ایران-امریکہ کشیدگی میں اضافہ اورآبنائے ہرمزکو بند کئے جانےکی بنا پر جو قیمتیں کم اور مستحکم ہورہی تھیں وہ ایک بار پھر غیر مستحکم ہوسکتی ہیں۔
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
امریکہ اور ایران کے درمیان پھر کشیدگی اور آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کی خبروں نے ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے کے اندیشوں کو بڑھا دیا ہے جس کی وجہ سے قیمتوں میں اچھال آنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے۔ بڑی تیل کمپنیوں نے دونوں ملکوں کے درمیان پھر سے شروع ہوئی دشمنی سے دنیا بھر میں توانائی کی سپلائی کم ہونے اور ان کی قیمتوں میں اضافہ ہونے پر انتباہ جاری کیا ہے۔
جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد ہندوستان ایک بار پھر الرٹ ہو گیا ہے، کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمزکو بھی بند کر دیا ہے، جو دنیا کی تیل کی تجارت کے ایک بڑے حصے اور ہندوستان کی زیادہ تر ایل پی جی درآمدات کا اہم راستہ ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور خلیجی ممالک کی طرف سے فضائی دفاعی نظام فعال کئےجانے کے بعد نئی دہلی کو ایندھن کی قیمتوں، سمندری نقل و حمل اور خلیجی خطے میں مقیم لاکھوں ہندوستانی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے دوبارہ تشویش لاحق ہو گئی ہے۔
آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل کی تجارت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کی سب سے اہم توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتا ہے۔ اگرچہ ہندوستان نے خام تیل کیلئے مختلف ممالک سے سپلائی حاصل کرکے اس راستے پر اپنا انحصار کم کیا ہے، لیکن ایل پی جی اب بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہندوستان اپنی گھریلو ضرورت کا تقریباً۶۰؍فیصد ایل پی جی درآمد کرتا ہے، جس میں سے تاریخی طور پر تقریباً۹۰؍فیصد آبنائے ہرمز کے راستے آتی رہی ہے۔اگر یہ بندش برقرار رہی تو ماہرین کے مطابق سب سے پہلے گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
تیل کی عالمی منڈیوں نے بھی اس پر ردعمل دینا شروع کر دیا ہے۔۹؍جولائی کو امریکی حملوں کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت تیزی سے بڑھ کر تقریباً۷۹؍ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تھی جو اتوار ۱۲؍ جولائی کو بھی ۷۶؍ ڈالر فی بیرل ہے کیونکہ سپلائی متاثر ہونے کاخدشہ برقرار ہے۔