• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مراکش کی نئی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز قرار دیا

Updated: October 20, 2026, 5:34 PM IST | Mumbai

مراکش کی نئی وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کو خارجہ پالیسی کا مرکز حصہ قرار دیا ، فاطمہ الزہرا المنصوری نے پارلیمنٹ میں پروگرام پیش کرتے ہوئے بڑی معاشی اصلاحات کا بھی عہد کیا۔

Morocco’s Prime Minister Fatima-Zahra Mansouri. Photo: INN
مراکش کی وزیر اعظم فاطمہ الزہرا المنصوری۔ تصویر: آئی این این

مراکش کی وزیر اعظم فاطمہ الزہرا المنصوری نے پارلیمنٹ میں اپنی حکومت کا منصوبہ پیش کرتے ہوئے فلسطینی کاز کی حمایت کا عہد کیا اور دو ریاستی حل پر زور دیا۔واضح رہے کہ مراکش نے گزشتہ ہفتے اپنی نئی حکومت کی حلف برداری کی، جس کی قیادت اس کی اولین خاتون وزیر اعظم کر رہی ہیں، اور یہ تقریب شاہ محمد ششم کی صدارت میں ہوئی۔ محترمہ المنصوری نے کئی سابق وزراء کو ان کے عہدوں پر برقرار رکھا، جن میں وزیر خارجہ ناصر بوریطہ اور وزیر داخلہ عبدالوافی لفتیت شامل ہیں۔ محترمہ المنصوری کی پارٹی، جس نے۲۳؍ ستمبر کا انتخاب جیتا تھا، اور تین دیگر جماعتوں کے درمیان معاہدے کے بعد انتخاب میں ۲۰۷؍ پارلیمنٹ میں نشستیں حاصل کیں، جو اکثریت کے لیے درکار۱۹۸؍ سے زیادہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ سعودی عرب کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے‘‘

پیر کو، انہوں نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اراکین کے سامنے اپنی حکومت کا منصوبہ پیش کیا، جس میں بدعنوانی سے نمٹنے، سماجی فلاحی ریاست کو مضبوط بنانے، نوجوانوں کو معیشت میں ضم کرنے، خودمختاری کے تحفظ اور پیداواری معیشت کی تعمیر پر مرکوز پانچ سالہ ایجنڈے کا خاکہ پیش کیا۔علاوہ ازیں محترمہ المنصوری نے ’’فلسطینی کاز اور یروشلم پر مراکش کے دیرینہ موقف‘‘ پر زور دیا، ساتھ ہی ’’دو ریاستی حل پر مبنی پرامن تصفیے کی حمایت جس سے منصفانہ اور پائیدار امن یقینی ہو‘‘کا ذکر کیا۔جبکہ ستمبر میں، اسرائیل اور مراکش نے اپنے سفارتی تعلقات کو مکمل سفارت خانوں تک بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔
دریں اثناء محترمہ المنصوری نے صحارا خطے کے لیے مراکش کی خودمختاری کی تجویز کے لیے بین الاقوامی حمایت کو متحرک کرنےاور جنوبی صوبوں میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنےکا بھی وعدہ کیا تاکہ خطے کے افریقہ کے لیے مراکش کے گیٹ وےکی حیثیت کو مضبوط کیا جا سکے۔مزید برآں معیشت کے بارے میں، انہوں نے کہا کہ’’ ان کی حکومت کا ہدف۲۰۲۷ء سے۲۰۳۱ء تک اوسط سالانہ اقتصادی ترقی ۵؍ فیصد ہے، جو اس سال متوقع  ۴؍ اعشاریہ ۷؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ساتھ ہی ان کا مقصد مالی خسارے کو جی ڈی پی کے۳؍ فیصد سے کم رکھنا اور افراط زر کو۲؍ فیصد پر برقرار رکھنا ہے تاکہ قوت خرید اور استحکام کا تحفظ ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: روس اور خلیجی ممالک کا آبی راستوں کی حفاظت یقینی بنانے پر زور

مزید برآں حکومت ٹیکس کی بنیاد کو بڑھانے اور انکم ٹیکس میں اصلاحات، ضرورت مند گھرانوں کے لیے براہ راست سماجی امداد بڑھانے، خوراک کی قیمتوں میں کمی اور نجی سرمایہ کاری کو کل قومی سرمایہ کاری کے دو تہائی تک بڑھانے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی قرض۲۰۳۱؍ تک جی ڈی پی کے تقریباً۶۲؍ فیصد تک گر جائے گا۔ساتھ ہی سرکاری اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنانے اور ناجائز افزودگی اور مفادات کے ٹکراؤ کو جرم قرار دینے کے منصوبے ہیں۔ محترمہ المنصوری نے کہا، ’’ہم سمجھتے ہیں کہ بدعنوانی اور مفادات کے ٹکراؤ کے خلاف موثر جنگ کے بغیر ادارے عوام کا اعتماد دوبارہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘‘ تاہم حکومت کو بے روزگاری سے نمٹنے اور بہتر تعلیم و صحت کی خدمات کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔ یہ۲۰؍ ارب ڈالر کی لاگت سے۲۰۳۰؍ کے ورلڈ کپ کی تیاری کے آخری مراحل کی بھی نگرانی کرے گی، جس کی میزبانی مراکش پرتگال اور اسپین کے ساتھ مشترکہ طور پر کرے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK