہ امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر۲۶؍ مارچ کو شائع ہونے والی ایک پوسٹ سے متعلق ہے جسے بعد میں حذف کر دیا گیا تھا، جس میں حسن نے جاپانی ریڈ آرمی کے رکن کوزو اوکاموٹو کا حوالہ دیا تھا جس نے ۳۰؍ مئی۱۹۷۲ء کو تل ابیب کے قریب لود ہوائی اڈے پر حملے میں حصہ لیا تھا۔حملے میں۲۶؍ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔تاہم مقدمہ پیر کو پیرس میں شروع ہوا اور منگل کو جاری رہا۔ عدالت نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔