Updated: October 22, 2026, 3:35 PM IST
| Paris
فرانس میں تعلیمی اصلاحات کے مطالبے سے شروع ہونے والے طلبہ کے احتجاج نے پُرتشدد رخ اختیار کرلیا ہے، جس کے بعد حکومت نے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ صورتِ حال کے پیشِ نظر ہندوستانی سفارتخانے نے شہریوں کو بڑے اجتماعات سے دور رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
پیرس میں ہندوستانی سفارتخانے نے بدھ کے روز ایک ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے فرانس میں پُرتشدد مظاہروں کے پیشِ نظر ہندوستانی شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت دی ہے۔ یورپ کے کئی ممالک میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سرکاری خدمات کے مبینہ طور پر بگڑتے معیار کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ واضح ہو کہ فرانس میں ستمبر کے وسط میں طلبہ کی قیادت میں شروع ہونے والے احتجاج کا مقصد تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ تھا، تاہم اب یہ مظاہرے وسیع پیمانے پر بدامنی میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ بعض مظاہروں کے دوران تشدد کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جن میں مظاہرین نے سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنایا، لگژری دکانوں اور سپر مارکیٹوں میں لوٹ مار کی اور پولیس کی گاڑیوں اور اہلکاروں پر حملے کیے۔
منگل کو فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیاں لیکورنو نے کہا کہ ملک کے بعض حصوں میں نئے کرفیو نافذ کیے جائیں گے۔ حکام نے یہ فیصلہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مظاہروں کے فسادات میں تبدیل ہونے کے بعد امن و امان بحال کرنے کی کوششوں کے تحت کیا ہے۔ لیکورنو کے مطابق، حکام مقامی میئرز کے ساتھ مل کر فیصلہ کریں گے کہ ان کے متعلقہ علاقوں میں کرفیو نافذ کرنا ضروری ہے یا نہیں۔ کرفیو اور بدامنی کے پیشِ نظر ہندوستانی سفارتخانے نے فرانس میں موجود ہندوستانی شہریوں کو چوکس رہنے، بڑے اجتماعات اور بھیڑ بھاڑ والی جگہوں سے دور رہنے اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں غذائی قلت کی صورتحال مزیدبدتر، قیمتوں میں اضافہ اور امداد میں کمی
ہندوستانی شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ مقامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے تازہ صورتِ حال سے باخبر رہیں اور عوامی نقل و حمل کی خدمات میں ممکنہ تعطل کے بارے میں معلومات حاصل کرتے رہیں۔ پیر کو اٹلی اور البانیہ میں ہندوستانی سفارتخانوں نے بھی اسی نوعیت کی ایڈوائزری جاری کی تھی۔ ان ممالک میں بھی پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے دوران احتجاج کے باعث امن و امان کی صورتِ حال متاثر ہوئی ہے۔